بلاگز

” موت کا تعاقب”

تحریر: فیض اللہ فراق

 جہاز کرش۔۔۔ ہمارے اعصاب کو معطل کر چکا ہے۔۔ ذہن اور نفسیات پر گہرے اثرات چھوڑ گیا ہے۔۔ ہر آنکھ اشکبار ہے، ہر فرد ماتم کناں ہے۔ زندگی کا لٹا پیٹا قافلہ ایک بار پھر خالق دو جہاں  کی طرف رجوع کرنے میں عافیت سمجھ رہا ہے۔  زندگی ایک سفر ہے اور انسان اس کا مسافر، اس سفر کا تھکا ہارا مسافر ایک چھاوں کی تلاش میں تو رہتا ہے مگر خود کو مسافر نہیں سمجھتا اور یہی انسان کی سب سے بڑی غلطی ہے۔ یہ مسافر اپنے آپ کو زمین کا مالک سمجھتا ہے، زندگی کو دائمی سمجھتا ہے اور زمین اپنی ملکیت تصور کرتا ہے۔۔۔ عجیب خمیر کا انسان ہے، درجنوں اپنوں کی میتوں کو کاندھا دینے کے بعد بھول جاتا ہے کہ کل اس کی لاش بھی کسی کاندھے کی محتاج ہوگی۔۔ بھول جاتا ہے کہ کل اس کو بھی کفن میں لپیٹ کر مٹی کے سپرد کر دیا جائے گا۔۔۔ وہ مٹی جس پر یہ انسان اکڑ کر چلتا ہے۔۔۔ دولت کا غرور اور عہدے کی طاقت کو حتمی خیال کرتا ہے۔۔۔ اپنوں سے ملاقات میں دیر کرتا ہے، محبتوں میں تاخیر کرتا ہے مگر موت تو تعاقب میں ہے یہ کسی کا انتظار نہیں کرتی۔۔۔ یہ اپنے وقت پر دبوچ لیتی ہے، موت جوانیاں نہیں دیکھتی، موت سٹیٹس کا خیال نہیں رکھتی، موت دولت سے خائف نہیں ہوتی اور موت عہدے کا لحاظ کب رکھتی ہے۔۔۔ موت اٹل ہے۔۔ زندگی کا  موجودہ  لمحہ فنا ہے۔۔ ہاں! البتہ  روح کا سفر قیامت تک جاری ہے۔۔ یہ روح عالم ارواح میں زندہ تھی۔۔ ماں کے پیٹ میں سالم تھی اور دنیا میں بھی زندہ و جاوید ہے اور دنیا سے پردہ کرنے کے بعد میں بھی حیات پائے گی۔۔۔ جسم نے مرنا ہے۔۔۔فنا ہونا ہے۔۔۔ مٹنا ہے۔۔ ملیا مٹ ہونا ہے۔۔۔ مگر افسوس ہماری ساری عمر جسم کو سنوارنے میں لگ جاتی ہے۔۔۔ ہم زمین پر کبھی کرنل کی بیوی، کبھی جج کا بیٹا، کبھی سیاستدان کی اولاد، کبھی صحافی کا شجرہ اور کبھی بیورو کریٹ کا بیٹا اسلئے بنتے ہیں کیونکہ ہم جسم کی پرورش کرنی ہے۔۔ ہم گھمنڈ کے حصول کیلئے اور دبدبے کا شوق اسلئے پالتے ہیں تاکہ جسم کی افزائش نسل ہو۔۔ ان تمام چیزوں کا روح سے کوئی تعلق نہیں۔۔۔ جہاز کرش۔۔۔۔ دلخراش ہے اور نہ بھولنے والا حادثہ ہے لیکن خوش قسمت ہیں یہ مسافر جن کی روحیں رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں جمعتہ الوداع کے روز پرواز کر گئی ہیں۔۔ مرحومیں کی لاشیں سلامت نصیب ہوں یا نہیں۔۔۔ ان کی روحیں سالم ہیں۔۔۔ اللہ مرحومیں کو جنت میں اعلی مقام اور پسماندگان کو صبر کی دولت سے مالامال کرے۔۔۔اس دلخراش حادثے سے ہمیں پیغام ملتا ہے کہ ہم اپنی ساری کوشیش روح کی حفاظت کیلئے کریں کیونکہ ہم سب اسی رستے کے مسافر ہیں بس ٹائم فریم کا فرق ہے کوئی پہلے کوئی بعد میں۔۔۔ اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو۔۔۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments

متعلقہ

Back to top button
%d bloggers like this: