بدعنوانی کے خاتمے کے لئے نوجوانوں‌کی ذہن سازی ناگزیر ہے، مقررین

گلگت( سٹاف رپورٹر) معاشرے میں کرپشن کے خاتمے میں سول سوسایٹی کا کردارکے حوالے سے قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی گلگت میں طلباو طالبات کے لئے ایک سیمنار منقعدہوا۔سیمنار کے مہمان خصوصی وائس چانسلرقراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی ڈاکٹر خلیل احمد تھے۔ اس موقع پر ڈائریکٹر نعمان اسلم بھی تقریب میں شریک تھے۔قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی میں منقعدہ اس سیمنار میں مقررین نے کرپشن کے خاتمے میں یوتھ کا کردار کو اہم قرار دیا۔ مقررین نے کہا کہ یہ طلبا وطالبات ہمارے مستقبل کے معمار ہیں۔ ان کو آج کرپشن کے خاتمے میں شعور وآگاہی دی جائے تو کل ہمارے مستقبل روشن ہو گا۔ وائس چانسلر قراقرم انٹرنیشنل یو ینورسٹی نے کہا کہ سول سوسایٹی کو کرپشن کے سدباب اور روک تھام میں اس طرح کے شعور وآگاہی مہم اہم کردار ادا کر ئیگا۔ نیب اور قراقرم انٹرینشنل یونیورسٹی کے مشترکہ تعاون سے سٹوڈ نٹس کا کریکٹر بلڈنگ سوسایٹی بنایا ہے یہ کمیٹی یونیورسٹی میں طلباء وطالبات کو کرپشن کے خاتمے کے حوالے سے آگاہی دیتا ہے کہ کرپشن کو کیسے جڑ سے اْتا ر کر پھینکا جائے۔ یہ کمیٹی نیب کے ساتھ مل کر مختلف سیمنار کا انعقاد کرتی ہے۔ جو کہ وقت کی ضرورت بھی ہے۔

ڈائریکٹر نیب نعمان اسلم نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صرف ادارے کرپشن کے خلاف جنگ نہیں لڑ سکتے ہیں۔اس میں سول سوسایٹی کی سپورٹ کی بہت ضرورت ہے۔سول سوسایٹی کا رول فرد تہنا بھی ہے اور مشترکہ روال بھی ہے۔اس میں ایک اہم رول میڈیا کا بھی ہے۔ میڈیا کا روال شعور وآگاہی اور سول سوسایٹی کی آواز بھی ہے۔

تقریب سے علاقے کے نامور محقق اور دانشور عزیز علی داد اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔

ڈائریکٹر نیب نعمان اسلم نے تقریب کے بعد پامیر ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس سال ہم نے تیں کیسز کورٹ میں مختلف محکموں میں کرپٹ افراد کے خلاف جمع کیا ہے۔ اس کے علاوہ کچھ پرانے کیسز بھی زیر سماعت ہے اور کچھ کیسز مکمل بھی کیا گیا ہے۔اب ان مکمل کیسز ریفرنس فائل کیا جائے گا۔مذید انکوائری کیا جارہا ہے۔ گلگت بلتستان میں کرپشن کے کیسز بہت تعداد میں ہے اور یہاں موجود نفری افرادی قوت سے زیادہ کام کر رہے ہیں اور یہ سلسلہ جاری رکھے گا۔ اْنہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں کرپشن کے کیسز مختلف لیول کے ہو تے ہیں۔ پہلے وریفکیشن بھی کرتے ہیں ان کیسز کے معتلق انکوائری ہو تی ہے اور ان کے خلاف تحقیقات ہو تی ہے۔ اور آخری میں ان کیسز کے خلاف کورٹ میں چلان جمع کرتے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments