خواب اور حقیقت

احمد سلیم سلیمی

وہ خواب خواب سی کیفیت تھی۔شبنمی فضا میں بارش کے بعد دُھلی دُھلی دھوپ پھیلی ہوئی تھی۔ دور دور تک مخملی سبزے پر چمکتے بارش کے قطروں میں دھوپ کی گرمی ملی ہوئی تھی۔بلند بلند پہاڑوں کی چوٹیوں پہ، اوپر بلندیوں سے ٹوٹ کر اترنے والے کالے سفید بادلوں کے ٹکڑے منڈلا رہے تھے۔ ان کی اوٹ سے چمکتی ہوئی چوٹیاں گویا جلوہ ٗجاناں تھیں کہ چَھب دکھلا کر چُھپ رہی تھیں۔

وہ بیضوی پیالہ نما وادی تھی۔دور دور تک مخملی گھاس بچھی ہوئی تھی۔ وادی کے بیچوں بیچ ایک بل کھاتی ندی سکوت میں جلترنگ بجاتی گزر رہی تھی۔ دونوں کناروں پر کئی طرح کے پھول قطار اندر قطار کھلے تھے ۔ سانس سانس مہک رہی تھی۔ نظر نظر بہک رہی تھی۔ ہر ذرہ جیسے جھوم رہا تھا۔ ایسے عالم میں سُدھ بُدھ ہی کھو جاتا ہے، میں بھی کھویا ہوا تھا۔ وہ جیسے صدیاں گزر گئی تھیں یا پھر وقت کی نبض تھم گئی تھی۔ میں یہاں کیسے آگیا؟ یہ بھی یاد نہیں آرہا تھا۔وہ شاید خواب کی کیفیت تھی یا پھر خواب خواب کیفیت میں فطرت کی جلوہ نمائی تھی۔۔۔

یکایک میں چونک پڑا۔ کہیں سے دھیمی دھیمی آوازیں آرہی تھیں۔ لفظ واضح نہیں تھے صرف آوازیں تھیں۔ وہ شاید پریوں کی سرگوشیاں تھیں یا دور تک کِھلے پھولوں کی پتیوں کی خوش فعلیاں!!! ساتھ ساتھ نرم روگھنٹیاں سی بج رہی تھیں۔ میں ابھی کچھ سمجھنے کی کوشش کررہاتھا کہ اچانک ٹھٹھک گیا۔ میرے بالکل سامنے ایک تخت آکے اترا۔ میں نے دیکھا کہ میرا ہمزاد بسمل فکری اس تخت پر پریوں کے جھرمٹ میں راجہِ اندر بنا بیٹھا تھا۔ تخت زمین پر اترتے ہی میرا ہمزاد اپنی نشست سے اٹھا اور میرے سامنے آ کے تین فرشی سلام کر کے کھڑا ہوگیا ۔ وہ ظالم پہلے کی طرح اب کی بار بھی ایک طویل عرصہ غائب رہنے کے بعد اس خواب خواب ماحول میں نمودا رہوا تھا ۔

میں نے اس کی بہت گہری آنکھوں میں جھانکتے ہوئے پوچھا ’’بسمل فکری! میرے ہمزاد! تم کہاں تھے؟ کئی موسم آکر گزر گئے اور میں کئی بار مر مر کر جیتا رہا۔وہ موسم کبھی سازگار اتنے تھے کہ انتہائے کیف میں سانسیں الجھ جاتی تھیں تو کبھی ستم گراتنے کہ سانسیں ہی رک جاتی تھیں۔ کبھی ان موسموں کی کروٹ جنونِ شوق کو بے انتہا کر دیتی تو کبھی ان کی کاٹ شوقِ جنوں بڑھا دیتی تھی۔ ہر حال میں تو مجھے یاد آتا رہا اور تو ابھی آیا۔۔۔؟‘‘

اس نے دور پہاڑوں کی چوٹیوں پر منڈلاتے ہوئے بادلوں کو دیکھتے ہوئے کہا ’’میرے گرو! میں کیوں ہوں؟ یہ زمین جس کاحسن یہ انسان ہے، پھر یہ انسان ہی دوسرے انسان کا دشمن کیوں ہے؟ میں اس کا جواب ڈھونڈنے گیا تھا۔ لیکن غضب ہوا میں پہلے سے زیادہ چُور چُور ہو کرآگیا ہوں ۔ میں بہار و نغمہ کی وادیوں میں بھٹکتا رہا لیکن اس زمین کا، اس انسان کادکھ مجھے ہر وقت تڑپا تار ہا۔‘‘

میں نے کہا ’’بسمل فکری! تم ہمیشہ کے قنوطی ہو، اچھے موسموں کی امید رکھو۔کیونکہ امیدقائم تو رنگِ دنیا بھی قائم۔ دیکھو توکیسا کھلا کھلا سماں ہے۔ دور تک پھیلی ہوئی اس وادی میں کتنا سکون ہے؟ ایسے میں تم مایوسی کی اور درد کی باتیں کرتے ہو۔کیوں غموں کے جام چھلکاتے ہو؟‘‘

اس نے زخمی زخمی نظروں سے مجھے دیکھا پھر بڑے ہی بوجھل لہجے میں کہا ’’غموں کے جام چھلکا کے قہقہے لگانے میں ہی زندگی کا مزہ ہے۔ مجھ میںیہ حوصلہ نہیں تھا کہ یہ قیامت کے دکھ برداشت کر سکوں اس لیے آپ کی دنیا سے بہت دور چلا گیا تھا۔ وہ پریوں کی وادی تھی۔ محبت کے پھولوں سے سجی تھی۔ہر سُو طیورِخوش نوا کی چہکار تھی ۔ کوئی دکھ، کوئی پریشانی نہیں تھی۔ لیکن میں پھر بھی آپ کی دنیا سے غافل نہیں تھا ۔ یہاں کے دکھ، یہاں کے مصائب مجھے وہاں بھی بے سکون رکھتے تھے۔ ان انسانوں کی بے حسی، بے بسی اور بے سمت سفر پر دل خون کے آنسو روتا تھا۔ ایسے میں آپ کے سامنے جودل کی آگ اگلتا ہوں تو یہ مایوسی کی باتیں نہیں بلکہ مایوس لوگوں کی بے بسی سناتا ہوں۔یہ انسان جو اس پھیلی ہوئی زمین کی زینت ہیں۔ مگرکیا واقعی یہ زمین ان کے لیے جنت بھی ہے۔۔۔؟ ‘‘

میں نے اس کی بات کاٹ دی ’’بسمل فکری! تم سچ کہتے ہو،ہم جذباتی لوگ ہیں۔ کسی کے لیے جان دینی ہو تو فدا کاری کی کوئی حد نہیں اور کسی کی جان لینی ہو تب بھی ستم گاری انتہاکی ۔ مگر اس سب کا بیان ابھی ہی کیوں؟ درد کی اس دنیا سے تو میں بھا گ آیا ہوں۔ پھراسی دنیا کا قصۂ درد کیوں سناتے ہو؟دیکھو تو کیسی نکھری نکھری فضا ہے؟ کیسا سکوت اور سکون ہے؟ بھول جاؤ وہ سب کچھ جو انسانی جنگل میں ہو رہا ہے۔‘‘

اس نے بڑی سنجیدگی سے کہا ’’گرو! کہو تو لوٹ جاتے ہیں اسی وادی گل رنگ میں جہاں سے میں آیا ہوں؟ جہاں کی خوش جمال صبحیں ہر دکھ بھلا دیتی ہیں۔ جہاں کی کٹیلی شامیں بے خود کر دیتی ہیں۔ لیکن کیا وہاں عالمِ بے خودی میں رہنے سے یہاں کے دکھ، یہاں کے مصائب اوراس انسان کی بے قدری میں کمی آئے گی؟ آنکھیں بند کرنے سے سامنے آنے والی مصیبت ٹل نہیں جاتی۔ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ٹکر لینی پڑتی ہے ۔آپ تھوڑی دیر کے لیے اس خواب ناک وادی میں آکر اپنی دنیا کی خطرنا ک بربادی سے بے نیاز ہو گئے ہیں۔ یہ جائے قرار نہیں، راہِ فرار ہے۔ محض رنگین خوابو ں کی سیر کر کے غافل رہنے سے شامت ،آفت بن جاتی ہے۔‘‘

میں نے چلّا کر کہا’’پھر میں کیا کروں؟ لوگوں کے ہجوم میں جا کر چلاّ چلّا کر کہوں کہ ایک دیوانہ ہے جو اس طرح کی بے ہنگم اور بے ہنگام باتیں کرتا ہے؟ میں وہاں دہائی دوں تو بھی کس کے آگے؟ یہاں ہر کوئی سچا ہے۔ کوئی یہ ماننے کو تیار نہیں کہ دوسرا بھی سچا ہے۔ ایسے میں جھوٹ اور سچ، انصاف ا ور ظلم، فرض شناسی اور بے ایمانی،صاف شفاف اور دھاندلی کے الفاظ اپنی معنوی گہرائیوں سمیت کتابوں کی قبر میں دفن ہو جاتے ہیں۔ عملاً ان کا مفہوم وہی رہ جاتاہے جو طاقت اوراختیار والے کی پسند کا ہے۔ ایسے میں حق ناپنے والا آلہ کہاں سے ملے گا؟

’’کبھی مداری ڈگڈگی بجا کر بندر نچاتا تھا اب یہ عوام ناچنے میں ایسے ماہر ہو گئے ہیں کہ بے چارہ بندر شرما کے گلی کوچوں سے ہی بھاگ گیا ہے کیونکہ ہر طرف یہ انسان ہی ناچ رہا ہے۔۔۔ کبھی مذہب کی ڈگڈگی بجا کر ا سے نچاتے ہیں۔ کبھی سیاست کی ڈگڈگی بجاکر ، کبھی فرقے کی تو کبھی ذات پات کی اورکبھی زبان کی بنیاد پر۔۔۔ انسانوں کی ایک بے ہنگم بھیڑ کا یہ رقصِ بے ہنگام ہے۔‘‘

بسمل فکری بڑی خاموشی سے میری باتیں سن رہا تھا۔ پھر وہ بڑے دکھ سے بولا ’’ میرے گرو! یہ جو سیاست کار اور باختیارہیںیہ بڑے ہی مکار ہوتے ہیں۔ یہ عوام کو اپنی مرضی سے نچاتے ہیں۔ زندہ باد، مردہ باد کے نعروں کے بیچ یہ عوام اس طرح ناچتے ہیں کہ پیچھے سے ڈور ہلانے والے بھی دنگ رہ جاتے ہیں۔ مداری کا بندر بھی ان کا ناچ دیکھ کر اپنا سر کھجانے لگتاہے اور مداری کا بچہ جمورا انسانوں کا رقص دیکھ کر اپنے انسان ہونے پہ شک کرنے لگتا ہے۔۔۔‘‘

اتنا کہہ کر بسمل فکری رک گیا اور پھر گہری سانس لے کر بولا ’’ گرو! چلیں میں آپ کو دکھاتا ہوں کہ مداری کا بچہ جمورا کس کشمکش میں مبتلاہے؟‘‘

اس نے یہ کہا اور اپنا ہاتھ برف پوش چوٹیوں کی طرف کر کے ایک مخصوص اشارہ کیا۔ یکایک ایک چوٹی پر رنگ ابھرے، شبیہیں بنیں ،پھر شکلیں واضح ہونے لگیں اور ایک مداری تماشا دکھائی دینے لگا۔ میں یک ٹُک ادھر دیکھنے لگا۔

مداری کابچہ جمورا ڈگڈگی پر اچھل کود کر رہا تھا۔مداری نے ڈگڈگی بجا کے پوچھا ’’بچہ جمورے ! تم کون ہو؟‘‘

’’استاد! بچپن میں دادی اماں بتاتی تھیں کہ انسان ہوں پر اب۔۔۔‘‘ اتنا کہ کر وہ اک ذرا خاموش ہوا۔

مداری زور سے چلایا ’’خاموش کیوں ہوگئے بچہ جمورے! بتاؤ اب کیا ہو؟‘‘

بچہ جمورے نے بھرے ہجوم کی طرف دیکھا اور مداری کی بات کا جواب دینے کے بجائے جھک کر ایک ادا سے ہاتھ پیشانی کی طرف لے جا کے فرشی سلا م کیا اور ناچنے لگا۔

مداری ڈگڈگی بجانے لگا پھر اسے پیچھے سے لات مارتے ہوئے بولا۔’’ ابے کتے کی دم! ہمیشہ ٹیڑھے ہی رہتے ہو ۔اپنی حقیقت بتاؤ۔تم کون ہو؟

’’استاد وہی تو بتا رہا ہوں ‘‘۔ بچہ جمورا زور سے چلایا ۔ ’’میں ناچتا ہوں ۔ مداری کی ڈگڈگی پہ ناچنے والا بندر ہوں۔ بس شکل انسانوں جیسی ہے۔ کبھی حکم عدولی کروں تو آپ کی چھڑی میری چمڑی ادھیڑ دیتی ہے۔‘‘

مداری نے کہا۔ ’’ کیا اکیلے تم ہی ناچتے ہو بچہ جمورے؟‘‘

’’نہیں استاد! یہ عوام بھی ناچتے ہیں۔ بس فرق یہ ہے کہ مفادات کے لیے لیڈر انہیں نچاتے ہیں۔ چند ٹکوں کے لیے آپ مجھے نچاتے ہیں‘‘۔ لوگ واہ واہ کر کے بچہ جمورے کو داد دینے لگے۔

مداری نے ایک دم ڈگڈگی بجا کے پوچھا ’’بچہ جمورا! تجھے کون نچاتا ہے؟‘‘

’’معلوم نہیں استاد!‘‘ اس نے کہا۔

مداری نے زور سے چھڑی گھما کے آہستہ سے اسے ماری پھر چیخ کر کہا ’’ابے بھوتنی کے ! میں، تمہارا باپ …..کیا تجھے نظر نہیں آرہا ہوں؟‘‘

بچہ جمورا ہنس پڑا ’’ آپ نظر آتے ہیں استاد !مگر آپ کو بھی تو کوئی نچاتاہے۔ آپ جیب گرم نہیں کریں گے تو پولیس یہاں تماشا کرنے دے گی؟ نہیں ناں۔! بس یہاں ہر کوئی ناچ رہا ہے۔ کوئی بڑی بڑی کرسیو ں پر بیٹھ کر ناچتا ہے اور کوئی ہماری طرح گلی کوچو ں میں ناچتا ہے۔ ‘‘

یہ کہہ کر وہ ناچنے کے انداز میں اچھلنے کودنے لگا ۔ لوگ تالیاں بجا بجا کر اسے د اد دینے لگے اور اس کے کشکول میں خوش ہو کر پیسے ڈالنے لگے۔ مداری نے پھر سے ڈگڈگی بجا کر پوچھا ’’بچہ جمورے ! یہ بندر کیوں ناچتا ہے؟ ‘‘

اس نے بے نیازی سے جواب دیا’’پتا نہیں استاد!آپ اشارہ کرتے ہیں تو ناچتا ہے‘‘

مداری نے ا سے چھڑی ماری ’’ابے گدھے کے باپ ! میں کہوں تو تم ننگا ہو کر ناچو گے؟‘‘

بچہ جمورا نے قہقہہ لگایا ’’استاد! ایسا تو سب کرتے ہیں ۔ پہلے تو صرف حمام میں ننگا ہوتے تھے۔ اب تو سرعام بھی سب ننگے نظر آتے ہیں۔اب حمام کا مطلب بدل گیا ہے۔ پہلے حمام میں جاکر جسموں کا میل صاف کرتے تھے اور اکیلے میں ناچتے تھے ۔اب میڈیا کا حمام ان کی غلاظتو ں کو اچھالتا ہے اور یہ سب کے سامنے ناچتے ہیں۔ یہ جو میڈیا ہے استاد! بہت ہی کمال کی چیز ہے، چھوٹی سے لے کر بڑی کرسی تک سب کو ننگا کر دیتاہے۔ پھر بھی یہ لوگ بڑے ڈھیٹ ہیں۔ انہیں جتنا ننگا کرواتنا ہی بے شرم بن کے ناچنے لگتے ہیں۔‘‘

مداری نے پیچھے سے زور سے چھڑی گھما کے ماری ’’ابے کتے کی دم! ہمیشہ ٹیڑھے ہی رہتے ہو۔میری بات کا جواب دو بندر کوکون نچاتا ہے ؟‘‘

بچہ جمورا روہانسی آواز میں چلّا کے بولا ’’ میں نے کہا نا استاد! آپ کہتے ہیں تو ناچتا ہے۔‘‘

مداری بولا ’’ بچہ جمہورے ! میں کون ہوں؟‘‘

اس نے کہا۔ ’’آپ مائی باپ ہیں استاد! بڑی سرکار ہیں۔ بس لوگ کہتے ہیں بندر نچانے میں آپ کا کوئی جواب نہیں۔‘‘

مداری نے لات ماری اور چلّا کے کہا ۔’’ابے نمک حرام! بندر نہیں نچاؤں گا تو تم حرام خوروں کا پیٹ کیسے بھروں گا۔پاپی پیٹ کا ہی تو یہ کیا دھرا ہے۔‘‘

بچہ جمورا نے تالی پِیٹ کر کہا ۔’’ پَیٹ ہی نہیں استاد! سِیٹ(seat) کا بھی سوال ہے۔ اپنی سیٹ پر ڈٹ جانے کا بھی یہ تماشائے سرِعام ہے۔‘‘

دائرے میں کھڑے لوگ بچہ جمورے کی باتوں پہ اسے داد دینے لگے۔ وہ سب بہت محظوظ ہو رہے تھے۔ ان دونوں کی پُرلطف باتیں تیز سوئیوں کی طرح چبھ رہی تھیں۔ مداری اور اس کا بچہ جمورا انہیں ایسا آئینہ دکھا رہے تھے کہ اپنی بے بسی اور بے کسی پہ خود ہی رقصِ جنوں کو جی کر رہا تھا۔ عوام ان نچانے والوں کا گریبان پھاڑ نہیں سکتے تھے اس لیے اپنا ہی گریبان چاک کرنے کو جی کر رہا تھا۔

بسمل فکری نے ہاتھ سے اشارہ کیا اور وہ تمام منظر غائب ہوگیا۔ پھر سے اس وادی کی برفیلی چوٹیاں اپنی چمک دکھلانے لگیں ۔ مداری اور اس کا بچہ جموراسیاسی شعبدہ بازوں کے چہرے دکھا کر غائب ہوگئے تھے۔ ان چہروں کی خباثت ہر کسی کو نظر نہیں آتی۔ اس لیے یہ عوام انہیں مائی باپ اور بڑی سرکار کہتے نہیں تھکتے ۔

بڑی دیر کی خاموشی کے بعد میں نے ایک گہری سانس لے کرکہا۔ ’’میرے ہمزاد! یہ قوم تھک گئی ہے، کم زور نہیں پڑی۔ کیونکہ…. لمبی ہے غم کی شام، مگر شام ہی تو ہے۔اس قوم کی مائیں ابھی بانجھ نہیں ہوئیں۔ بس شامتِ اعمال سے قحط الرجال ہے۔ یہ اندھیرا بھی چھٹ جائیگا۔ یہ عرصۂ قیامت ہے۔سب نہیں تو تھوڑے بہت بیدار ہوں گے۔ ان کی بیداری کے بعد گناہ گاروں کے حساب کتاب کا سلسلہ شروع ہوگا۔‘‘

وہ طنز سے بولا’’ یہ حساب کتاب کون کریگا؟ اوپر سے فرشتے اتریں گے کیا؟۔‘‘

میں نے کہا ’’ یہ انسان صلاحیتوں میں فرشتوں سے آگے ہے۔ یہی انسان اس معاشرے کوایک بہترین نظام فکر اورپُرخلوص قائدانہ صلاحیتوں سے مثالی بنا سکتاہے۔‘‘

بسمل فکری زور سے ہنس پڑا۔ ’’ مگر کون ایسا کریگا؟ ایک مجموعہ اضداد ہے، بزعم خویش ہر ایک اپنے حق اور سچ ہونے کا دعویدار ہے۔ ایسے میں کس سچائی کی جیت ہوگی؟ یہاں جھوٹا بس ایک ہے۔ یہ انسان….! یہ اشرف المخلوقات …..۔! پھر کسے رہنما کرے کوئی؟آپ میری مانیں تو خوابوں کی اس وادی میں چلے چلتے ہیں۔ جہاں پریاں سرگوشیاں کرتی ہیں۔ جہاں ہوائیں گیت گاتی ہیں۔ جہاں ارمانوں کے دیے، بغیر جلے نہیں بجھتے ۔ جہاں اپنی بات منوانے کے لیے گالی اور گولی کا استعمال نہیں ہوتا۔ جہاں مسجدیں کفر کے فتوے نہیں دیتیں۔جہاں اچھی بات ہر کسی کی سنی جاتی ہے۔جہاں انسانی قدریں اس حد تک پا مال نہیں کہ بم باندھ کے اپنے ہی بھائی بندوں کے چیتھڑے اڑاکے کوئی فخر سے کہے کہ یہ مذہب کہتا ہے۔ پھر میں کیوں نہ جاؤں وہاں۔؟ اسی لیے کہو تو لوٹ جاتے ہیں۔۔۔!‘‘

اسی وقت کئی ایک پریاں رقص کرتی ہوئی قریب آگئیں۔ بسمل فکری ان کی طرف دیکھ کربولا۔ ’’گرو! میرے جانے کاوقت ہواہے۔ آپ کی دنیا میں میرا دم گھٹ جاتاہے۔ میں پھر کہتاہوں میری مانیں ، خوابوں کی اُس وادی میں چلتے ہیں۔‘‘

مجھ سے کوئی جواب نہ بن سکا۔ میں خاموشی سے اسے دیکھتے ہوئے سوچتا ہی رہ گیا۔اور وہ پریوں کے جلو میں اس تخت پہ بیٹھ گیا۔ ذرا ہی دیر میں وہ تخت اُڑتا ہوااوپر بلندبلند برف پوش چوٹی کے پیچھے کہیں دور چلا گیا ۔ میں کھویا کھویا اور خالی خالی سا کھڑ ارہ گیا۔ ہر طرف چھائے سکوت میں اس کی آواز جیسے گونج رہی تھی۔ ’’کہو تو لوٹ جاتے ہیں۔۔۔؟‘‘

اسی وقت کھٹکا ہوا اور میری آنکھ کھل گئی۔ کھڑکی میں سے ہلکی ہلکی روشنی دکھائی دے رہی تھی۔ جس سے لگتا تھا کہ صبح بھی جاگ اٹھی تھی اور کھلی آنکھوں سے کائنات میں خوشیاں ڈھونڈ رہی تھی۔ اور میں اپنی کُھلی آنکھوں سے خود کو خود میں ڈھونڈ رہا تھا۔

بہت سنے ہیں فسانے تخیل کے بُنے ہوئے

آؤ اب اپنے گریباں میں بھی جھانکیں مل کر

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments