غذر پولیس عورتوں کی عزت کرنا سیکھے، پانی کی بندش کے خلاف احتجاج کرنے والی خواتین کے ساتھ بدتمیزی کی مذمت کرتے ہیں، ماں‌فاونڈیشن

گلگت لیڈی رپورٹر) اکیسویں صدی میں بھی عورت ذات کی تضحیک اور تذلیل معاشرتی پستی اور جہالت کی انتہاہے اِن خیالات کا اظہار ماں فاؤنڈیشن (رجسٹرڈ) گلگت بلتستان کی چئیر پرسن یاسمین افضل اور وائس چیرپرسن شازیہ شوکت نے گُذشتہ دنوں ضلع غذر کے یاسین طاؤس میں خواتین کے پانی کی بندش کے مسئلے پر گئے احتجاج پر غذر پولیس کی لاٹھی چارج اور خواتین سے بدتمیزی کے واقعے کی مذمتی بیان میں کیا ہے۔اُنہوں نے کہاہے کہ مہذب معاشروں بلخصوص اسلامی معاشروں میں عورتوں کی عزت کیجاتی ہے لیکن صدافسوس ہے کہ اکیسویں صدی کے اس ترقی یافتہ دور میں بھی ہمارے معاشرے میں خواتین کے ساتھ نارواسلوک اور تضحیک کی جاتی ہے جو کہ معاشرے کی پست ذہنیت اور جہالت کا مُنہ بولتا ثبوت ہے۔ماہ مقدس میں غذر پولیس کا خواتین سے نارواسلوک قابل مذمت ہے اور اعلیٰ حُکام سے مطالبہ کیا جاتاہے کہ معاملے کی تحقیقات کرکے خواتین سے بدتمیزی کے مرتکب پولیس اہلکاروں کو قرار واقعی سزا دیا جائے ۔یاسمین افضل اور شازیہ شوکت نے کہاہے کہ بُنیادی انسانی حقوق کے حصول بلخصوص پانی کے لئے احتجاج قانونی و معاشرتی حق ہے جسے دبانے کی کوشش پولیس کی مذموم کوشش ہے آئی جی گلگت بلتستان معاملے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے خواتین سے بدتمیزی او ر لاٹھی چارج کرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت قانونی کاروائی عمل میں لاکر خواتین کو انصاف دلوائیں۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments