ہم اور یہود 

حاجی سرمیکی

کچھ حقیقتیں ایسی ہوتی ہیں جو نہ صرف دکھائی اور سنائی دیتی یا محسوس ہوتی ہیں بلکہ چیخ چیخ کر پکار رہی ہوتی ہیں۔ مسلمانو، ذرا قرآن مجید کی طرف رجوع کریں تو معلوم ہوگا کہ چارسو سے زائد مواقع پر خداوندعالم کی ذات العلیم والخبیر نے سوچنے ، تدبر کرنے اور سیکھنے کی تاکید ہے۔ مسلمانو، کیا حکم خدا کی تعمیل واجب نہیں ہے؟۔ پھر ان امور پر جن پر تاکید سینکڑوں بار کی گئی ہو، کیا ان کی ترجیحاً تعمیل نہیں ہونی چاہیئے؟۔ خیر، مسلمان اقوام اور خاص کر مسلمان حکمران جب علم و حکمت کی بجائے کرسی وسلطنت کے عشاق ہوگئے تب سے مسلمان تعلیم وتحقیق کے میدانوں سے نکل کر مسلح و پابند حاکموں کے ایوانوں میں مقید ہوگئے۔ شاہ کے وفادار ایسے کہ سلاطین کے اشاروں پر ایک دوسرے کی گردنیں اتارتے بھی پل بھر کو نہ سوچتے تھے۔ یوں مٹی پر گرفت مضبوط کرنے کے چکروں میں فضیلت و برتری کے آسمانوں سے ہاتھ دھوبیٹھے۔ جوں جوں ٹیکنالوجی نے دنیا میں ایجادات کے ذریعے نت نئی آسائشیں فراہم کیں، ان پر حرام کے فتوے لگانے لگے۔ یوں عالموں اور عوام کے درمیان بھی گومگو کی کیفیت پنپنے لگی۔ اب حال یہ ہے کہ جو جو شے شروع میں حرام قراردی گئی تھی اب دنیا میں انہی اشیائے کے بڑے گاہکوں میں ہم ہی سرفہرست ہیں۔ مسلمان سلاطین کی تعمیرات میں دفاعی قلعے، محبوباوں کے مقبرے ،عیش ونشاط کی نشانیوں سے مزین محلات و عجائب گھرحتی کہ اپنے پالتو جانوروں کی جائے وفات پر تعمیر کردہ عمارتیں ہمیں”عظمت رفتہ”کی یاد دلانے کے لئے کافی ہیں۔ افسوس کہ بات تو یہ ہے کہ ان سلاطین سے اپنی برس ہا برس جاری حاکمیت میں بھی مکتب و مدارس، تحقیقاتی مراکز، طب و جراحت کے بڑے ادارے بنانے کی توفیق نہیں ہوئی اور تو اور مقامی صنعت و حرفت کو بھی نسل درنسل منتقل کرنے کے لئے کوئی انتظام نہیں کیا گیا۔آج دیگر بڑے اقوام کہ جن کی ہم سے ازلی بیر رہی ہے اورہمیں ان سے خیر کی کوئی امید نہیں، ان میں سے بھی سب سے چھوٹی قوم، جسے مسلمانان عالم بڑی حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، اس کا پورے مسلمانان عالم سے ذرا موازنہ کرنے کی سعی کرتے ہیں۔ دنیا کی بڑی قوموں میں سے ڈیڑھ ارب آبادی پر مشتمل مسلمان قوم جن کی اوسط آبادی جغرافیائی اعتبار سے ایشیاء اور مشرق وسطی میں ایک بلین، افریقہ میں چارسو ملین، یورپ میں چوالیس ملین اور ریاستہائے امریکہ میں چھ ملین ہے اس کے مقابلے میں یہودیوں کی کل آبادی صرف چودہ ملین ہے، جس میں سے سات ملین امریکہ، پانچ ملین ایشیا، دو ملین یورپ اورچند لاکھ افریقہ میں ہے۔ تقابلی تناظر میں دنیا میں ہر پانچواں شخص مسلمان ، ایک ہندو اور بدھ مت پیروکارکے مقابلے میں دو مسلمان اور ایک یہودی کے مقابلے میں ایک سو سات مسلمان موجود ہیں۔ پھر بھی کف افسوس ملناپڑتا ہے کہ آج صرف چودہ ملین آبادی پر مشتمل یہود ہم ڈیڑھ ارب مسلمانوں سے زیادہ طاقتور ہیں ۔ آخر کیوں؟۔ اس لئے جناب،کہ عظیم سائنسدان البرٹ آئنسٹائن کے ساتھ ساتھ سگمنڈفیرڈ، پاول سیمولسن اور ملٹن فرائیڈمین بھی یہودی تھے ۔ بعض کے مطابق کارل مارکس بھی یہودی تھے۔ جدید طب میں ان یہودیوں کے کارناموں میں، بنجمین روبن کی تیارکردہ ٹیکوں کی سوئی، جوناس سالک کی پولیو ویکسین، گرٹورڈے ایلن کی لیوکائمیاڈرگ، برونچ کی ہیپٹائٹس بی کی دوا، پاول ایلرچ کی سپھلس ڈرگ کے علاوہ اینڈریو شیلے، ارون بیک، گریگوری پینکس، جی والڈ، سٹین لے کوئن، ویلئم کولف کین کی بالترتیب، انڈوکرینولوجی، کوگنیٹیو تھراپی، کونٹراسیپٹیو گولیاں، آنکھ کی ساخت کے بارے میں تحقیق، ایمبریولوجی اور کڈنی ڈائیلاسزشامل ہیں۔

غور کا مقام ہے ، مگر ملازمتوں کے پیچھے خواراور فرقہ وارانہ سیاست میں گتھم گتھا ، ہمیں کہاں حیا مانع ہوتی ہے وگرنہ گزشتہ ایک سو پانچ سالوں تک نظر دوڑائیں توصرف چودہ ملین آبادی پر مشتمل یہودیوں میں سے ایک سو اسی اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی شخصیات نے بین الاقوامی نوبل امن انعام حاصل کئے ہیں جبکہ ان کے مقابلے میں ڈیڑھ ارب کی آبادی کے حامل ہم مسلمانوں نے صرف تین شخصیات اس عظیم کارنامہ کے حقدار ٹھہر پائے ہیں۔ ستم بالائے ستم یہ کہ پاکستان کے نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر عبد السلام اور ملالہ یوسفزئی کی شخصیات اپنی دینی حیثیت میں متنازعہ رہی ہیں۔بات یہیں ختم نہیں ہوتی، دنیائے تحقیق کے وہ کارنامے جنہیں تاریخ ساز مانے جاتے ہیں ان میں سے جدید ٹیکنالوجی کی جان مائیکرو پروسیسنگ چپ کے بانی سٹین لے میذور بھی انہی کے تھے، اس کے لیو سچیوٹس نے نیوکلیر چین، پیٹر نے آپٹک فائبرکیبل، چارلس اڈلر نے ٹریفک لائٹس، بنو سٹراس نے سٹین لیس سٹیل، ساڈورکسی نے ساونڈ مووی، ایملی برلینر نے ٹیلی فون مائکرو فون اور چالس گنسبرگ نے ویڈیو ٹیپ ریکارڈر ایجاد کئے ہیں۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی سطح پر نمائندہ کارباری اداروں میں پولو، کوکاکولا، لیویز، گوگل، ڈیل کمپیوٹرز، اوریکل کمپیوٹرز، باسکن روبنزاور ڈنکن دونٹس بھی انہی کے ہیں۔ دنیا کے جانے مانے پالیسی ساز شخصیات میں ہنری کسنجر، امریکہ کے سکریٹری آف سٹیٹ، ریچرڈ لیون صدر یل یونیورسٹی کے علاوہ ایلن گرینسپن، جوزف لائبرمین، میڈیلائن البرائٹ، کیسپر وین برجر امریکہ کے ڈیفنس سکریٹری، میکزم لیٹوینو روس کے وزیر خارجہ، ڈیوڈ مارشل سنگھاپور کے وزیر اعلیٰ اور دیگر درجنوں افراد اسٹریلیا، برطانیہ ، پرتگیز، کینیڈا اور فرانس میں بھی اہم پالیسی سازی کے عہدوں پر براجمان ہیں۔ بین الاقوامی ذرائع مواصلات و صحافت میں بھی ولف بٹلر سی این این، باربرا اے بی سی نیوز، ایوگی مایئر واشنگٹن پوسٹ، ہنری گورنوالڈ ٹائم میگزین اور جوزف لیلائلڈاورمیکس فرینکل نیویارک ٹائمز میں موجود یہودی افراد ہیں۔ یہ لوگ آخر اتنے طاقتور اورہم مسلمان بے بس کیوں ہیں؟۔باوجود اس کے کہ ہم میں تعلیم یافتہ افراد پیداکرنے کی صلاحیت ان سے کئی گنا زیادہ ہے۔

تو سنیئے جناب، ہم مسلمانوں کے کل ستاون ممالک میں کل اعلیٰ تعلیمی اداروں، یونیورسٹیز کی تعداد پانچ سو کے لگ بھگ ہیں۔ حالانکہ صرف امریکہ کے اندر پانچ ہزار سات سو اٹھاون یونیورسٹیز موجود ہیں۔حتی کہ ہمارے ہمسایہ ملک میں موجود یونیورسٹیوں کی تعداداٹھاہزارچارسو سات کے لگ بھگ ہیں۔ دوسری طرف دنیا کے پانچ سو بہترین یونیورسٹیوں کی فہرست میں کسی بھی مسلم ملک کی کوئی ایک بھی یونیورسٹی شامل نہیں ہوپائی۔کل دنیا کی آبادی میں سے مسیحیوں میں خواندگی کی شرح نوے فی صد، کل مسلمانوں میں خواندگی چالیس فیصد، وہ بھی ابتدائی قاعدے کی تعلیم ملاکر۔ اسی طرح مسیحی اکثریتی ممالک میں شرح خواندگی سو فیصد اور مسلم اکثریتی ممالک میں ایک بھی سوفیصد شرح خواندگی کے حامل نہیں۔ اٹھانوے فیصد مسیحی اکثریتی ممالک میں لوگ پرائمری تعلیم مکمل کرتے ہیں، جبکہ مسلم ممالک میں صرف پچاس فیصدی لوگ جو تعلیم حاصل کرتے ہیں وہ پرائمری تعلیم مکمل کرتے ہیں۔ مسیحی ممالک میں چالیس فیصد لوگ یونیورسٹی کی سطح تک جاتے ہیں جبکہ یہی خوبی صرف دو فیصدی مسلم طلباء میں پائی جاتی ہے۔ مسلم اکثریتی ممالک میں ہر دس لاکھ میں سے دوسوتیس سائنسدان بنتے ہیں، جبکہ امریکہ میں یہی صلاحیت اتنے ہی لوگوں میں سے پانچ ہزار افراد رکھتے ہیں۔ مسیحی اکثریتی ممالک میں ایک ملین میں سے ایک ہزار ٹیکنیشنز پیدا ہوتے ہیں جبکہ کل عرب ممالک میں یہی تعداد صرف پچاس کی ہے۔ خلاصہ یہ کہ مسلمان علم دینے والے بننے میں کمزوری کا شکار ہے۔ معلومات کے تبادلے اور تعلیم کے فروغ کے حوالے سے اگر دیکھا جائے تووطن عزیز پاکستان میں صرف تییس رونامہ اخبارات ایک ہزار افراد کے لئے ، سنگھا پور میں چارسوساٹھ روزنامے ایک ہزار افراد کے درمیان، جبکہ کتب نویسی میں برطانیہ میں ہر دس لاکھ لوگوں کے حساب سے دوہزار کتب جبکہ تمام مسلم ممالک میں سب سے زیادہ مصر میں کتب نویسی کی تعداد دس لاکھ لوگوں میں صرف سترہ ہے۔ تعلیم کے استعمال پر نظر دوڑائیں تو پاکستان میں ہائی ٹیک مصنوعات کی برآمدات صفر عشاریہ نو فیصد، سعودی عرب میں عشاریہ دوفیصد، کویت میں تین فیصد جبکہ چالیس لاکھ کی آبادی کے حامل ملک سنگھاپور میں ہائی ٹیک مصنوعات کی برآمدات کی اوسط اڑسٹھ فیصد ہے۔

گزارشات ان حوالہ جات سے ہمارے مسلم برادران سے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ نعمتوں، خصوصا حواس خمسہ کا صحیح استعمال کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے احکامات خصوصا فکر و تدبر، علم وعرفان اور حکمت ودانائی کے حصول کے حوالے سے کی گئی تاکید کو سمجھتے ، محسوس کرتے اور عملی مظاہرہ کرتے ہوئے ماننے کی ضرورت ہے۔ اپنے بچوں کو بہتر تعلیم اور بہتر تربیت دینے کی ضرورت ہے۔ انہیں چھوٹی چھوٹی باتوں میں الجھا کررکھنے کی بجائے ان کی خداداد صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔(یہ تمام تر معلومات ایک معروف بینکارمسلم سپوت حافظ اے بی محمد ڈائریکٹر جنرل البرکہ بینک کی تقریر سے اقتباس پر مبنی ہے)۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments