کھلا خط بنام چیف جسٹس ثاقب نثار صاحب

جناب میاں ثاقب نثار صاحب  چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان

اسلام علیکم
خوش آمدید

آپ کا دورہ گلگت ایک ایسے وقت پہ ہورہا ہے جب گلگت بلتستان ہر طرف سے آئینی مسائل سے دوچار ہے۔ ہم مہمان نواز ہیں آپ کی ہر ممکن خدمت کرینگے مگر چند گزارشات عرض ہیں ۔

آپ کو معلوم ہوگا کہ گلگت بلتستان کے عوام نے سب سے پہلے پاکستان کے نعرے کا عملی مظاہرہ کردکھایا ہے اس کے باوجود ستر سالوں سے ہم قومی دھارے میں شامل نہیں ہوسکے ہیں۔، ہم بیک وقت پاکستانی بھی ہیں اور متنازعہ بھی۔ ہم حقوق کی بات کریں متنازعہ قرار دیا جاتا ہے اور وسائل استعمال کرنے کے موقع پر پاکستانی قرار دیا جاتا ہے ۔میڈیا میں ہمیں کوریج نہیں دی جاتی اور ہماری زبان بندی کیلئے شیڈول فور کا بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے ۔ دیگر علاقوں میں علیحدگی کی تحریک بھی چلاتے ہیں تو ان کا پولیٹیکل رائیٹ اور ہماری جانب سے چلائی جانے والہ  الحاق کی تحریک کو کو غداری سے تشبیح دی جاتی ہے ۔

کہنے کو تو ہمارے پاس بھی ایک عدد وزیر اعلی اور صوبائی سیٹ اپ ہے مگر جب ہم جنرل نالج کا کوئ سوال حل کریں جس میں صوبوں یا وزاء اعلی  کی تعداد پوچھی گئ ہو تو ہمارے دماغ کا فیوز اڑھ جاتا ہے یعنی ہم بہت کنفیوز ہوتے ہیں اگر پانچ لکھیں تو نمبر زیرو بٹا لل۔ اگر چار لکھیں تو نمبر تو مل جائینگے مگر سوال کا جواب دیتے دیتے دل میں اور ہزاروں سوال اٹھتے ہیں۔

ہماری مثال اس بچے کی سی ہے جسے کسی دشمن نے اغوا کیا ہو اور چند سالوں بعد وہ اپنی مدد آپ قید خانے سے آزاد ہوا ہو مگر آزاد ہونے کے بعد جب وہ اپنے ماں باپ سے ملنے آئےتو اس کے ماں باپ اسے پہچاننے سے انکاری ہوں اور بہت زیادہ اسرار کرنے پر اسکے ماں باپ اسے دو وقت کی روٹی تو دیتے ہوں مگر ساتھ میں سگے بچے سے غلاموں والا برتاو اور کم قیمت پہ روٹی مہیا کرنے کے طعنے دیتے ہوں ۔

ارے یہ کیا۔ ۔ آپ تو مہمان ہیں ہمارے ۔یہ کیا ہم آپ کو دل کے دکھڑے سنانے لگے ہیں ، بور ہوجائنگے آپ ۔ آپ تو  ہمارے چیف جسٹس صاحب ہیں ، چیف جسٹس سے یاد آیا ہمارے پاس بھی ایک عدد سپریم کورٹ اور  ایک عدد چیف جسٹس بھی ہیں ۔ آپ کو شاید یقین نہ آئے مگر ہمارے چیف جسٹس کی کوئی نہیں سنتا ، جب یہ کوئی آرڈر پاس کرتے ہیں تو وفاقی ادارے کہتے ہیں کہ آپ کو یہ حق کس نے دیا ہے ہمارے فیصلے سپریم کورٹ آف پاکستان کے علاوہ کوئی نہیں کرسکتا ، ایسے میں آپ ہی بتائیں ایسے سپریم کورٹ کا کیا فائدہ  جس کی کوِئی نہیں سنتا ۔

آپ نے دنیا کے سات عجوبے دیکھے ہونگے ہم آپ کو آٹھواں عجوبہ بھی دکھاتے ہیں ۔ آپ یقینا حیران ہوجائنگے کہ ہم گلگت بلتستان کے عوام دنیا کا آٹھواں عجوبہ ہیں وہ ایسے کہ ہم کسی کو کچھ دینے کی پوزیشن میں بھی ہوں تو ہمارا منہ مانگنے والا ہوتا ہے ۔ ہم نے جب اس علاقے کو آزاد کرایا تو ہمارے پاس بڑے آپشنز تھے ، ہم دینے والی پوزیشن میں تھے مگر  ہم نے غیر مشروط الحاق کرلیا مگر ستر سال بعد بھی ہمیں دل سے قبول نہیں کیا گیا ۔ آپ خود ہی بتائیں بھلا دنیا میں کوئی ایسی مثال ملتی ہے کہ ایک علاقہ جو کہ قدرتی وسائل سے مالامال ہو کسی ملک کیساتھ الحاق کرنا چاہتا ہو اور وہ  ملک اس جنت نظیر علاقے کو  اپنا حصہ بنانے سے انکاری ہو ؟؟

آیک طرف انڈیا ہے جو ہمارے علاقے کو اپنا حصہ بنانے کیلے ہمہ وقت حملہ آور ہوتا ہے اور ہم  سیسہ پلائی دیوار بن کر دشمن ملک کے سامنے کھڑے ہوجاتے ہیں اور دوسری طرف مملکت پاکستان کے حکمران  ہیں جنہیں  ہماری کوئی قدرو قیمت ہی نہیں ہمیں اپنانے کے بجائے خود ہی ہمیں متنازعہ کہتے پھرتے ہیں ۔ انہیں لگتا ہے کہ ہمیں قومی دھارے میں  شامل کرنے سے کشمیر کاز کو نقصان پہنچے گا ۔ ان پاگلوں کو شاید پاگل کتا کاٹ گیا ہو کہ اتنا نہیں سمجھ پارہے کہ کہیں اس چکر میں لینے کے دینے نہ پڑ جائیں ۔

آپ ملک کے سب سے بڑے قاضی ہیں اگر آپ ہمیں کچھ دینا ہی چاہتے ہیں ہیں صرف چند سوالات کے جواب دیں ۔

1۔ایسا کیوں ہے کہ ہمارے وزیر اعلی کا شمار پاکستان کے وزراءاعلی میں نہیں ہوتا ؟

2۔ گلگت بلتستان اگر صوبہ ہے تو پاکستان کے 5 صوبے کیوں نہیں ؟؟

3۔ اگر سپریم اپیلیٹ کورٹ آف جی بی ہائسٹ کورٹ آف اپیل ہے تو اس کا کوئی بھی فیصلہ خواہ غلط ہی کیوں نہ ہو سپریم کورٹ آف پاکستان میں کیوں کر چیلنچ ہوتا ؟؟

. . . . . . . . . . . . . . . وسلام

. . . . . . . . . . . . . حیدر سلطان

 . . . . . . .  ایڈوکیٹ ہائی کورٹ بار گلگت

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments