حالیہ کاروائیوں اور انکوائری پر تشیوش ہے، قمر عباس صدر ٹیچرز ایسوسی ایشن بلتستان

شگر(عابدشگری)ٹیچرایسوسی ایشن بلتستان ریجن کے صدر قمر عباس نے کہا ہے کہ محکمہ تعلیم بلتستان ریجن میں ہونے والے یک طرفہ اور بار بار انکوائری پر ٹیچرایسوسی ایشن کے شدید تحفظات اور اس سے اساتذہ میں تشویش پائی جاتی ہے۔حالیہ اخباری بیان بابت غیر قانونی ترقیاں جو ٹیچر ایسوسی ایشن سے منسوب مختلف اخبارت میں شائع ہوا تھا اس کی غلط تشریح کی جا رہی ہے ۔ حالانکہ اس بیان کے مطابق وہ آفیسر ز جنہوں نے غیر قانونی طورسروس کیڈر تبدیل کرتے ہوئے ترقیاں لی تھی جس کی بنا ء انتظامی امور پر موجود سینئیر آفیسران کی سنیارٹی متاثر ہوا ہے ان کے اُوپر انکوائری کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔جو صرف دو سے تین بندوں پر مشتمل ہے۔بلتستان کے تمام اضلاع کے اساتذہ اور صدور تنظیم اساتذہ کا ایک اہم اجلا س زیر صدارت قمرعباس صدر ٹیچر ایوسی ایشن بلتستان ریجن منعقد ہوئی جس میں دو سو سے زائد اساتذہ نے شرکت کی اس اجلاس میں اس بات کی تشویش کا اظہار کیا گیا کہ بار بار انکوائری صرف بلتسان ریجن میں کرائے جاتے ہیں حالیہ انکوائری جس کی مدت 20-01-2018 کو ختم ہوا تھا ۔ صرف بلتستان کے شریف اساتذہ کو تنگ کرنے کے لیے جاری رکھنے میں مخصو ص لوگوں کی دلچسپی تھی اسے وزیر تعلم گلگت بلتستان نے ٹیچرایسوسی ایشن بلتستان کے درخواست پر روکا تھا دوبارہ ٹیچرایسوسی ایشن سے منسوب کر کے شروع کر دیا گیا ہے ۔ سیکریڑی ایجوکیشن کے آفس کے آرڈرجس کی مدت ختم ہو چکی ہے اس میں تمام اضلاع میں یہ انکوائری ہونا قرار پایاتھا ۔ جسمیں 2003 سے اب تک کے تمام اساتذہ شامل ہیں ۔ لیکن تمام تر قانونی تقاضوں کو بالائے طاق رکھ کر صرف بلتستان کے شریف اساتذہ کو بار بار تنگ کر نا سمجھ سے بالاتر ہے ۔ اس غیر ضروری انکوائری کے نام پر ہونے والے کاروائی سے بلتستان کے عوام اساتذہ ، طلباء اور والدین میں شدید بے چینی پائی جار ہی ہے ۔ تعلیمی نظام کے تباہی کے ساتھ ساتھ اس انکوائری کی وجہ سے علاقائیت ، مذہبیت اور لسانیت کی فضا قائم ہونے کے ساتھ اساتذہ کی عز ت نفس مجروح ہو رہا ہے ۔جس کی بناء بلتستان کی ترقی پزیر تعلیمی نظام کو شد ید نقصان پہنچنے کا خطرہ روز بروز بڑھ رہا ہے ۔جس کی ٹیچرایسوسی ایشن بلتستان شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور وزیر اعلی گلگت بلتستان ، چیف سیکریڑی گلگت بلتستان ، وزیر تعلیم گلگت بلتستان سے اپیل کرتے ہیں کہ مذکورہ انکوائری کو فی الفور روکا جائیں تاکہ اساتذہ ذہنی سکون کے ساتھ درس وتدریس کے عمل کو جاری رکھ سکیں ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments