حساب لینا بھی جانتا ہوں!

شہزاد علی برچہ

حساب دینا بھی جانتا ہوں
حساب لینا بھی جانتا ہوں

میرے وطن کے مجاہدوں نے

جو اپنا خون جگر بہا کر

یہ سارا جنت نظیر خطہ

تجھے اٹھا کر عطا کیا تھا

تمہاری دھرتی کو جب کبھی بھی

دفاع کی خاطر بقا کی خاطر

لہو کے قطرے کی تھی ضرورت

تو میری دھرتی کے ہر جوان نے

لہو بہا کر,  سر بھی کٹا کر۔۔

ہر اک سرحد کی پاسبانی

سمندروں سے گلیشیئروں تک

اپنی جانیں دے کے کی ہے

مگر

مجھے ہوا ہے شدید صدمہ

تمہارے سرکار کا ملازم۔۔

حساب مانگتا پھر رہا ہے۔۔۔

حساب دینا بھی جانتا ہوں

حساب لینا بھی جانتاہوں

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments