گلگت بلتستان میں سیاحت اور حکومت کاکردار

تحریر:۔دردانہ شیر

گلگت بلتستان وہ خطہ ہے جہاں کے عوام کو قدرت کے بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے یہاں کے پہاڑ سرسبز وشاداب چراگاہیں اور یہاں کے صاف وشفاف پانی اور خصوصا یہاں کا موسم جو سال میں چار موسم اپنے ساتھ قدرت کی بے شمار خوبصورتی کو لے کر آتے ہیں اس وقت ملک کے دیگر علاقوں میں گرمی کی لہر اپنی جوبن پر ہے جبکہ گلگت بلتستان میں درجہ حرارت بیس اور پچیس کے درمیان ہے اور اﷲپاک کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اب تک غذر سمیت گلگت بلتستان کے بالائی علاقوں میں پنکھا کا استعمال شروع نہیں ہواملک میں موسم گرما کی آمد کے ساتھ ہی چاروں صوبوں کے کونے کونے سے ہزاروں کی تعداد میں سیاحوں نے گلگت بلتستان کا رخ کر دیا ہے اور یہاں کی پرُ فضا مقامات پر ڈیرے ڈال دئیے ہیں پہلے سیاح مری کا رخ کرتے تھے مگر مری میں لوگوں کی سیاحوں کے ساتھ بدتمیزی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر ہزاروں کی تعداد میں سیاح اس جنت نظیرخطہ کی طرف آرہے ہیں اور یہاں کے عوام کی اخلاق اور مہمان نوازی سے بے حد متاثر ہوتے ہیںیہاں آنے والے سیاحوں کو اگر کوئی شکایت ہے تو وہ گلگت بلتستان کی خستہ حال سڑکیں ہیں جن پر سفر کے دوران ان سیاحوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرناپڑ رہا ہے حالانکہ پاکستان میں جب مسلم لیگ (ن) کی حکومت برسر اقتدار آئی تو گلگت بلتستان کے عوام بھی یہ توقع لگا بیٹھے تھے کہ اب پنجاب اور ملک کے دیگر صوبوں کی طرح گلگت بلتستان میں بھی شاہراہوں کا جال بچھایا جائیگا مسلم لیگ کی حکومت کے پانچ سال وفاق میں پورے ہونے کو ہے اور چند دن بعد نگراں حکومت آئی گئی مگر دیکھا جائے تو گلگت بلتستان میں سوائے سکردو کے کسی اور شاہراہ کی تعمیر کا کام کا آغاز نہیں ہوا ہومسلم لیگ کی وفاقی حکومت نے گلگت بلتستان کی تعمیر وترقی کے لئے عملی طور پر کوئی ایسا اقدام نہیں اٹھایا جس کی تعریف کی جائے دفاعی لحاظ سے اہمیت کا حامل سکردو روڈ کی تعمیر کا آغاز کر دیا گیا ہے مگر اس اہم شاہراہ کی تعمیر کا کام بھی سست روی کا شکار ہے اس اہم سڑک کی تعمیر پر مزید تیزی لانے کی ضرورت ہے جبکہ سابق وزیر اعظم میاں نواز شیریف نے گلگت بلتستان کی اہم شاہراہوں کی تعمیر کا اعلان کیا تھا مگر ان کی حکومت کے پانچ سال پورے ہوئے گلگت بلتستان کی ایک بھی اہم شاہراہ پایہ تکمیل کو نہیں پہنچی موجودہ صوبائی حکومت نے بھی عوام کو بڑے سبز باغ دیکھائے تین سال اس حکومت کو بھی ہونے کو ہیں مگر دیکھا جائے تو اس حکومت نے بھی سوائے گلگت سکردو روڈ کی تعمیر کے علاوہ دیگر شاہراہوں پر کوئی توجہ نہیں دی گلگت بلتستان کو ملک کے دیگر علاقوں سے ملانے والی اہم شاہراہ گلگت غذر روڈ کی جو قابل رحم حالت ہے اس کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گلگت بلتستان کی موجود حکومت نے غذر کے عوام کو جس انداز میں نظر انداز کیا ہے اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی سابق چیف سیکرٹری سکندر سلطان راجہ نے غذر کی خستہ حال سڑک کی حالت کو دیکھ کر گاہکوچ سے غذر کی حدور تک کی سڑک کی توسعی منصوبے کی تعمیر کے لئے 20کروڑ روپے فراہم کئے جس کا باقاعدہ ٹینڈر بھی ہوا اور تعمیر اتی کمپنی نے زور شور سے اس اہم منصوبے کی تعمیر کا کام شروع بھی کردیا تھااور دس کلومیٹر سڑک کی تعمیر کاکام مکمل ہی کیا تھا مگر نامعلوم وجوہات کی بنا پر وقت کے حکمرانوں نے اس اہم منصوبے کی تعمیر کاکام روک دیا ہاں ایک بات ضرور ہے کہ وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمان نے گاہکوچ کے نواحی گاؤں گورنجر کے سامنے محکمہ تعمیرات نے ماڈل کے طور پر بنایا گیا پندرہ سو فٹ روڈ کا افتتاع ضرور کیا نمونے کے طور پر بنایا گیا اس روڈ کے ٹکڑے کا افتتاع کیا کرنا تھا توسعی منصوبے کا کام بھی بند کر دیا ایسا کیوں کیا گیا اس کا جواب تو موجودہ حکمران ہی دے سکتے ہیں وزیر اعلی گلگت بلتستان کے پاس جب اس روڈ کی بندش کی شکایت کی گئی انھوں نے یہ خوشخبری سنا دی کہ گلگت سے گاہکوچ تک کے کے ایچ طرز کی سڑک تعمیر ہوگی اہم شاہراہ کی تعمیر یکم جنوری2017سے شروع کیا جائیگا مگر وزیر اعلی کا یہ اعلان بھی صرف اعلان کی حد تک محدود ہوکر رہ گیا ڈیڑہ سال کا عرصہ گزر گیاتاحال اس اہم شاہراہ کی تعمیر کاکام کا آغاز تو دور کی بات ہے اس کا ٹینڈر تک نہیں ہوا جبکہ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ ایک طرف گلگت بلتستان کی موجودہ صوبائی حکومت جس کے دور اقتدار کے تین سال پورے ہوگئے ہیں علاقے کے عوام کی اہم ڈیمانڈ شاہراہوں کی تعمیرتھا مگر دیکھا جائے سوائے سکردود روڈ کے کسی دوسرے اہم شاہراہ کی تعمیر کاکام کاآغاز نہیں ہوا ہاں یہ ضرور ہوا کہ غذر سے گلگت کی حدود تک غذر روڈ کی توسعی منصوبے کی تعمیر کاکام بند ضرور ہوا گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت گلگت بلتستان کو اگر ترقی کی راہ پر گامزن دیکھنا چاہتی ہے تو ہمارے حکمرانوں کوخطے کی اہم شاہراہوں کی تعمیر میں خصوصی دلچسپی لینی ہوگی اگر عوام کو صرف وعدوہ کی حد تک رکھا گیا تو آئندہ آنے والے الیکشن میں 2013کے الیکشن میں جو حالت پی پی کی ہوئی تھی ایسی ہی حالت (ن) لیگ کی بھی ہوگی حکمرانوں کے پاس اب وقت ہے کہ وہ ایسے وعدوں کو عملی جامہ پہناے جن کو پورا کر نے کی ان میں سکت ہو اگر ایسا نہیں کیا گیا تو آج کے حکمران اور کل کے امیدوار صوبائی اسمبلی کس منہ سے عوام کے سامنے ووٹ لینے جائینگے گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت کے تین سال پورے ہونے کو ہیں اور صوبائی حکومت کی کارکردگی کو دیکھا جائے تو سوائے اعلانات کے زمین پر کچھ نظر نہیں آتا چونکہ مسلم لیگ (ن) کے قائد نوازشریف شاہراہوں کی تعمیر کے حوالے سے خصوصی دلچسپی لے رہے تھے جب اس کے دور میں گلگت بلتستان کی اہم شاہراہوں کی تعمیر کاکام شروع نہیں ہوا تو ایسے میں اب موجودہ صوبائی حکومت سے یہ توقع رکھنا دیوانے کے خواب کے علاوہ کچھ نہیں اگر گلگت چترال روڈ کو سی پیک میں شامل کر دیا گیا ہے تو گلگت سے غذر تک روڈ کی تعمیر کی بجائے چکدرہ سے چترال تک روڈ کی تعمیر پہلے شروع کیسے ہوئی بتایا جاتا ہے کہ یہ اہم شاہراہ تین پوریشن میں تعمیر ہوگی پہلا پوریشن چکدرہ سے چترال کا ہے جو تین سال میں مکمل ہوگا دوسراپوریشن چترال سے شندور تک کا ہے جس پر بھی پونے تین سال لگ جائینگے جبکہ تیسرا اور آخری پوریشن میں شندور سے گلگت تک کی شاہراہ ہے جو شاید 2030میں مکمل ہوگی اگر ایسا تھا تو پھر وزیر اعلی گلگت بلتستان نے جو ڈیڑھ ارب روپے گلگت سے گاہکوچ تک روڈ کی تعمیر کے لئے مختص کئے تھے وہ رقم کہاں چلی گئی غذر کے عوام کو اس وقت اگر سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے تووہ گلگت غذر روڈ کی تعمیر کا ہے یہ شاہراہ آثار قدیمہ کا منظر پیش کر رہی ہے اور یہ اہم شاہراہ جو شاہراہ قراقرم کے متبادل بھی ہے اب دنیا کا ایک عجوبہ کی شکل اختیار کر گئی سالانہ لاکھوں کی تعدا د میں سیاح اس اہم شاہراہ پر سفر کرتے ہیں مگر اس خستہ حال روڈ کی حالت دن بدن بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے مگر حکمران مکمل طور پر خاموش ہیں جس کی صرف ایک ہی وجہ ہوسکتی ہے کہ غذر سے مسلم لیگ(ن) نے الیکشن کے دوران ایک بھی سیٹ نہیں جیتی تھی اس کی سز اغذر کے عوام کو دی جا رہی ہے مگر وقت کے حکمرانوں کو یہ یاد رکھنا ہوگا کہ یہ کوئی آخری الیکشن نہیں اس کے بعد بھی الیکشن ہونے ہیں مسلم لیگ (ن) کی صوبائی حکومت کے پاس یہ آخری موقع ہے کہ فوری طور پر گلگت غذر روڈ کی تعمیر شروع کر ادے اور گوپس یاسین کو ضلع کا درجہ دیا جائے اگر ایسا نہیں ہو اتو آنے والے الیکشن میں (ن) لیگ کی (غذر ) سے حالت گزشتہ الیکشن سے بھی بدتر ہوسکتی ہے ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments