کاشتکاروں کے لئے استور میں‌دو روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد

استور(بیورورپورٹ) محکمہ ذراعت اور ایفاد کے تعاون سے دو روزہ کاشت کاروں کے لئے تربیتی ورکشاپ  ایک مقامی ہوٹل میں منعقد کیا گا.جس میں استور بھر سے کسانوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی. تربیتی ورکشاب سے ایگریکلچر آفیسر امتیاز احمد نے ٹماٹر ,آلو,شملہ مرچ ,سبزیوں اور پیاز کی کاشت کے جدید ترقی سکھائے اور استور میں کونسی فصل بہتر نشو نماء پاسکتی ہے تفصیلابتادیا.اور کہا کھاد کو موسم خزاں کے آخر میں کھیتوں کو دیں تاکہ اسے کھیتوں کی زرخیزی بڑھ جائے اورسرٹیفائڈ بیجوں کا نتخاب کریں. اس سال زیپور, رحمان پورہ سے چھہ ہزار بوری بیجوں والا آلو استور سے عالمی منڈیوں تک اجھی قیمتوں میں پہنچادیگے جس کے لئے زمینوں میں آلو کاشت کردیا ہے. ا موقع پر ایگریکلچر آفیر ایصار علم نے فصلوں اور درختوں کو بیماریوں اور کیڑوں سے فصلوں اور درختوں کو بچانے ک احتیاطی تدابیر بتادی. ان کا کہنا تھا کہ درختوں سے پتے گر جانے کے بعد درختوں کے تنوں پر چونا اور سلفر لگائے تاکہ جراثیم درختوں کے پتوں اور پھلوں تک نہ پہنچ سکے. خاص کر اخروٹ ,خوبانی اور سیب کی درختوں میں اور سپرے کم سے کم استعمال کریں. سپرے سے فائدہ مند جراثیم بھی مرجاتے ہیں . اس موقع پر محمد حسین کہا کہ یوریاں اور نائٹریٹس کا استعمال بہت کم کریں اور استعمال کے ایک ہفتے تک کوئی بھی سبزی اور فروٹ استعمال نہ کریں . استعمال سے جان بھی چلی جاسکتی ہے. دیسی کھاد کا استمال عام کریں اس سے فصلوں ,سبزیوں اور دختوں کو بہت فائدہ حاصل ہوگا. چکنی مٹی والی زمینوں میں فی کنال بیس کلو گرام چونا استعمال کرنے سے زمین کی زرخیزی بڑھ جاتی ہے.اور فصلوں سبزیوں او فروٹ کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے کے لئے محکمہ ذراعت کسانوں ک بھرپور مدد کریگا.
Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments