اراضی تنازعہ، چلاس میں‌دو قدیمی و پشتنی قبائل آمنے سامنے، پتھراو کے نتیجے میں‌دو افراد شدید زخمی، 10 افراد کے خلاف مقدمہ درج

چلاس(ڈسٹرکٹ رپورٹر)ڈی ایچ کیو ہاسپٹل چلاس  سے ملحقہ اراضی تنازعہ شدت اختیار کر گیا۔چلاس کے دو قدیمی و پشتنی باشندے بٹوخیل قبائل اور سونی والی قبائل آمنے سامنے آپس میں تصادم پتھراو کے نیتجئے میں دو افراد شدید زخمی۔10 افراد کے خلاف مقدمہ درج۔تفصلات کے مطابق ڈی ایچ کیو ہسپتال چلاس سے ملحقہ ہرپن داس میں ہزاروں کنال متنازعہ اراضی کا مقدمہ بٹوخیل قبائل اور سونی وال  قبائل کے مابین کیس عدالت میں زیر سماعت ہے۔دونوں فریقین کا اراضی پہ جھگڑا تقرینا 10 سال سے عدالت میں ہے تاہم تنازعہ اس وقت دوبارہ شدت اختیار کر گیا جب متنازعہ اراضی پہ پہلے بٹوخیل قبائل اور بعد ازاں سونی وال قبائل نے قبضہ کیا  اور تعمیراتی کام شروع کیا۔کام کی اطلاع پہ بٹوخیل قبائل مشتعل ہوگئے اور چلاس بازار میں دو مختلف واقعات میں سونیوال قبائل کے دو اہم رہنماوں کو زدکوب کیا اور خوب تشدد کا نشانہ بنایا۔ بعد ازاں سونی وال قبائل نے انتقامی کاروائی کرتے ہوئے ہاسپٹل چوک میں جمع ہوکر گاڑیوں کی تلاشی لی اور بٹوخیل قبائل کے طالب علم کو زدوکوب کیا۔واقع کی اطلاع ملتے ہی دیامر پولیس نے داخلی اور خارجی راستوں پہ ناکہ بندی کر کے سکورٹی سخت کر دی اور مختلف واقعات میں ملوث 10افراد کے خلاف مقدمہ درج کر دیا۔
دیامر کے سیاسی سماجی اور مذہبی حلقوں نے علاقے کو مزید کسی جانی یا مالی نقصان سے بچانے کے صوبائی حکومت کو کردار ادا کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مختلف قبائل میں جاری تنازعہ پہ بروقت اور فوری مداخلت نہ کرنے کہ صورت میں واقعہ مزید بدنظمی کی طرف بڑھ سکتا ہے صوبائی حکومت دونوں قبائل کے مسایل حل کرنے کے لئے کردار ادا کرے۔تاہم ماضی میں بھی اراضی تنازعہ سونی وال قبائل اور بٹوخیل قبائل میں ہونے پہ فوری اور بروقت روک تھام نہ ہونے سے جانی و مالی پریشانی  کا سامنا کرنا پڑا ہے۔۔
Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments