چترال کی خواتین میں خودکشی کا بڑھتا ہوا رحجان، لمحہ فکریہ

چترال(تجزیاتی رپورٹ: گل حماد فاروقی) چترال کی خواتین میں خودکشیوں کا بڑھتا ہوا رجحان ایک لمحہ فکریہ ہے جس سے علاقے کے لوگوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ تاہم ابھی تک کسی سرکاری یا غیر سرکاری ادارے نے اس کی وجہ جاننے یا اس کی روک تھام کیلئے کوئی حاطر خواہ قدم نہیں اٹھایا ہے۔ اگرچہ بعض غیر سرکاری اداروں جیسے شندور ویلفئیر سوسائیٹی نے اس بابت آگاہی کے حوالے سے سیمنار منعقد کئے مگر اس بڑھتی ہوئی شرح کو کم کرنے یا روکنے کیلئے ابھی تک کوئی عملی کام نہیں ہوا ہے۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق پچھلے پانچ سالوں میں تقریباً ڈیڑھ سو خواتین نے خودکشی کی ہے اور خودکشی زیادہ تر دریائے چترال میں چھلانگ لگاکر کی جاتی ہے۔

اس سلسلے میں ہمارے نمائندے نے تحقیقی کام شرو ع کیا مگر ہر قدم پر رکاوٹ اور ہر جگہہ مشکلات ہی کا سامنا کرنا پڑا۔ جن حاندان میں کوئی لڑکی خودکشی کرتی ہے ان کے اہل حانہ اس بابت بات کرنے سے گریز کرتے ہیں اور اس پر بولنا نہیں چاہتے۔ چونکہ چترال کا معاشرہ بھی Conservative ہیں اور یہاں خواتین یہ سجمھتے ہیں ان کو اس بارے میں آزادانہ بات کرنے پر کئی مشکلات کا سامنا پڑتا ہے اور وہ اس پر کھل کر بات نہیں کرنا چاہتی۔

چترال کے بالائی علاقے میں امسال بہت زیادہ خودکشیاں ہوئی۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق پچھلے سات مہینوں میں 24 خودکشیوں کے واقعات ہوچکے ہیں جن میں زیادہ تر خواتین ہیں۔

آمنہ نگار ایک ماہر تعلیم ہے جن کا تعلق بونی سے ہے اور ایک نجی ہائیر سیکنڈری سکول میں پرنسپل ہے۔ ان کے حیال میں چترال کے خواتین میں بڑھتی ہوئی خودکشیوں کی رحجانات میں کئی عوامل کارفرما ہیں ان کا کہنا ہے کہ میڈیا میں دیگر اضلاع کی لڑکیوں (خواتین) کو دکھایاجاتا ہیں جن کے پاس کافی وسائل ہوتے ہیں جبکہ چترال میں وہی وسائل دستیاب نہیں تو ہماری خواتین احساس کمتری کے شکار ہوتے ہیں۔ ہم اپنی بچوں کو بے جا آزادی بھی دیتے ہیں اور آزادی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان کی ہر خواہش پوری کی جاسکے۔ اور ہمارے وسائل کی کمی بھی اس کی بڑی وجہ ہوسکتی ہے۔ ہمارا معاشرہ بڑی تیزی سے تبدیل ہورہا ہے اور ترقی کررہا ہے مگر ہم اپنے بچوں کو وہ سہولیات اور وسائل نہیں دے سکتے جو باہر کے ممالک میں دستیاب ہیں۔

نازیہ کنول بھی ایک نجی سکول میں پڑھاتی ہے ان کا کہنا ہے ماں باپ اور بچوں کے درمیان دوستانہ ماحول بھی خودکشیوں میں کمی لاسکتا ہے اور بچوں کے مسائل کو سمجھنا اور ان کی ممکن حد تک جائز مطالبات اور خواہشوں کو بھی پورا کرنا چاہئے۔

معروف سماجی کارکن عنایت اللہ اسیر کا کہنا ہے تعلیم تو یہاں زیادہ آیا مگر تعلیم حاصل کرنے کے بعد اکثر خواتین گھروں میں بے روزگار بیٹھتی ہیں دوسرا ان کا کہنا ہے کہ پورے چترال میں کوئی سائکاٹرسٹ یعنی ماہر امراض دماغی ڈاکٹر نہیں ہے جو ایسے خواتین کا بروقت علاج کرسکے۔ دوسرا ان کا کہنا ہے کہ پورے چترال میں کوئی دار الامان نہیں ہے اگر ان کو محفوظ پناہ مل جائے تو وہ مایوسی کا شکار نہیں ہوں گے اور دریائے چترال میں چھلانگ لگانے کی بجائے وہ اس دارالامان یا محفوظ پناہ گاہ میں جاکر پناہ لیں گے۔

امریکہ یونیورسٹی کے معروف ماہر نباتات پروفیسر ڈاکٹر میری الزبتھ نے بھی ہمارے نمائندے سے حصوصی باتیں کرتے ہوئے بتایا کہ حالی ذہن شیطان کا گھر ہوتا ہے اور جو خواتین کسی نہ کسی روزگار میں مشعول ہو یا کسی ملازمت یا روزگار سے وابستہ ہو تو ان کو فضول سوچنے کا فرصت نہیں ملتا اور ایسے خواتین خودکشی بھی نہیں کرتی۔

پروفیسر ڈاکٹر الزبتھ نے مزید بتایا کہ چترال کے خواتین کو بھی ایسے مواقع فراہم کرناچاہئے تاکہ وہ اس میں مصروف رہے مثال کے طور پر وہ کچن گارڈن بنائے اور باغات لگانے، سبزی اگانے یا اپنے گھر کے اندر یا گھر کے آس پاس اگر وہ پودے ، درخت لگائے یا کوئی سبزی اگائے جس سے نہ صرف ان کے اوقات مفید سرگرمیوں میں صرف ہوں گے بلکہ ایسا کرنے سے ان کو کچھ آمدنی بھی آئے گی او ر ظاہر ہے جو خاتون کچھ کماکر لاتی ہے ان کا نہ صرف گھر کے اندر بلکہ ہر جگہہ عزت ہوتی ہے تو اگر چترال کے خواتین کو بھی ایسے مواقع فراہم کئے جائے تاکہ وہ بھی پودے ، سبزی لگانے میں مصروف رہے تو اس سے بھی خودکشیوں میں کافی حد تک کمی آسکتی ہے۔

بالائی چترال میں نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک شحص نے بتایا کہ اس کی جوان بیٹی نے صرف اس لئے خودکشی کرلی کہ اس کی منگیتر نے اسے آٹھ ماہ بعد بتایا کہ وہ اسے پسند نہیں کرتا اور وہ دوسری شادی کرنا چاہتا ہے۔ یہ سن کر میری بیٹی نے گلے میں پھندا ڈال کر خودکشی کرلی۔

اس سلسلے میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر منصور امان کا کہنا ہے کہ اس نے خودکشیوں کی شرح کم کرنے کیلئے تھانہ چترال میں باقاعدہ ویمن رپورٹنگ ڈیسک قائم کیا ہے جہاں ایک علیحدہ دفتر میں صرف خواتین کانسٹیبلان بیٹھ کر خواتین کی رپورٹ درج کرتی ہے تاکہ ایک عورت دوسرے عورت کو اپنا مسئلہ آسانی سے کھل کر بیان کرسکے۔

انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والے ایک اہلکار نے بتایا کہ چترال کے خواتین میں بڑھتی ہوئی خودکشیوں کی بہت سارے وجوہات ہوسکتے ہیں ان میں ایک وجہ چترال میں سائکاٹرسٹ کا نہ ہونا، محفوظ پناہ گاہ کی عدم دستیابی، وراثت میں بیٹی کو پورا حصہ نہ دینا ، کم عمری کی شادی اور چترال سے باہر کی شادی بھی ہوسکتی ہے کیونکہ چترال سے باہر جو شادی کی جاتی ہے اس کا احتتام یا طلاق ہوتی ہے یا پھر اس کی قتل۔

ایک پولیس افسر کا کہنا ہے کہ اس میں بعض پرسودہ رسومات بھی شامل ہیں مثال کے طور پر چترال کے لوگ شادی بیاہ کے وقت لڑکے والے سے خرچہ لیتے ہیں جو لاکھ سے ڈیڑھ یا دو لاکھ روپے تک ہوتا ہے اور یہ خرچہ نہ صرف باہر سے آنے والے دولہا سے لی جاتی ہے بلکہ چترال کے اندر اپنے رشتہ داروں سے بھی لی جاتی ہے اب یہ الگ سوال ہے کہ آیا یہ رسم صحیح ہے یا غلط، یہ اسلامی ہے یا غیر اسلامی مگر حقیقت یہ ہے کہ رسم اب بھی چلتا ہے جس میں لڑکی کا باپ جب دولہا سے پیسے لیتا ہے اور رحصتی کے بعد جب لڑکی پردیس میں اپنے شوہر کے گھر خوش نہ ہو تو وہ واپس آتی ہے جبکہ اس کی سسرال ان پیسوں کی واپسی کا تقاضا کرتے ہیں جسے لڑکی کا باپ اس کی شادی کے وقت گاؤں کے لوگوں کو کھانا دینے پر خرچ کئے ہوتا ہے اور اکثر غربت کی وجہ سے وہ اتنی بڑی رقم واپس نہیں کرسکتا تو اس وجہ سے بھی بعض لڑکیاں خودکشیاں کرتی ہیں۔

وجہ خواہ کچھ بھی ہو مگر چترال جیسے مثالی پر امن ضلع میں خواتین میں بڑھتی ہوئی خودکشیوں کی رحجان باعث تشویش ہے اور حکمرانوں کیلئے لمحہ فکریہ بھی۔ اس کیلئے صحیح معنوں میں تحقیق کرکے اس کی اصل وجوہات جاننا چاہئے اور اس کی روک تھام کیلئے عملی قدم اٹھانا چاہئے۔ نیز چترال کے ہر بڑے ہسپتال میں دماغی امراض کے ماہر ڈاکٹر کی تعیناتی اور سرکاری سطح پر ہر بڑے قصبہ میں دارالامان یعنی محفوظ پناہ گاہ بھی ہونا چاہئے تاکہ جو خواتین مایوسی کے شکار ہو وہ دریائے چترال میں چھلانگ لگانے کی بجائے ان محفوظ پناہ گاہوں کا رح کرے۔

Attachments area
Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments