گلگت بلتستان میں تبدیلی کی لہر

تحریر : ۔ نیک پروین

مملکت عزیز پاکستان میں ایک طویل عرصے سے چند خاندانوں کے اقتدار پر باری باری قبضہ اور قومی خزانے کو خاندانی وراثت سمجھ کر لوٹ مار کرنے کے پیشِ نظر ملکی معشیت تباہی کے دہانے پر تھی۔ جب کھبی درد دل رکھنے والے محب وطن حلقے کی طرف سے حالات کی نشاندہی کرتے ہوئے ریاستی اداروں اور اسٹیک ہولڈز کو فوری طور مداخلت کرتے ہوئے ملک کی تباہ حال معشیت، ناکام خارجہ پالیسی اور قرضوں کے دلدل میں پھنسی ریاست کو بچانے کا مشورہ دیا جاتا تو ملکی خزانے کو بیدردی سے لوٹنے والے اقتدار پر باری باری قابض حُکمرانوں کوجمہوریت خطرے میں نظر آتی۔ اِس آڑ میں ریاستی اداروں تک کو آڑے ہاتھوں لے کر بلیک میلنگ کی سیاست کے ذریعے ملکی خزانے کو مزید بے رحمی اور بد دلی سے لوٹا جاتا رہا تھا۔

یہی وجہ ہے کہ مملکت عزیز میں چند خاندان امیر سے امیر تر ہوتے گئے جبکہ پوری قوم غریب سے غریب تر ہوتی گئی۔ نوبت یہاں تک آگئی کہ ریاست کو خطرات لاحق ہوگئے۔ ایسے میں صاف گو، محب وطن، بے داغ ماضی کا حامل لیڈر عمران خان جس نے کھیل کے میدان میں بھی مملکت عزیز کا دُنیا بھر میں نام روشن کیا تھا نے ریاست کو لاحق خطرات سے بچ نکالنے کے لئے میدان خارزار میں کودنے کا ارادہ کرلیا۔ پختہ ارادہ، نیت صاف اور خدا کی نظر ہو تو طلاطم خیز موجوں سے بھی بلا خوف و خطر مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔ جیساکہ عمران خان نے کردکھایا خواہ وہ کھیل کا میدان ہو یا پھر سیاست کا میدان ۔ دُنیا عمران خان کو کھرا اور ارادے کا پکا انسان کے طور پرجانتی ہے۔ جس کا ثبوت یہ ہے کہ جن وعدوں اور دعوؤں کی بُنیاد پر انتخاب لڑا اُن وعدوں اور دعوؤں پر من وعن عملدرآمد شروع کر دکھایا۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر عمران خان حکومت کی کارکردگی اور پالیسیوں کو سراہا جارہاہے۔ خاص طور پر عمران خان کے حالیہ دورہ امریکہ اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے ٹھوس مؤقف کے بعدپاکستان اور عمران خان کا قد کاٹھ بڑھ گیا ہے۔ جس کا اُن کے مخالفین بھی حمایت کرتے ہیں ۔

یہ بات بھی اپنی جگہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ عمران خان نے ملکی تاریخ میں پہلی دفعہ کرپشن بد عُنوانی اور اقرباپروری کے خلاف بے رحمانہ احتساب کا آغاز کرتے ہوئے کرپٹ اور بدعُنوان لوگوں کے خلاف سخت کاروائی کا آغاز کردیا ہے جس پر وہ کسی صورت رعایت دینے کے حق میں بھی نہیں۔ توقع ہے کہ خزانے کو بیدردی سے لوٹنے والوں سے ملکی خزانے کی چوری کی گئی رقم واپس ملکی خزانے میں جمع کرانے میں زمہ دار ادارے کامیاب ہوں گے۔ جنہیں عمران حکومت نے مکمل آزادی دیتے ہوئے ہر طرح کی سہولیات سے آراستہ کیاہے ۔

تبدیلی کی لہر نے گلگت بلتستان میں بھی قدم رکھ دیا ہے۔ جسٹس (ریٹائرڈ) سید جعفر شاہ کی قیادت میں نومنتخب صوبائی کابینہ نے اسلام آباد میں گُزشتہ روز حلف اُٹھایا ۔ جس کے بعد سید جعفر شاہ پی ٹی آئی عہدیداروں اور کارکنوں کو لیکروزیر اعظم عمران خان کے دئے ہوئے ویژن کے مطابق گلگت بلتستان میں عملی تبدیلی کے لئے انقلابی اقدامات کا آغاز کریں گے ۔ جس کے لئے پی ٹی آئی کے کارکن اور گلگت بلتستان کے عوام بھرپور ساتھ دیں گے ۔

گلگت بلتستان میں پاکستان تحریکِ انصاف کی کامیابی کے لئے خواتین ورکرز کا بھی بہت بڑا کردار رہاہے۔ خواتین کارکنوں نے گھر گھر عمران خان کے پیغام اُن کے ویژن اور نظریے کو پہنچایا۔ یہی وجہ ہے کہ اج گلگت بلتستان میں مردوں سے زیادہ خواتین عمران خان کی کرپشن بد عنوانی اور اقرباپروری کے خلاف تحریک کی بھر پور حمایت کرتیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف کی حمایت بھی زیادہ تر خواتین ہی کرتیں ہیں ۔

جسٹس (ریٹائرڈ) سید جعفر شاہ کو شعبہ خواتین کو مزید متحرک کرنے اور پارٹی میں پہلے سے موجود معاشرے میں اچھی شہرت رکھنے والی تعلیم یافتہ خواتین کی حوصلہ افزائی کی بہت ضرورت ہے ۔ چونکہ معاشرے کی نصف سے زیادہ آبادی خواتین کی ہے اور خواتین ہی معاشرتی تعمیر و ترقی میں اہم کردار اداکرتیں ہیں جن کو نظر انداز کرکے کامیابی حاصل کرنا نہ صرف مشکل ہے بلکہ ناممکن ہے ۔ دُنیا جانتی ہے کہ گُزشتہ ملکی انتخابات میں مردوں سے کئی گُنا زیادہ کردار خواتین کا رہاہے۔ بلکل ایسا ہی کردار گلگت بلتستان کے انے والے انتخابات میں یہاں کی خواتین ادا کرسکتیں ہیں۔ اگر ان کو مواقع مہیاکیا جائے اور مقام دیا جائے تو چونکہ جسٹس (ریٹائرڈ) سید جعفر شاہ منجھے ہوئے بُردبار اور تجربہ کار اچھی شہرت کے حامل سیاست دا ن اور لیڈر ہیں وہ اِن معاملات کو بہتر جانتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اُن کے صوبائی صدر منتخب ہونے کے بعد گلگت بلتستان میں تحریک انصاف کا گراف بہت حد تک بڑھ چکا ہے اور آنے والے وقتوں میں تبدیلی قافلے میں شمولیت کا سونامی ریلامتوقع ہے ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments