زندگی شارٹ کٹ کا نام نہیں ہے اور نہ ہی یہ دنیا جنت ہے

میربازخان میر

زندگی صرف پانے کا نام نہیں ہے بلکہ زندگی میں بہت کچھ کھونا بھی پڑتا ہے اگر اس دنیا میں ساری چیزیں ہمارے خواہشات، توقعات اور ضروریات کے مطابق ہوتیں، تو پھر یہ دنیا جنت ہوتا۔

 دنیا میں بہت سی چیزوں کو سہنا پڑتا ہے بہت سی چیزوں کو  کو برداشت یا نظر انداز کرنا پڑھتا ہے صبرکرنا ہوتا ہے۔ یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ آپ جو کچھ سوچ رہے ہیں، اللہ نے اس سے بہتر آپ کے نصبیب میں لکھا ہے۔ کہیں جھکنا پڑھتا ہے تو کہیں پیچھے ہٹنا پڑتا ہے، اورکہیں صلح کرنا پڑتا ہے، ہاتھ ملانا پڑتا ہے اور کہیں خاموشی بہترہوتی ہے۔ کبھی کبھار خاموشی کے ساتھ  اپنا راستہ تبدیل کرنا ہوتا ہے، اور کہیں پہ مقابلہ کرنا ہوتا ہے۔ کہیں لڑنا ہوتا ہے اپنے حق کے لیے اورکامیابی کے لیے سخت محنت کرنا پڑتا ہے ۔شروع شروع میں اپنے لیے جینا ہوتا ہے لیکن جب جب وقت گزرتا ہے تو پھر دوسروں کے لیے بھی جینا ہوتا ہے۔پھر ان کی خواہشات اور ضرورت کو دیکھنا ہوتا ہے ۔

زندگی میں اگر آپ نے اپنی حیثیت کو دیکھنا ہے تو  پھر پیچھے مڑکر ان لوگوں کو دیکھوں جو آپ سے بھی زیادہ غریب اور مجبور ہے جن کے پاس دووقت کی روٹی کے لیے پیسہ نہیں ہے یا جو مجبور اور معذور ہے۔ یا پھر ہسپتال میں بستر پہ پڑے ہیں۔ یا پھر کسی جرم میں تھانہ یا جیل میں بند ہے اور ان کی زندگی قید میں گزر رہی ہے  تب آپ اللہ کا شکر ادا کرینگے کہ آپ کی حیثیت ان سے بہتر ہے۔

خودکشی کرنا نہ صرف جرم ہے بلکہ اللہ تعالی نے قرآن میں فرمایا ہے کہ خودکشی حرام ہے اور جو خودکشی کرتا ہے ان کی روح بھٹکتی ہے، اور وہ اپنی آخری منزل تک نہیں پہنچتا ہے۔ یعنی دنیا کہ زندگی عارضی ہوتی ہے زیادہ اگر کوئی جیتا ہے تو 100 سال لیکن روح کی زندگی دائمی ہوتی ہے تو پھر ہم اس زندگی کا خاتمہ کرکے اپنے روح کو ہمیشہ کے لیے عذاب میں کیوں ڈالتے ہیں؟

اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ خودکشی کرنے سے دنیا ان کی کمی محسوس کرے گی، ان کے گن گائیگی، یا پھر ان کے بعد دنیا کا نظام رک جائے گا، تو یہ ان کی بھول ہے۔ وہ احمقوں کی جنت میں رہتا ہے، اور ان کو کسی ماہر نفسیات کے پاس جانا چاہیے اور اپنا چیک اپ کرنا چاہیے۔

مسائل ہر کسی کے ساتھ ہیں۔

ماہرین کہتے ہے کہ مسلہ کا مطلب ہے کہ جس کا کوئی نہ کوئی حل موجود ہوں ۔اور اگر کسی کے ساتھ کسی قسم کا کوئی مسلہ ہے تو وہ رشتہ داروں اور دوستوں کے ساتھ مل بیٹھ کر اس کو حل کرنے کی کوشش کریں کیونکہ رشتے ہوتے ہی اسی لیے ہے۔

مصیبت میں اور برے وقت میں اپنے رب کو یاد کرنا چاہیے نہ صرف یاد کرنا چاہیے بلکہ ان سے مدد اور رہنمائی بھی مانگنا چاہیے۔

دنیا میں شاہد ہی ایسا کوئی انسان ہوگا یا ہے کی جس کے ساتھ کوئی مسلہ نہیں ہے دنیا میں ہر مسلے کا حل موجود ہے اور اگر یہاں مسلہ اور آزمائش نہیں ہوتا تو پھر یہ دنیا نہیں جنت ہوتا ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments