گلگت بلتستان کے عوام کی خواہشات، غالب اور جرگہ

تحریر: فداحسین

 ہم ٹیکس دینے سے ہرگز انکاری نہیں ہیں مگر شرط یہ ہے کہ ٹیکس صرف گلگت بلتستان میں خرچ کیا جائے۔ یہ الفاظ تھے عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنما اور بلتستان کے ایک ممتاز سیاسی شخصیت آغا سید علی رضوی صاحب کے۔ ان کے یہ الفاظ راولپنڈی آرٹس کونسل کے بڑے ہال میں داخل ہوتے ہوئے سنائی دیے،  جہاں گلگت بلتستان کے نوجوانوں نے اپنی خواہشات کے اظہار کے لئے ایک سمینار کا اہتمام کیا تھا۔

اس ہال میں تل دھرنے کو جگہ نہیںتھی۔ جس وقت ہم پہنچے اکثر لوگوں کا خطاب ختم ہو نے کے باوجود بھی تقریب میں کشش باقی تھی، کیونکہ ابھی سلیم صافی اور گلگت بلتستان کے نامور سپوت سابق آئی جی سندھ افضل علی شگری کا خطاب باقی تھا۔

افضل شگری صاحب نے دفتر خارجہ میں اعلیٰ عہدوں پر فائز شخصیات کا حوالہ دے کر کہا کہ حکومت پاکستان محض بھارت کے خوف سے گلگت بلتستان کو پاکستان کا صوبہ بنانے سے گریز کر رہی ہے ورنہ اس سلسلے میں کوئی بھی امر مانع نہیں ہے۔ اس سے پہلے سلیم صافی نے اپنے خطاب میں کہا کہ گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کے تعین کے لئے قائم ہونے والی کمیٹی کی رپورٹ کو منظر عام پر لانا چاہیے کیونکہ اس سے مکمل طور پر منظور کرنے یا اس میں ترمیم کرنے اور یا مکمل طور پر مسترد کرنے کا اختیار گلگت بلتستان کے عوام کا ہے ۔اس کے بعدسلیم صافی کے ٹیلی ویژن پروگرام جرگے کی ریکارنگ کے لئے نوجوان موجود رہے کیونکہ پروگرام کے میز بان نے نوجوانوں کو روکنے کی درخواست کی تھی ان کی طرف سے سوال تھا کہ گلگت بلتستان کے لوگ کیا چاہتے ہیں تو کسی نے مکمل صوبہ بنانے کی بات کی تو کسی نے آزاد کشمیر طرز کے سیٹ اپ کی ۔ اس پر سلیم صافی نے حکومت کی طرف سے پیش کیا جانے والا عذر کو دہراتے ہوئے کہا کہ ابھی تک گلگت بلتستان کے لوگ کسی ایک نکتے پر متفق نہیں ہیں ۔ جب اس سوال کا جواب دینے کی باری عوامی ایکشن کمیٹی کے چیرمین مولانا سلطان رائیس کو ملی تو انہوں نے نہایت ہی خوبصورت طریقے سے اس کا جواب یوں دیا یہ سوال اس وقت پوچھنا چاہے تھا جس وقت گلگت بلتستان لوگوں کی قسمت کا فیصلہ کیا جا رہا تھا اب یہ سوال عوام سے نہیں بلکہ ریاست پاکستان سے پوچھنا چاہیے اب بال ریاست کے کورٹ میں ہے جب گفتگو مزید آگے بڑھی تو افصل شگری نے کہاکہ سرتاج عزیز کمیٹی نے تو مکمل صوبہ بنانے کی حمایت کی ہے مگر حکومت اس پر عمل در آمد کرنا نہیں چاہتی اسی وجہ سے اس رپورٹ کو ہی حکومت چھپا رہی ہے جس پر انہوں نے تشویش کا اظہار کیااس حوالے سے وزیر اعلیٰ کے میڈیا کوارڈینٹر رشید ارشاد نے دفاع کرنے کی کوشش ضرور کی مگر انہیں مگر وہاں پر موجود لوگوں نے جواب مسترد کر کے سبکی سے دوچار کر دیا ۔حالانکہ چند ماہ پہلے گلگت بلتستان کے سینئر صوبائی وزیر حاجی اکبر تابان صاحب اس رپورٹ کو منظر عام نہ لانے پر تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔ افضل شگری نے مزید کہا کہ اگر اس سے مسئلہ کشمیر کو کسی قسم کا نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے تو گلگت بلتستان کو عارضی صوبہ بنا دیاجائے۔ افضل شگری کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے مولانا سلطان رائیس نے کہا اگر حکومت کو صوبہ کے نام سے چیڑ ہے تو حکومت خارجہ پالیسی ، دفاع اور کرنسی کے علاوہ باقی تما م امور پر گلگت بلتستان کومکمل خود مختاری دی جائے اس کو جو بھی نام دیا جائے گلگت بلتستان کے لوگوں کو قابل قبول ہو گا۔ گلگت بلتستان کے مستقبل کے حوالے سے نوجوان میں پائے جانے والی اختلاف رائے کے حوالے سے جو بات ہم کہنے چاہ رہے تھے وہ یہ تھی کہ اختلاف وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑھتا جاتا ہے ہمیں خدشہ ہے کہ مستقبل میں نوجواں کہیں گے بھائی خدا حافظ آپ کے ساتھ ہم نے بہت اچھا وقت گزرا مزید ہم آپ کے ساتھ نہیں چل سکتے کیونکہ اتنے طویل عرصے سے ہمارا مطالبہ آپ کو نہیں بھارہا ہے اب ہم مزید گومگر کی کفیت میں نہیں رہ سکتے جس کی ایک جھلک سمینار میں پیش کئے گئے خاکہ نگاری میں بھی دیکھنے کوملا۔ یقینا خاکہ نگاری میں تصویر کا جو رخ دکھانے کی کوشش کی گئی وہ ملک  کے مقتدر حلقوں کے لئے خوشگوار نہیں تھی کیونکہ جس ادارے کے بارے میں خوف دکھا یا گیا وہ پہلی بار بھی نہیں ہوا ہے یہ صورتحال انسانی حقوق کی معروف کارکن مرحومہ عاصمہ جہانگیر صاحبہ نے بھی 2017میں گلگت بلتستان کا دورہ کرنے بعد اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہی تھی۔ لہذا گلگت بلتستان لوگوں کو خوف کے فضا سے باہر نکالنے کے ضروری ہے انہیں مشکوک نظر دیکھنے سے گریز کیا جاے بلکہ انہیں اگر کہیں کوئی شکایت ہو فوری ازلے کا بھی بندوبست ہو ،ہمارے ایک دوست کہ رہا تھا کہ اس کوشناختی کارڈپر اسلام آباد کا عارضی پتہ درج ہونے کی وجہ سے غیر مقامی فوجی اہلکار نے اسے دم سم سے آگے جانے سے روکا ۔ اگرچہ ہمیں یہ بھی یقین ہے کہ اعلیٰ افیسروںکی طرف سے ہرگز کوئی ایسا حکم نہیں ہو گا بلکہ یہ عین ممکن ہے اس طرح کی حرکت کرنے والا فوجی اہلکار ہی جاسوس ہو جس کا مقصد مقامی لوگوں میں اپنے فوجی جوانوں کے حوالے سے بد اعتمادی پیدا کرنا ہواس لئے اس طرح  کے سرحد علاقوں میں کوئی شکایت سیل بھی قائم کرنا چاہے جہاں پر اس قسم کے شکایت کی صورت میں فوری کاروائی عمل میں لائی جاسکے ۔سلیم صافی کی طرف سے با ر بار گلگت بلتستان کے لوگوں کی خوہشات پوچھنے پر جناب غالب صاحب کا شعر

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پے دم نکلے

 ،بہت نکلے میرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے

  یاد آئے بغیر نہیں رہ سکا کیونکہ گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کی طرف سے تین دفعہ پاکستان کا باضابطہ پانچواں صوبہ بنانے کے لئے قرار داد منظور ہونے کے باوجود بھی گلگت بلتستان کے لوگوں کو ان کے حقوق دینے بجائے کہا جا رہا ہے کہ گلگت بلتستان کے لوگوں کے لوگوں ابھی اتفاق رائے نہیں پائی جاتی ۔حالانکہ گلگت بلتستان میں تمام  سرکاری اور پرائیوٹ تعلیمی اداروں میں پاکستان کا سبز ہلالی پرچم لہرایا اور پاکستان کا ترانہ پڑھا جاتا ہے اور ابھی بھی گلگت بلتستان کے لوگ ملک کے لئے قربان ہونے کو اپنے لئے باعث سعادت سمجھتے ہیں اس کی مثال دیتے ہوئے افضل شگری نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایک دفعہ جب گلگت بلتستان میں قبرستان گئے تو وہاں بہت سارئے قبروں پرپاکستان کے جھنڈے لہرا رہے تھے اس حوالے سے انہیں بتایا گیا کہ یہ قبریں پاکستان پر اپنی جانوں کا نذانہ پیش کرنے والوں کی ہیں یہ کہتے ہوئے وہ آبدیدہ ہوئے گئے ۔ گلگت بلتستان لوگوں کی خواہش اور مطالبہ یہی ہے کہ پورا گلگت بلتستان وہاں پر باسیوں کا ہے انہیں اپنے قسمت کا فیصلہ کرنے کا مکمل اختیار ہے اس اختیار کی بنیاد وہ پاکستان باضابطہ صوبہ بنانے کا مطالبہ کرتے ہیں یقینا حکومت پاکستان کو وہاں کے عوام کی ان خواہشات کا احترام کرتے ہوئے کوئی حل ضرور دینا چاہے کہ جس سے ان کے حق حکمرانی کو ٹھیس نہ پہنچے اور ان کی قربانیوں کی قدر کرتے ہوئے قومی دھاے میں شامل کرنا چاہے اگر واقعی اس سے مسئلہ کشمیر پر منفی اثر مرتب ہو سکتا ہے تو گلگت بلتستان میں سٹیٹ سبجٹ رول بحال کرنے یا اس طرز کی قانون سازی کے ذریعے وہاں غیر مقامی افراد کو جائدادیں بنانے سے روکنا اور سرتاج عزیز کمیٹی کی رپورٹ کو منظر عام پر گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی میں بحث کرانا ضروری ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments