حکومت اور اپوزیشن مذاکرات کی میز پر آجائیں

ہر مسلہ جذباتی نعروں اور توڑ پھوڑ سے سے حل نہیں ہوتا۔ کچھ کام ایسے ہوتے ہیں جن کے لئے عقل، ہوش، علم اور محنت درکار ہوتی ہے۔سیاست کرنا ضروری ہے مگر قوموں کے مستقبل کے فیصلے دانشمند ی اور بردباری کا بھی تقاضا کرتے ہیں۔ نعرے اور جذبات وقتی طور پر دل کی بڑاس نکالنے کی حد تک ٹھیک ہیں مگر جہاں علم و دانش درکار ہو وہاں یہ جذبات کسی کام کے نہیں رہتے۔دنیا میں جتنی بھی تبدیلیاں آئی ہیں ان کے پیچھے نعروں اور جذبات کا کم علم، عقل، محنت ، پیشہ ورانہ اہلیت اور دانش کا کردار زیادہ رہا ہے۔

حیران کن بات یہ نہیں ہے کہ وفاق کی طرف سے گلگت بلتستان کے امور چلانے کے لئے ایک دفعہ پھر نئے آرڈر کا اجراء کیا گیا ہے بلکہ حیران کرنے والی بات یہ ہے کہ گلگت بلتستان کے باسی حقوق کی بات تو کرتے ہیں مگر جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ وہ حقو ق کس شکل میں ملنے چاہئے تو وہ بغیرسوچے سمجھے سنی سنائی باتوں پر مبنی کوئی سا بھی حل بتا دیتے ہیں جس میں اور کچھ ہو نہ ہو ان کے خیال میں بس کسی بھی طرح موجودہ سیٹ اپ سے کچھ مختلف ہو۔ حقوق اور اختیار کا راگ سب الاپتے ہیں مگر حل پیش کرتے ہوئے ایک تقسیم نظر آتی ہے ۔ صرف تقسیم نہیں بلکہ تقسیم در تقسیم نظر آتی ہے ۔ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ مسلے کی نشاندہی پر متفق ہونا اہم نہیں ہے ۔اہم یہ ہے کہ مسلے کے حل پر اتفاق رائے پیدا کی جائے کیونکہ حل پر جب تک اتفاق رائے قائم نہیں ہوگا مسلہ جوں کا توں رہے گا۔ یہ بھی مسلمہ حقیقت ہے کہ اپنے کیس کا حل پیش کرتے ہوئے اس کا مکمل ادارک اور سمجھ ہونی چاہئے تاکہ حل پیش کرتے وقت ممکنات کو مد نظر رکھا جاسکے۔ناممکنات سے حتی الامقدور اجتناب کیا جائے۔

جو لوگ صوبے کامطالبہ کرتے ہیں ان پر وفاق نے ایک دفعہ نہیں بار ہا واضح کردیا ہے کہ مسلہ کشمیر کے مستقل حل تک گلگت بلتستان کو صوبہ بنانا ممکن نہیں۔ پھر کہا جاتا ہے کہ اگر صوبہ ممکن نہیں ہے تو کشمیر طرز کا سیٹ اپ دیا جائے۔ اس پر وفاق کا کہنا ہے کہ موجودہ گلگت بلتستان کا سیٹ اپ کم و پیش وہی ہے جو آزاد کشمیر کے لئے دیا گیا ہے۔ جن لوگوں نے کشمیر کے سیٹ اپ کا بغور مطالعہ کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ وفاق کا یہ کہنا درست ہے کہ سوائے صدر اور وزیر اعظم کے ناموں کے باقی سارا نظام وہی ہے جو آزاد کشمیر کو دیا گیا ہے۔ اس بات کی تصدیق خود آزاد کشمیر کا پڑھا لکھا طبقہ بھی کر رہا ہے۔ اس کے باوجود موجودہ وقت میں گلگت بلتستان کی اپوزیشن دو مطالبہ کر رہی ہے کہ یا مکمل آئینی صوبہ یا آزاد کشمیر طرز کا سیٹ اپ دیا جائے۔

وفاق کے موقف سے یہ بات واضع ہوگئی ہے کہ گلگت بلتستان آئینی صوبہ نہیں بن سکتا ۔ ناموں کی تبدیلی اور گلگت بلتستان اسمبلی سے ایکٹ بنائے جانے کے بعد موجودہ سیٹ اپ آزاد کشمیر طرز کا سیٹ اپ جیسا ہوگا ۔ جب اتنی سی بات ہے تو پھر لڑائی کس بات کی ہے۔ اپوزیشن کا واویلا کس مقصد کے لئے ہے۔ صوبہ نہیں بن سکتا تو مطالبہ کیوں کیا جارہا ہے۔ آزاد کشمیر کا سیٹ اپ کا مطالبہ کرنا کیوں ضروری ہے ۔ حکومت گورنر اور وزیر اعلی کے عہدوں کے نام تبدیل کر کے صدر وزیر اعظم کیوں نہیں رکھتی ؟ یہ چند اہم سوالات ہیں جن پر غور کرنا بہت ضروری ہے۔

مگر زیادہ ضرور ت اس بات کو سمجھنے کی ہے کہ مسلہ اسلام آباد کا نہیں ،مسلہ گلگت بلتستان کے لوگوں کی سیاسی تعلیم اور اتحاد کا ہے۔ سیاسی قیادت پڑھنے لکھنے کی عادی نہیں ہے۔ ہمیں یاد ہے کہ پچھلے تمام آرڈرز سوائے گنتی کے چند افراد کے علاوہ ممبران اسمبلی سمیت کسی نے نہیں پڑھے تھے اور امید قوی ہے کہ آئندہ جو بھی سیٹ اپ آئے گا وہ بھی کوئی نہیں پڑھے گا۔جو لوگ آڈر کے فضائل بیان کرتے ہیں وہ بھی آڈر کو پڑھے بغیر اپنی پارٹی یا حکومت کی محبت کے مرض میں مبتلا ہونے کا ثبوت دے رہے ہیں۔ جو لوگ مخالفت کرتے ہیں وہ بھی سنی سنائی باتوں پر اکتفا کرتے ہیں۔ ضروری نہیں ہے کہ گلگت بلتستان کا ہر شخص آرڈر کا مطالعہ کرے ۔ مگر ان لوگوں کا اس آرڈر کو نہ پڑھنا باعث تعجب ہے جو اس موضع پرسیاست کرتے ہیں یا اس موضع پر کام کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

حکومت کا بھی کوئی جواب نہیں جو پندرہ روز قبل سوشل میڈیا پر وئرال ہونے والے ڈرافٹ کو غیر حتمی قرار دیتی ہے مگر اصل آرڈر کو سامنے لانے سے کتراتی ہے۔اس پر مستزاد یہ کہ حکومت نے سارا کریڈٹ خود لینے کے چکر میں اپوزیشن کو نیاء آرڈر کی تیاری کے دوران قبل از وقت اعتماد میں نہیں لیا۔ ظاہری بات ہے اس صورتحال میں لوگ خاموش تو نہیں رہ سکتے۔ اس لئے جن جن لوگوں نے شور مچانا ہے یا سیاست کرنی ہے وہ کر رہے ہیں مگر بہت ہی کم تعداد میں پڑھا لکھا اور غیر جانبدار ایک طبقہ اب تک انتظار میں ہے کہ جب آرڈر آ ئے گا تو پڑھ کر اپنی رائے دیں گے۔

جو لوگ اختیار یا حقوق کی بات کرتے ہیں ان کی خدمت میں عرض ہے وہ اختیار یا حقوق کوئی مٹھائی نہیں جو گھڑی باغ میں لاکر تقسیم کی جائے گی۔ بلکہ کوئی بھی نظام ہمیشہ ڈاکو منٹ کی شکل میں ہی ہوتا ہے ۔ وہ ڈاکومنٹ وفاق بنا کر بھیج دے یا گلگت بلتستان اسمبلی خود بنا لے مگر ہو گا وہ ایک ڈاکو منٹ ہی۔اس ڈاکومنٹ کی خوبیاں اور خامیاں جاننے کے لئے اس کو پڑھنا لازمی ہوگا۔ پا کستان میں وہ دستاویز آئین پاکستان ہے جبکہ گلگت بلتستان کانظام مختلف اوقات میں متعارف کرائے گئے آرڈرز کے تحت چلتا رہا ہے ۔ جو اختیارات یا حقوق ہمیں آئندہ بھی ملیں گے وہ ایسی ہی ایک دستاویز کی شکل میں ملیں گے جو پہلے ملتے رہے ہیں۔ ایسا نہیں ہو گا کہ ایک اعلان کے ساتھ ہی پورا گلگت بلتستان بیک جنبش ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہو گا بلکہ ایک دستاویز ہوگی جس پر بتدریج عمل ہوگا۔

نظام کی درستگی اور اس میں بہتری کے لئے رائج الوقت نظام کا مطالعہ ضروری ہے تاکہ اس کی خامیوں اور خوبیوں کو ایک ایک کر کے بیا ن کیا جاسکے اور ضرورت پڑنے پر خود سے نیاء نظام تجویز کیا جا سکے۔ نیاء نظام تجویز کرنے کے لئے بھی ایک خاص قسم کی اہلیت درکار ہوگی ۔ صرف ہوا میں تیر چلانے کا عمل جاری رہا تو اس کا فائدہ نہیں ہوگا ۔ اس وقت موجودہ آرڈر کا صرف نام تبدیل کر کے کشمیر طرز کا سیٹ اپ یا گلگت بلتستان گورننس ایکٹ یا عبوری آئین بنانے جیسے ایک اعلان سے معاملہ رفع دفع ہوسکتا ہے مگر پانچ سال کے بعد معلوم ہوگا اس کے اندر خوبیوں سے خامیاں زیادہ تھیں۔جیسے گورننس آرڈر ۲۰۰۹ ؁ء کے بارے میں آج لوگوں کو پتا چلا ہے کہ وہ ناکافی ہے جبکہ اس وقت لوگ اس کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملاتے تھے۔

لوگوں کا اپنے اختیار اور حق کے لئے احتجاج کرنا درست ہے مگر زیادہ اہم یہ ہے کہ اپوزیشن موجودہ آرڈر کے مقابلے میں ماہرین کی مدد سے اپنا ایک ڈرافٹ تیار کرے اور اس کو عوامی تائید کے ساتھ وفاق کے سامنے پیش کرے تاکہ وفاق سے اس کے ایک ایک نقطے پر بات ہو سکے۔ اس مجوزہ نظام کو کشمیر طرز کا سیٹ اپ کا نام دینا ہے ، عبوری صو بہ کا نام دینا ہے یا کوئی اور نام دینا ہے وہ بھی تجویز کیا جائے۔ تنازعہ کشمیر کومتاثر کئے بغیر ایک قابل عمل نظام کی تشکیل ممکن ہے ۔ زیادہ سے زیادہ حقوق اور اختیار کا حصول بھی ممکن ہے مگر اس کے لئے شرط ہے کی گلگت بلتستان کی حکومت اور اپوزیشن ایک پیج پر ہو ں اور اپنی مکمل تیاری کے ساتھ وفاق سے معاملے پر مذاکرات کرے۔ سیاست ہوتی رہی گی مگر گلگت بلتستان کے لوگوں اور آنے والی نسلوں کا مستقبل کا درست فیصلہ کرنا سب سے زیادہ اہم ہے۔ حکومت کو اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے نہ صرف نیاء آرڈر کو پبلک کرنا چاہئے بلکہ اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کے زریعے اس مسلے کے بہترسے بہتر حل کی طرف پیش قدمی کرنی چاہئے۔ گلگت بلتستان کی حکومت اور اپوزیشن اگر ایک پیج پر آجائیں تو وفاق سے اپنی بات منوائی جاسکتی ہے۔ مسلم لیگ کو اپنی انا کا بت توڑ کر اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنا چائیے۔ اس کے لئے زراء سی سمجھ بوجھ کی ضرورت ہے۔طے یہ ہونا چاہئے کہ حکومت اور اپوزیشن کو اپنی اپنی سیاست کرنی ہے یا گلگت بلتستان کے نظام کوٹھیک کرنا ہے۔ اگر سیاست ہی کرنی ہے تو یہ سمجھنا لازمی ہے کہ بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی گلگت بلتستان کے حق میں نہیں ہے۔ اپنی اپنی سیاست چمکانے کے چکر میں آخر میں کچھ ہاتھ نہیں آئے گا کیونکہ پچھلے اور موجود ہ دونوں آرڈرز میں یہ شق موجود ہے کہ اندرونی اور بیرونی خطرات کے پیش نظر وزیر اعظم پاکستان کونظام لپیٹ کر گلگت بلتستان میں ایمر جنسی نافذ کرنے کا اختیا ر بھی حاصل ہے۔#

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments