تحریک انصاف کا بدلا ہواخیبر پختونخواہ

تحریر۔اسلم چلاسی

تحریک انصاف کی حکومت سے قبل خیبر پختونخواہ ایک ایسا صوبہ تھا جہاں قانون کی گرفت کمزور تھی ۔مکمل طور پر شورش زدہ علاقہ ہونے کی وجہ سے عوام میں عدم تحفظ کا احساس ہونے لگا تھا ۔دہشت گردی کی وجہ سے عوام میں سخت بے چینی پائی جاتی تھی ۔ستر سالہ روایتی کرپٹ نظام اپنے جوبن پر تھا ۔ سرکاری ادارے سیاسی اکھاڑہ بن چکے تھے ۔ تمام بھرتیاں سیاسی یا پھر زور زر کی بنیاد پر ہوتی تھی۔قابلیت اور اہلیت پورے ملک کی طرح یہاں بھی کوئی اہمیت کے حامل شے نہیں تھے۔ سرکاری ملازمین سیاسی اثر رسوخ کے بنیاد پر یا پھر متعلقہ محکمہ سے ملی بھگت کر کے سالوں تک ڈیوٹی سے غیر حاضر رہ کر مراعات برابر حاصل کرتے تھے ۔کچھ سر کاری ٹیچرز متدت ملازمت پوری کر گئے مگر ایک دن بھی ڈیوٹی سر انجام نہیں دی ۔ملاکنڈ کے مختلف علاقوں میں سرکاری عمارتوں یعنی کہ سکول اور ڈسپنسریوں میں مویشیاں باندھ دیتے تھے یا پھر سر کاری املاک کو زاتی حجرے کے طور پر استعمال کرتے تھے ۔اصلحہ اور منشیات کی ترسیل کا کنٹرول روم خیبر پختونخواہ کو تصور کیا جاتا تھا ۔یہاں سے ہی ملک بھر کیلے غیر قانونی اصلحہ اور منشیات کی سمگلنگ کی جاتی تھی ۔جس سے پورا ملک متاثر ہوتا تھا۔غیر قانونی اور چوری شدہ گاڑیوں کی ٹمپرنگ کر کے ایجنٹوں کے زریعے ملک کے مختلف حصوں میں پہنچا دیے جاتے تھے۔یہاں پر گاڑیوں کے اورجنل کا غزات کے جعلی نقول بھی ایسے مہارت کے ساتھ تیار کیے جاتے تھے کہ اصل اور نقل میں کوئی فرق محسوس نہیں کیا جاسکتا تھا۔جعلی ادوایات تیار کرنے والی فیکٹریاں سمیت زیدالمیعاد اشیاء کی فروخت کوئی جرم نہیں تھا ۔ترقیاتی کاموں کے نام پرکل رقم کا ستر فیصد حصہ ڈاکمنٹیشن یا پھر رشوت میں اڑا دیا جاتا تھا اپر سے غیر معاری مٹیریل کا استعمال بھی عروج پر تھا ۔ایسے میں تحریک انصاف کی حکومت کیلے انتہائی کڑیل چیلنجز کا سامنا تھا ۔ محدود بجٹ اور بے شمار مسائل کے باوجود تحریک انصاف کی جاندار حکمت عملی نے ان تمام معاملات پر قابو پا یا اور پہلی مرتبہ روایتی سیاسی حکمرانی کی بیخ کنی کرتے ہوئے گزشتہ ستر سالوں کی گند کو اس کمال مہارت کے ساتھ صاف کردی کہ دیکھتے ہی دیکھتے پانچ سال کے قلیل عرثے میں مزکورہ بالا تمام خرافات کا خاتمہ کر کے پورے صوبے کے تمام شعبوں کو قابل فخر بنا دیا۔صوبے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ تمام شعبوں میں سرکاری نوکری کیلے این ٹی ایس کا ٹیسٹ پاس کرنا لازمی قرار دیا گیا اور اس صوبے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اہلیت اور قابلیت کی بنیاد پر سر کاری شعبوں میں بھرتیاں کی گئی اب کے بار ایسے غریب لوگ سرکاری نوکری کے حقدار ٹھہرے جن کے پاس نہ تو سفارش تھی اور نہ رشوت کیلے زر تھا ۔جن سکولوں اور صحت کے یونٹوں کو لوگ اپنے زاتی مقاصد کیلے استعمال کرتے تھے ان کو دوبارہ رن کرتے ہوئے کے پی کے کی عوام کو بنیادی علم اور بہتر صحت کا حقدار ٹھہرایا گیا۔تمام غیر قانونی سرگرمیوں کو بند کرتے ہوئے بدعنوان اور قانون شکن عناصر کا گیرا تنگ کردیا سیاسی بنیادوں سے ہٹ کر قابلیت اور اہلیت کے بنیاد پر تمام اداروں میں تعیناتیاں کی گئی سیمنار اور ورکشاپس کے زریعے عملے کی بہترین تربیت کی اخلاقیات کا دائرہ اور قانون کا حد بتا یا گیا۔ عوام میں ان کے جائز حقوق اور فرائض کی ادائے گی کا شعور اجاگر کیا گیا وہ صوبہ جہاں رشوت اور سفارش کے بغیر کوئی معمولی سا کام بھی حل نہیں ہوتا تھا عوام بھی رشوت دینے کی عادی ہوگئی تھی مگر اب یہاں نہ کوئی رشوت دینے والا ہے اور نہ رشوت لینے والے باقی رہ گئے ہیں ۔جزا و سزا کا ایسا نظام متعارف کیا گیا ہے کہ بدعنوانی اور رشوت خوری کے تمام دروازے ہمیشہ کیلے بند ہو چکے ہیں ۔مساجد کی رجسٹریشن کر کے تمام مسجد امام کو معقول وظیفہ مقرر کر کے ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ دینی اور روحانی خدمت کرنے والو ں کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے اب یہاں کوئی مسجد امام بیروز گار نہیں ہے اور نہ ان کو کسی سے مالی مدد لینے کی ضرورت ہے۔مساجد و مدارس کے نام پر چندہ لینا اور دینا قانونی جرم قرار دیا گیا ہے بلکہ سر کار کی طرف سے دینی مدارس کی ضروریات پوری کرنے کی کوشش بھی کی گئی ہے ۔جامعہ حقانیہ جس میں بیک وقت ہزاروں طلبہ زیرے تعلیم رہتے ہیں ان کی نصاب میں بہتری لا کر ایک کنٹریکٹ کے زریعے مالی مدد کی گئی ہے اب جا معہ حقانیہ کے فاریغ اتحصیل طلبہ نہ صرف مسجد امام بن کر صرف نمازیں اور جنازے پڑھا ینگے بلکہ ڈاکٹر اور انجینئر بھی بن جائنگے۔دوسری طرف عصری تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم کو بھی لازم قرار دیا گیا ہے دینی اور عصری تعلیم میں نصابی اصلاحات کے زریعے ایسی تبدیلیاں لائی گئی ہے کہ دین و دنیاں آپس میں لازم و ملزوم قرار پائے ہیں ۔ترقیاتی کاموں میں معیار کو ملحوظ خاطر رکھ کر کمیشن کے دروازے ہمیشہ کیلے بند ہ کر دئے گئے جس سے روائتی کاروباری سیاستدانوں کو بہت بڑا دہچکا لگا اور ان کی برسوں سے جاری لوٹ مار کے دروازے ہمیشہ ہمیشہ کیلے بند ہو گئے اس پر پارٹی میں موجود کچھ دودھ پینے کے عادی مجنونوں نے علم بغاوت بلند کیا اور کچھ کی دال نہ گلی تو پارٹی چھوڑ کر کمیشن خور پارٹیوں میں شمولیت اختیار کی ۔بجلی کی فراہمی اورپانی کی تقسیم کا ایسا اصول وضح کیا گیا کہ شدید قلت کے باوجود بھی کوئی بحران پیدا نہیں ہوا۔ ۔۔۔۔۔ جاری ہے

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments