محسن انسانیت تجھے سلام 

تحریر : فدائی

دنیا میں بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ کوئی مزہبی قائد ذاتیات کی خول سے باہر آ کر دوسروں کی دکھ سکھ میں شریک اور ان کی بہتر طرز زندگی کے لئے کام کرہا ہو یہی کچھ اسماعیلی مسلمانوں کے روحاانی پیشوا اور انچاسویں امام ہز ہائنس پرنس کریم آغا خان کرہے ہے ۔انتہائی کم عمری میں تخت امامت سنبھالنے کے بعد محلات تعمیر نہیں کی ،جائدادیں نہیں خریدے بلکہ امت مسلمہ کی بہیر طرز زندگی سمیت دکھی انسانیت کی خدمت کو زندگی کا مقصد تسلیم کرتے ہوئے روز اول سے آج تک پوری دنیا میں مسلم امہ کی خدمت میں پیش پیش نظر آرہے ہیں جہاں مسلم امہ کو مشکل میں پایا بلا تاخیر وہاں جاکر ان کے مشکل میں ان کا مسیحا بنا اور ان کی دکھ درد میں برابر کا شریک رہا یہی وجہ ہے کہ آج اسلام مخالفین بھی انہیں محسن انسانیت اور دنیائے اسلام کے خاموشس شہزادے جیسے خطابات سے یاد کرتے ہیں۔آپ ہمیشہ بھائی چارہ گی ،امن وامان اور اتفاق کیساتھ رہنے اور جدید تعلیم حاصل کرنے پر زور دیتے ہیں تمام مسلم امہ کو تعلیم اور روزگار سمیت دکھی انسانیت کی خدمت میں صف اول دیکھنا چاہتے بلکہ اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لئے خود بھی دن رات دلچسپی سے کام کرتے ہیں خداداد پاکستان کیلئے آپ کے خدمات کا سلسلہ قیام پاکستان سے پہلے آپ کے نانا جو آغاخان سوئم سلطان محمد شاہ کے نام سے موسوم تھے کے دور سے شروع ہوا سر آغاخان سوئم نے برصٖٖٖٖٖغیر کے مسلمانوں میں الگ ریاست کٰا شعور ا گر کیا بلکہ اس سنگ میل کو عبور کرنے کے لئے گراں قدر خدمات بھی سر انجام دئیے 1906 میں جب آل انڈیا مسلم لیگ وجود میں آیا تو آپ کو اس کا صدر بنایا گیا آپ نے بانی پاکستان کی راہنمائی کیساتھ ان کے کندھے سے کندھا ملا کر خداداد پاکستان کی آزادی کے لئے دن رات کا م کئے جس کانتیجہ آج ہمیں آزادی کی صورت میں ملا ہے ۔ آغاخان سوئم کے نقش قدم پر چلتے پوئے موجودہ امام ہز ہزہائنس بھی پاکستان کے ساتھ جوڑے رشتے کو مزید مستحکم کرتے ہوئے پاکستان کے عوام کو معیاری تعلیم اور بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کے لئے آج بھی کوشاں ہے۔پاکستان میں نظام تعلیم ہو یا طبی سہولیات کی فراہمی آپ کے ادارے پاکستان کے سر کاری و دیگر پرائیوٹ اداروں سے آگے ہیں ۔آغاخان ہسپتال کراچی جو کہ 1924 بنا تھا اور یہ ہسپتا ل صرف 24بستروں پر مشتمل تھی کو اپ گریڈ کر دیا جہاں آج بین الاقوامی معیار کا علاج میسر ہے اس کیساتھ پاکستان میں آغاخان ہیلتھ کے ماتحت چلنے والی 7بڑے ہسپتال 64ہیلتھ کئیر سینٹرز ،2میڈیکل سینٹرز ،7کمونیٹی ڈینٹل سینٹرز ، 6 ڈئنگنو سٹک سینٹرز ملک بھر میں لوگوں کو بہتر طبی سہولیات دینے کے لئے کام کرہے ہیں اور ان اداروں سے تقریبا 11لاکھ افراد مستفید ہو رہے ہیں ان کیساتھ کراچی میں 47،سندھ میں 24 ، پنجاب اور کے پی کے میں 14،جبکہ گلگت بلتستان اور چترال میں بترتیب37اور31 ہیلتھ سینٹرز کام کررہے ہیں پاکستان میں تعلیم کی قلت پر قابو پانے کے لئے آغاخان ایجوکشین نیٹ ورک کو فعال کر کے خود ان کی نگرانی کر رہے ہیں اس سروس کے تحت پاکستان میں 192تعلیمی ادارے جن میں 45000طلباء تعلیم کی زیور سے آراستہ ہورہے ہیں اور ان سے 16000اساتذہ مستفید ہورہے ہیں ان ادروں کا دائرہ کار چاروں صوبوں سمیت گلگت بلتسان کے فلک بوس پہاڑوں تک پھیلا ہو اہے گلگت بلتستان جیسے دور آفتادہ اور دشوار گزار علاقے جہاں آج بھی سرکاری سکولوں اور ہسپتالوں کا وجود تک نہیں آغاخان نیٹ ورکے ادارے بہتر طبی و تعلیمی سہولیات فراہم کرنے کے لئے کوشاں ہیں ۔ان کے ہمراہ ان علاقوں میں روزمرہ زندگی کے مسائل حل کرنے کے لئے آغاخان رورل سپورٹ پروگرام کے ذرئعے چھوٹے بڑے سینکڑوں کوہل ،چھوٹے بجلی گھر ،پل ،اور اس قسم کے دیگر چجوٹے منصوبوں کے ذرئعے بھی لوگوں کو سہولیات مہیا کیا جارہا ہے جو کی ایک بہتر لیڈر کی بہتر سوچ کی عکاسی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔دنیا بھر کے اسماعیلی مسلمان آج اپنے امام کے 61 واں سالگرہ11جولائی1957 تا 11جولائی2018 منا رہے ہیں اس موقع پر اسماعیلی برادری کے تمام بہن بھائیوں کو پرنس کریم آغا خان کے 61ویں یوم پیدائش کے مبارکباد پیش کرنے کیساتھ گزارش کرتا ہوں کہ امام الزمان کے فرامین پر عمل کرتے ہوئے ان اندھیروں میں اپنے ہاتھوں سے ایک چراغ جلا جر جائے تا کہ آنے والوں کو روشنی میسر ہو سکیں ۔جمشید خان دکھی کے ان اشعار کے ساتھ اجازت

ظلمت کدوں میں شمع فروزاں ہین شاہ کریم

اہل چمن پہ کتنے مہرباں ہیں شاہ کریم

گلشن کے ارتقاء میں بڑھا ان کا ہاتھ ہے

سچ پوچھیے تو جان گلستاں ہیں شاہ کریم

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments