عبدل اکبرچترالی عام انتخابات میں‌قومی اسمبلی کے لئے متحدہ مجلس عمل کا امیدوار

چترال ( محکم الدین ) الیکشن 2018کیلئے متحدہ مجلس عمل کی طرف سے NA-1 چترال کیلئے سابق ایم این اے چترال اور جماعت اسلامی کے رہنما مولانا عبد الاکبر کو نامزد کیا گیا ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ جماعت اسلامی کی طرف سے مولانا چترالی کا نام بہت پہلے نامزد کیا گیا تھا ۔ تاہم ایم ایم اے کے قیام کے بعد قومی اور صوبائی سیٹوں کی تقسیم کے فیصلے کا انتظار تھا ۔ جس میں بالاخر قومی سیٹ جماعت اسلامی کے حصے میں آیا ۔ اس کے بعد جماعت اسلامی نے مولانا عبد الاکبر کو قومی اسمبلی حلقہ این اے چترال 1 کیلئے بطور امیدوار نامزد کرنے کا حتمی فیصلہ کیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق مولانا چترالی اس فیصلے کے بعد کاغذات نامزدگی داخل کرنے کیلئے پشاور سے چترال روانہ ہو گئے ہیں ۔ اور کل بروز ہفتہ یا اتوار کے روز کاغذات نامزدگی داخل کریں گے ۔ دوسری طرف ایم ایم اے کی صوبائی سیٹ PK -1 چترال جو جے یو آئی کے حصے میں آئی ہے ۔ کے امیدوار کی نامزدگی تا حال نہیں ہوئی ہے ۔ جس کیلئے جے یو آئی کے کئی امیدواروں نے درخواستیں جمع کی ہیں ۔ اُن میں سابق ایم پی اے چترال مولانا عبدالرحمن ، ضلع نائب ناظم مولانا عبد الشکور ، مولانا حسین احمد اور موالا ہدایت الرحمن قابل ذکر ہیں ۔ درین اثنا مولانا عبد الاکبر کیلئے انتخابی قرعہ نکلنے کے بعد ضلع ناظم چترال حاجی مغفرت شاہ کی الیکشن کیلئے بطور امیدوار نامزدگی سرد پڑ گئی ہے ۔ چترال میں الیکشن 2018 کیلئے مولانا عبدالاکبر وہ پہلے امیدوار ہیں جن کی نامزدگی اُن کی پارٹی کی طرف سے سب سے پہلے کی گئی ہے ۔ جبکہ دیگر پارٹیاں تاحال مخمصے کا شکار ہیں ۔ پاکستان مسلم لیگ ن ،پاکستان پیپلز پارٹی ، پاکستان تحریک انصاف اور اے این پی کی طرف سے امیدواروں کے حتمی ناموں تاحال انتظار ہے ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments