جدید دور کی پسماندہ بستی بشال

تحریر:فیض اللہ فراق

چلاس شہرسے درجنوں کلومیٹر دور وادی داریل کی بستی بشال گزشتہ کئی عشروں سے بنیادی انسانی حقوق سے محروم کسی مسیحا کی منتظر ہے، 75 گھرانوں کی یہ بستی جب سے کرہ ارض پر وجود میں آئی ہے تب سے زندگی کی رمق سے کوسوں دور ہے، یہ بستی اپنوں اور دوسروں کی مشترکہ ظلم سہتی ہے. اس بستی کے مکین معلوم نہیں کس جرم کی پاداش میں تعلیم و صحت کی عدم فراہمی کے شکار ہیں، ہر دور کی حکومتوں اور داریل کی مقامی قیادت نے بھی آج تک اس بستی کے مکینوں کے مسائل حل کرنے کی بجائے ان کے زخموں پر نمک پاشی ہی کرتے رہے ہیں،ویسے تو ضلع دیامر کی تمام وادیاں زندگی کی جدید لذتوں سے نا آشنا ہیں لیکن “بشال ” نامی بستی آج کے اس دور میں پسماندگی کی عملی تفسیر ہے، اس بستی میں 1970 کی دہائی میں ایک پرائمری سکول بنا تھا اور کئی عشرے بیتنے کے بعد وہ سکول آج بھی پرائمری ہے،سکول کی عمارت کی ایک ایک اینٹ اس بات کی گواہی دینے کو تیار ہے کہ اس کا کوئی پرسان حال نہیں، پانچویں کلاس کے بعد اس بستی کے مکینوں پر تعلیم کا دروازہ بند ہے، پرائمری سے آگے یہاں تعلیم حاصل کرنے کیلئے کسی بھی قسم کی سہولت میسر نہیں یہی وجہ ہے جب سے کرہ ارض پر اس بستی نے اپنا وجود قائم کیا ہے تب سے اس بستی کے صرف ایک ہی جوان میٹرک پاس ہے وہ بھی باہر جا کر کہیں سے میٹرک پاس کیا ہے ورنہ ہزاروں کی آبادی پر مشتمل اس بستی کا اور کوئی ایسا جوان موجود نہیں جس نے میٹرک پاس کیا ہو،حیرت انگیز پہلو یہ بھی ہے کہ اتنی بڑی بستی کا صرف ایک ہی جوان سرکار ملازم ہے اور باقی ساری بستی سرکاری لذتوں سے بھی محروم ہے،پورے علاقے میں ایک ہی ڈسپنسری ہے وہ بھی تمام تر سہولیات سے عاری ہے، نہ ڈاکٹر نہ کوئی ٹیکنیکل سٹاف صرف عمارت ہے جس میں گاہے بہ گاہے محکمہ صحت یا پی پی ایچ آئی کا کوئی غیر مستقل سٹاف وہاں جاتا ہے،پرائمری سکول کیلئے تین اساتذہ تعینات ہیں ان میں سے بھی صرف ایک ہی ٹیچر ڈیوٹی پر حاضر ہے باقی دونوں غائب ہیں، انسانوں کی اس بستی کے بڑھتے ہوئے مسائل کے آخر ذمہ دار کون ہیں؟ ریاست ماں ہوتی ہے اور ہر شہری کو اولاد کی طرح پالتی ہے لیکن ریاستی نظام میں جمہوری طریقے سے کچھ ممبران کا انتخاب ہوتا ہے اور ریاست انہی ممبران کیلئے ہر سال ترقیاتی فنڈز مختص کرتی ہے تاکہ وہ اپنے علاقے میں تعمیر و ترقی پر مبنی منصوبوں کے ذریعے عوام کی طرز زندگی بدلیں لیکن یہاں پر یہ معاملہ دونوں اطراف سے الٹا ہے عوام بھی قومیت’ علاقائیت اور پیسوں کے عوض اپنے ضمیر کا سودا کرتی ہے پھر یہ ممبران اپنے لئے مال کمانے کے چکروں میں عوامی مسائل سے بیگانہ رہتے ہیں،داریل کی بستی “بشال” کے مسائل کا ذمہ دار بستی کے مکین اور ممبران ہیں جو ان کے ووٹ سے منتخب ہوتے ہیں،یہ تو ایک بشال ہے معلوم نہیں کتنی اور علاقے بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں جن کا کوئی بھی پوچھنے والا نہیں ہے،وزیر اعلی گلگت بلتستان اور چیف سیکرٹری گلگت بلتستان کو چاہئے کہ وہ اس بستی کے مسائل پر سختی سے نوٹس لیتے ہوئے بنیادی انسانی حقوق سے محروم مکینوں پر رحم والا معاملہ کریں،حکومتوں اور سیاسی نمائندوں کی جانب سے ان علاقوں کو نظر انداز کرنے سے ایک خلا پیدا ہوتا ہے اور سماجی ساخت بری طرح متاثر ہوتی ہے،ایسے علاقوں کے نوجوان نہ چاہتے ہوئے بھی منفی رستوں کا انتخاب کر بیٹھتے ہیں پھر ہم لوگ انہیں دہشتگرد اور جاہل جیسے القابات سے پکارتے ہیں حالانکہ حقائق ایسے نہیں ہیں۔ یہ تو صرف ایک بستی کی داستان ہے لیکن گلگت بلتستان کے وہ تمام دور دراز علاقے جو حکومتی عدم توجہی کا شکار ہیں وہاں حکومت اور عوام کی اشتراک سے عوام کے بہتر حال اور مستقبل کیلئے کام کی ضرورت ہے، صحت اور تعلیم وہ دو بنیادی ضرورتیں ہیں جن کو پورا کرنا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے، رقبے میں پھیلا ہوا مگر آبادی کے اعتبار سے انتہائی قلیل گلگت بلتستان کے مسائل کو کم کرنے میں اتنی دشواری نہیں جتنی دشواری دیگر صوبوں میں ہے کیونکہ ہمارا پورا صوبہ 15 لاکھ آبادی والا ہے جبکہ ملک کا سب سے کم آبادی والے ضلع کی آبادی 25 لاکھ سے زائد ہے اسی حساب سے گلگت بلتستان کے دس یونٹس میں تعینات تمام شعبہ جات میں ہزاروں آبادی کیلئے ایک ایک افسر تعینات ہے جبکہ ملک کے دیگر صوبوں کے لاکھوں آبادی پر مشتمل اضلاع کیلئے ہر شعبے کا صرف ایک افسر تعینات ہوتا ہے مگر اس کے باوجود بھی گلگت بلتستان میں بشال جیسی پسماندہ بستیوں کا وجود لمحہ فکریہ ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments