گمبری یا شاٹی ڈے

 تحریر : شیر باز کلیم

گمبری یا شاٹی کی تاریخ قدیم تہذیب سے ملتی ہے۔ قدیم زمانے کے سلطنتوں اور بادشاہوں کے ورثہ کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات علم میں آتی ہے کہ اس کا تعلق جنگ اور شکارکے واقعات سے ہے۔

برٹش تہذیب میں شاہ یا ملکہ کے دستہ خاص کی ٹوپی میں رنگین پر لگائے جاتے ہیں اور وہاں کی تہذیب میں ایک محاورہ ہےFeather in my cap پس محاورے سے انگریزوں کی تہذیب میں پروں کے استعمال کا پتہ چلتا ہے۔ البتہ زیادہ نمائش 1500 صدی کے بعد ملتی ہے کہ جس میں باقاعدہ پروں کو نمائشی تہذیب کا حصہ بنائے جانے لگا۔اعلیٰ خاندانوں کی شادیوں میں بھی گمبری کی استعمال کی تاریخ ملتی ہے۔

تاریخی طور پر گمبری یا شاٹی کا استعمال مردوں کی روایتوں کا حصہ ہے اس کا تعلق Materialized Identityسے ہے اور عام لوگوں میں اس کا استعمال کسی کردار ،ہیرویا عظیم شخصیت کو نمایاں کرنے کے لیے ہوتا ہے گمبری کے استعمال میں انسانی تہذیب کے جذبات کے اظہار کا مخصوص انداز رہا ہے یہ صرف بادشاہوں کی نہیں بلکہ اہل اقتدار کے ہاں بھی اس کا استعمال نظر آتا ہے جہاں وہ اپنی قوت کا اظہار کرنے کے لیے اس کا استعمال کرتے تھے ۔

ہماری ثقافت میں چونکہ جنگ اور اور شکار دونوں مردانہ ثقافت کا حصہ رہے اس لیے دونوں کو ملا کرغور کریں تو علاقے کے سپوتوں کی قدیم تہذیب کا حصہ تلوار، نیزہ ،تیر وکمان اور گمبری تقریبأ ساتھ ساتھ چلتے رہے ہیں علاقے کا گھبرو نو جوان جب محاز جنگ سے واپس آتا تو فاتح کی حیثیت سے اپنی مخصوص دھن ’’بوتے حریپ‘‘پر ناچننے کے لیے محفل میں آجاتا تو اس موقع پر گمبری اس کی ٹوپی کا نمایاں حصہ ہوتا ۔

چونکہ گمبری ہنزہ میں شہزادوں، بہادروں اور علاقے میں اعلیٰ اخلاقی اور جنگی ریکارڈ رکھنے والوں کی تہذیب کا حصہ رہی ہے اس لیے آج بھی اس کی تعظیم کی جاتی ہے اب فی زمانہ گمبری تہذیب بھی ہے اور فیشن بھی ہے ۔ آج کل شادی کے موقعہ پر دولہا ، اس کے رشتہ دار اور ننھے بچے تک جو رویتی ٹوپی استعمال کرتے ہیں گمبری پہن کر اپنی خوشی اور جذبات کا اظہار گمبری پہن کر کرتے ہیں۔چنانچہ گمبری سے ہماری ثقافتی وابستگی نہ صرف معاشرتی اور تہذیبی ہے بلکہ ہماری ماضی ، ہمارے ہیروز اور ہمارے اعظیم آباو اجداد کے ورثے سے بے لوث محبت کا بین ثبوت بھی ہے

شاٹی ڈے کے موقعے پر میزبادن ادروں کی طرف سے اور عوامی حلقوں کی جانب سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمٰن اور گلگت بلتستان انتظامیہ کو داد تحسین پیش کیا جاتا ہے کہ انہوں نے پورے صوبے میں شانٹی ڈے کو کلینڈر ایونٹ کا درجہ دے کر ہماری تہذیب کو جدید دور میں ایک مضبوط بنیاداور سوچ مہیا کی ہے اور ہمیں اپنی اعظیم ورثے کی حفاظت کے لیے بار دیگر سوچنے اور عمل کرنے پر آمادہ کیا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments