انتخابات کرسی کیلئے، تحریکیں ملک کے لئے

تحریر:اشرف جہانگیر قاضی
ترجمہ : فدا حسین

آئندہ عام انتخابات میںووٹرز کے لئے قومی رہنماؤں میں سے ایک انتخاب کے سلسلے میں تین قسم آپشن موجود ہیں۔ ایک حالیہ تحقیق کے مطابق ان رہنماوں میں سے دوسرے اور چوتھے بلتریب امیرتریں پاکستانی ہیں ان دونوں (قسم) رہنماؤں نے مبینہ طور پر بیرونی ملکوں میں اربوں ڈالر کے اثاثہ جات چھپا رکھے ہیں اور تیسرا  نمائندہ  (بھی) اسی ملک کا ہی امیر تریں شخص ہے۔

ایسے دوسرے اور چھوتھے درجے کے امیرلوگوں کو باقاعدہ حکمت عملی کے تحت جہالت اور غربت میں دھکیلے گئے لوگوں کے ملک پر محض مالی فوائد کیلئے نمائندے کے طور پر قبول کرنا بہت مشکل ہوگا۔(کیونکہ ) انہوں نے یہ وسیع دولت قابل اعتبار عوامی عہدوں پر فائز رہ کر بنائی ہے۔(تاہم)ووٹرز کے لئے مذکورہ آپشن کے علاوہ(ایک) اور آپشن (بھی) بلکل ووٹ نہ دینا ،ووٹ صرف اہلیت والے امیدوار کو دینا،مذکوہ میں سے کسی کو بھی ووٹ نہ دینا،وغیرہ ہمارے بلیٹ پیپر ہر تحریر ہونا چاہے۔اس تجربے سے سیاست کی صحیح صورتحال عوام کے سامنے آئے گی ۔

مجموعی طور پر پاکستان کی موجودہ سیاسی دنگل میں بری طرح مفلوج اور رنجیدہ لوگوں کے علاوہ کوئی نیک (باصلاحیت ) شخص نہیں ہے۔اگرچہ کچھ ایسے ہیرو بھی موجود ہیں جنہیں پہچان کر آگے لانے کی ضرورت ہے۔ یہ چند  ایسے اصلی موتی ہیں جو قوم کو پر امید اور متاثرکن رہنمائی فراہم کر کے تابناک مستقبل سے جوڑ سکتے ہیں ۔یہ لوگ براہ راست اس مسلسل مکروہ نفرت کے بھینٹ بھی چڑتے ہیں۔

کسی بھی سیاسی جماعت کے پاس پختون تحفظ موومنٹ کے لوگوں کو درپیش جیسے سنجیدہ مسائل کے حل کا کوئی طریقہ کار موجود نہیں ہے۔بلوچستان کے لوگوں کی طرح باعزت انصاف کے حصول کیلئے تحرکیں فاٹا اور خیبرپختونحواہ کے علاوہ پورے پاکسان میں پھیل چکی ہیں۔جن کا داعش کی طرز تحریکوں شکل اختیا رکرنے کا خدشہ ہے۔

پاکستان میں ناگفتہ سیاسی صورحارتحال سیاسی رہنماؤں کا ایک دوسرے کی بے توقیری مسائل پر مخلصانہ اور سنجیدہ گفتگو کے بجائے دشنام درازی اور الزامات معلق اور بے اختیار پارلیمنٹ اقتدار  کے حصول کے لئے خوشامدی، اشاروں کنایوں میں جملے کسنے روایت کی بحالی ،تفریق پیدا کرنے کیلئے مذہب کا استعمال، مخصوص نظریا ت کی شدت، جہالت پر علم کی مرصع نگاری ، لاشعوری بدعنوانیاں، دغابازیاں،انتخابات کا مطعوں شدہ لوگوں کے لئے تفریح کا باعث ہونا،جبری گمشدگی، مسخ شدہ لاشیں جھوٹ حقیقت کے برعکس اعداد و شمار کا اجرا، اشرفیہ کی توہین، اور عام پاکستان کا خوف کے عالم میں اپنے حقوق کے لئے کھڑے ہونے سے عبارت ہے۔

جن لوگوں پر معصوم بچوں ، خواتین اور اقلیتں کی تحفظ کی زمہ داری ہے وہ انہیں انتہا پسندوں، بدکاروں اور اکثر اوقات عزت اور مذہب کے نام قتل ہونے سے بچانے میں ناکام ہیں۔ ان میں سے کسی نے بھی  فنڈنگ کرنے والے غیر ملکی آقاؤں کے ناجائز مطالبات اور پاکستان کی خودمختارمفادات کو زک پہنچانے والے مداخلت کاروں کو نہیں روکا۔درایں اثنا میڈیا کو ایسے معاملات میں خود اپنے آپ ہی نمٹنے کیلئے کہا جاتا ہے۔

جمہوریت کی عمارت ان بنیادوں پر  رکھنے کی کوشش سے (جمہوریت ہی) مشکوک ہوگی(کیونکہ) دہشت گرد اپنی مرضی سے یا کسی کے اشارے پر یا کسی کو انتخابی مہم چلانے کا موقع دے رہے ہیں تو کسی روک رہے ہیں کم بیش یہی صورتحال 2013میں بھی تھی۔ تاہم آج اس کے پس منظر اور ترجیحات میں تبدیلی ضرور ہوئی ہے۔

تاہم اس ملک کے پیسے ہوئے محروم اور استحصال کا شکار لوگوں کو درپیش گہرے اور سنجیدہ مسائل اسی طرح برقرار ہیں۔ اس طرح کی تحریکوں کی نمائندگی کا دعوی کرنے والے کرنے والی جماعتوں کی کارکردگی ان دعوؤں کے برعکس مشکوک (ہی) ہے۔ ابھی تک پختوں تحفظ موومنٹ کوئی سیاسی جماعت نہیں ہے۔

اشرافیہ طبقے کی ترجیحات کو مسلط کرنے کے لئے سیاسی نظام میں مداخلت کی وجہ سے ملک کی سیاسی و معاشی ترقی کو ہی ناکام بنادیا ہے۔اس طرح کے مداخلت نے ملکی سیاسی نظام میں بحران اور احساس عدم تحفظ میں اضافہ اور ملک کوغفلت و لا پرواہی میں مبتلا کر دیا ہے۔ جس سے یہ حقیقت عیاں ہو جاتی ہے کہ چند اچھے اور قیمتی لوگوں کے علاوہ باقی تمام  بڑے بڑے سیاسی چمپینز کو ان حقیقتوں نے شکست سے دوچارکر دیا ہے۔

ان لاکھ پاتی رہنماں کے مقابلے کم مالدار مگر ایماندار لوگوں سیاسی منظرنامے میں آمد نے انہیں شہرت میں کمی کے الزامات کے باجود پڑھے لکھے متوسط طبقات کے ووٹ سے جیتنے کے امکانات ہیں۔ جن کی جیت  ان نوجوانوں کے لئے نئے امکانات پیدا کرنے کے موجب بنے گی۔ اگرچہ یہ آسان کام نہیں ہوگا۔کچھ غیر مرئی قواتین ان کی ناتجربہ کاری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی مرضی کے فیصلے کروانا چاہتی ہیں۔اس مقصد کے حصول کیلئے ان کی کوشش ہوگی کی کسی ایک سیاسی جماعت کو اکثریت حاصل ہونے کے بجاے مخلوط طرز کی حکومت بنے تاکہ ان کو اپنے مقاصد کے حصول سے دور رکھا جا سکے۔اس طرح کی توقعات کے ساتھآنے والوں کو جلد بدیر دوبارہ ناامیدی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ درایں اثنا کسی مناسب تدبیر کے بغیر دوسروں کے اشاروں پر ہونے والے اجتماعات قوم پر 2050تک آفات کی صورت بن جاے گی۔ اس طرح کی سیاست کی صورت میں دشمن کی کیا ضرورت ہو گی؟

اس تمام تر صورتحال میں جمہوریت کا کیا مطلب ہے ؟ا س کی وکالت کرنے والے اس کے مقاصد اور طریقہ کے حوالے سے پائے جانے والے تضاد کی وجہ سے ابہام کا شکار ہیں۔ جمہوریت کی منزل اس کے طرز عمل پر منحصر ضرور ہے مگر یہ طرز عمل بذاک خود منزل ہرگز نہیں ہے۔سیاسی تحریکیں  سیاسی ریاستوں میں جمہوریت میں کی علامت /روح  ہوتی ہیں۔جمہوریت بہتر طرز حکمرانی اور تمام لوگوں کو سیاسی عمل میں شمولیت اختیار کرنے سے روکنے کے لئے قائم کی گئی روکاٹوں پر قابو پانے کا نام ہے۔

اس طرح تحریکوں کے بغیر جمہوریت کا دعوی اور انتخابات کا انعقاد جہوریت کی راہ میں حائل  متعدد رکاوٹوں میں سے کسی ایک کو چنے کے سوا کچھ بھی نہیں ہے(کیونکہ )یہ کوئی سیکھنے کا عمل نہیں ہے(بلکہ) دراصل یہ پائدار جمہوریت اور ترقی کا ڈھونگ رچانے کیلئے ہے۔ روایتی معاشروں میں جدیدجمہوریت کے اصولوں کو رائج کئے بغیر سماجی حالت اور انسانی وسائل میں بہتری سے نہیں آتی ہے ۔ اس سلسلے میں بھارت کی مثال جزوی استثنیٰ کے ٹھیک ہے۔باری باری سے اقتدار حاصل کرنا ایک تکنیکی مراحلہ ضرور ہے مگر یہ سیاسی و سماجی طرز عمل کا نعم البدل ہرگز نہیں ہو سکتا۔ کسی اس کا خاکہ تو چوری کی جاسکتی ہے مگر اس کا سیاسی تجربہ، سماجی تاریخ اور دانش مند قیادت چوری کرنا ممکن نہیں ہے۔ سماجی و سیاسی کوششوں کے بغیر محض محض باری باری سے اقتدار حاصل کرنے سے معاشی ناہمواریوں اور سماجی عدم مساوات کو جنم دینے کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔

اس طرح ظاہری انتخابات کے انعقاد اور جمہوریت کو ڈھونگ رچانے سے سیاسی پہلوؤں میں بہتر ی نہیں آسکتی جس میں لوگوں کے پرانے مسائل کے حل اور دیرانہ شکایت کا ازلے کے لئے بجٹ مختص کرنے  کے طریقہ پر نظر ثانی  وغیرہ شامل ہیں۔لڑکھڑاتی ڈگماتی انتخابی نظام کے باوجود اس طرح کے انتخابات کا انعقاد استحصالی نظام کے ذریعے اقتدار کے حصول کے مروجہ طریقہ کار کو دوبارہ مسلط کرنے کی خواہش کا مظہر ہے۔جو پاکستان میں سیاسی جمود پیدا کرنے کے موجب بن رہے ہیں۔

فلاحی ریاستوں میں اس قسم کی صورتحال کا برداشت نہیں کی جاتی ہیں ۔جمہوریت  کو مقدس گاے سمجھ اس کے  اصل یا نقل بحث نہیں کرائی جاتی۔ تاہم لی کیون یو (سنگاپور کے پہلے وزیر اعظم  16نومبر1923تا23مارچ2015) نے اس طرح کی جمہوریتوں کو  رائل راکی کار سے تشبہی دی ہے۔ یہ کار سٹرک چلتے ہوئے صرف انہی لوگوں کو اچھی لگتی ہے جو اسے خریدنے اور اس کے دیکھ بھال کرنے کی  بھی سکت رکھتے ہوں۔اس لئے طرح گاڑیاں خریدنا بدتریں سرمایہ کاری ہوگی ۔پاکستان میں ایسی رائل راکی کار سیاسی رہنما چلاتے ہیں جبکہ اس کی قمیت اور ٹیکس (دونوں)عوام ادا کرتے ہیں۔اس طرح کے سیاسی میلوں کے باوجود پاکستان میں انتخابات اس وقت تک وقعت نہیں رکھتا جب تک ان انتخابات اور تحریکوں کا (آپسس میں )اتصال نہ ہو جو انتخابات کے بعد بھی جاری رہتی ہیں کیونکہ  انتخابات اقتدار کے حصول کے لئے ہوتی ہیں جبکہ تحریکیں پاکستان کے لئے ہوتی ہیں ۔

بشکریہ : ڈان

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments