کالمز

معذور بچوں کا سکول اہم ہے یا میڈیکل کالج؟

حرا علی امریکہ میں مقیم ایک پاکستانی خاتون ہیں۔ انہوں نے گذشتہ دنوں انسانی حقوق کمیشن برائے پاکستان کے نام اپنے ایک خط میں اس امر پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ گلگت بلتستان کی موجودہ صوبائی حکومت سپیشل ایجوکیشن کمپلیکس گلگت میں میڈیکل کالج بنانا چاہتی ہے اور اس کمپلیکس میں قائم معذور بچوں کے سکول کو کسی اور عمارت میں منتقل کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ معذور افراد اتنے ہی توجہ کے مستحق ہوتے ہیں جتنے مریض ہوتے ہیں۔ کسی بھی ملک میں میڈیکل کالج کے قیام کا مقصد اس ملک کے شہریوں کے علاج معالجے کے لئے ڈاکٹرز پیدا کرنا ہوتا ہے ۔ گویا ڈاکٹرز مریضوں کے لئے ہوتے ہیں مریض ڈ اکٹر زکے لئے نہیں ہوتے۔جن لوگوں کے لئے ڈاکٹرز پیدا کئے جاتے ہیں ان کو نظر انداز کر کے ڈاکٹرز پیدا کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ انہوں نے اس امر پر شدید افسوس کا اظہار کیا ہے کہ جی بی حکومت معذور افراد کی ضرورت کے تحت بنی ہوئی عمارت کو میڈیکل کالج بنانا چاہتی ہے۔ انہوں نے اس فیصلے کو غیر دانشمندانہ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس فیصلے کو واپس لیا جائے بصورت دیگر دنیا ہم پر مذاق اڑائے گی ۔
حرا جیسے لوگ ہمارے معاشرے میں بڑی تعداد میں موجود ہیں مگر حرا اس وقت جس معاشرے میں قیام پذیر ہیں وہاں اس بات کا بڑا خیا ل رکھا جاتا ہے کہ معاشرے کے ان افراد کے ساتھ ناانصافی نہ ہو جو ہماری توجہ کے مستحق ہیں۔ہم نے آج تک معذوروں کے لئے مہذب الفاظ بھی ایجاد نہیں کئے ہیں۔ ہم قدرت کے پیدا کردہ ان انسانوں کو نابینا، لنگڑا، بہرا، گونگا، کانااور اس طرح کے طنزپر مبنی الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ جب کہ باقی دنیا نے ان افراد کے لئےhandicapped کی جگہ Special اور اب Differently abled کے الفاظ ایجاد کئے ہیں تاکہ غلط زبان کے استعمال سے ان افراد کے جذبات مجروح نہ ہوں اور وہ خود کو باقی انسانوں سے کم تر نہ سمجھیں۔
کسی بھی انسان کا اچھا انسان ہونے کا اندازہ اس بات سے لگا یا جاسکتا ہے کہ وہ باقی انسانوں کے لئے خود کو کتنا کار آمد ثابت کرتا ہے۔ ہم اپنے آس پاس کے اچھے انسانوں کی جب مثال دیتے ہیں تو ہمیشہ ان واقعات کا حوالہ دیتے ہیں جن میں ایک انسان نے دوسرے انسان کی مدد کی ہے یا ان کے لئے کوئی آسانی پیدا کی ہے۔ کوئی بھی معاشرہ اس وقت تک مہذب نہیں کہلا سکتا جب تک اس میں بسنے والے لوگ ایک دوسرے کی بھلائی اور اچھائی پر زیادہ سے زیادہ توجہ نہ دیتے ہوں او ر کوئی بھی انسان اس وقت تک اچھا انسان نہیں کہلا سکتا جب تک کہ وہ دوسروں کی بہتری کیلئے کا م نہ کرتا ہو۔
ہم نعروں ، باتوں اور تحریروں میں خود کو دنیا کی قوموں میں افضل قوم قرار دینے میں دیر نہیں لگاتے ہیں۔ ہمارا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ہم دنیا کے سب سے افضل مذہب کے پیروکار ہیں۔ مگر جب عمل کا وقت آتا ہے تو ہم غیر انسانی رویوں کے عملی نمونے بن جاتے ہیں۔ ہم نے آج تک معاشرے کے ان افراد کی ضروریات اور حقوق پر توجہ نہیں دی جو ہماری تو جہ کے محتاج ہیں ۔ ہمارا یہ رویہ صرف معذور افراد کے ساتھ نہیں ہے بلکہ خواتین، بچے، بڑھے اور معاشرے کے کمزور اور غریب طبقات کے ساتھ بھی ہمارا یہی غیر مناسب رویہ ہوتا ہے۔
قانون کے مطابق سرکاری ملازمتوں میں معذور افراد کا کوٹہ مختص ہے مگر عملا وہ ان کو نہیں ملتا، سفید چھڑی کا تصور ہمارے یہاں سرے سے ہے ہی نہیں، معذور افراد کا عالمی دن آتا ہے تو ہم اس کو مغرب کی سازش قرار دیکر نہیں مناتے ہیں، ہم اپنی پولیس، انتظامیہ سمیت تمام سرکاری مشنری اور سول سوسائٹی کو معذور افراد کے حوالے سے سبق نہیں پڑھاتے ہیں۔ اس لئے ڈبل سواری کے قانون کی خلاف ورزی کے نام پر ہماری بہادر پولیس معذور افراد کی درگت بناتی ہے، ہمارا سول سپلائی کا ڈائریکٹر صاحب معذور وں کی تنظیم کے نمائندہ کو پیسوں کے عوض آٹا مانگنے پر آفس سے دھکے دیکر باہر نکالتا ہے۔ (یاد رہے کہ مذکورہ دونوں واقعات گلگت میں پیش آئے ہیں)ہمارے ہاں معذور افراد کی سفید چھڑی دیکھ کر ٹریفک نہیں رکتی ہے۔ہم معذور افراد کو گھر، محلہ، سکول اور بازار میں دیکھ کر ان پر مذاق اڑاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں یہ نہیں معلوم کہ معذوروں کا سکول اہم ہے یا میڈل کالج؟
یقیناًمیڈل کالج بھی بہت اہم ہے مگر معذور افراد کے سکول کی قیمت پر میڈل کالج اہم نہیں ہے۔ یہ بات درست ہے کہ جن افراد کی مدد کی غرض سے ہم ڈاکٹرز پیدا کرنا چاہتے ہیں ان کو بے دخل کر کے بنایا جانے والا میڈیکل کالج دنیا میں ہماری شرمندگی کا باعث بنے گا۔ میڈیکل کالج کسی بھی عمارت میں شروع کیا جاسکتا ہے مگر معذور افراد کی ضرورت کے تحت بنی ہوئی عمارت روز روز نہیں بن سکتی۔ سپیشل ایجوکیشن کمپلیکس معذور افراد کی خصوصی ضرورت کے تحت بنی ہے ۔ یہ عمارت وفاقی وزارت سماجی بہبود کے تحت بنی تھی اور 2008 میں اس کو مکمل کر کے یہاں معذور بچوں کی تعلیم شروع کی گئی تھی۔ اس عمارت کی سیڑھیوں سے لے کر کے واش روم تک ایسے بنائے گئے ہیں جہاں معذور بچوں کو وہیل چےئر پر لے جایا جاسکتا ہے۔ جبکہ آنکھوں کی بینائی سے محروم بچے کے لئے خصوص نوعیت کا فرش رکھا گیا ہے جس میں وہ چلتے ہوئے یہ اندازہ کر سکتے ہیں کہ سیڑھیاں اور واش روم کہاں واقع ہیں۔ اس کے چار سیکشنز ہیں ۔ پہلا سیکشنHIC کہلاتا ہے جو کہ سماعت سے محروم بچوں کے لئے ہے دوسرا سیکشن PHI کہلاتا ہے جو کہ جسمانی معذور بچوں کے لئے ہے۔ تیسرا VHC بینائی سے محروم بچوں کے لئے ہے اور چوتھاMRC ذہنی طور پر معذور بچوں کے لئے ہے۔
معذور افراد کے اس سکول میں کل 135 بچے زیر تعلیم ہیں اور یہ سکول بنیادی طور پر پرائمر ی تک ہے مگر اساتذہ یہاں میڈل تک کی کلاسز چلاتے ہیں۔ اس خصوصی اور خوبصورت عمارت میں ایک ہاسٹل بھی ہے جو کہ دور دراز سے آکر پڑھنے والے معذور افراد کے لئے بنایا گیا ہے مگر آج کل ہمیں کرپشن سے نجات دلانے کا نعرہ لگانے والا ادارہ نیب اس ہاسٹل پر قابض ہے اور یہاں اپنا آفس قائم کر چکا ہے۔ میرے خیال سے یہ عمل بذات خود ایک کرپشن ہے۔
اس صوتحال میں گلگت بلتستان کی حکومت نے اس عمارت میں میڈیکل کالج بنا کر معذور بچوں کے سکول کو کہیں اور منتقل کرنے کا اعلان کیا ہے جس سے معذور بچوں اور ان کے والدین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے ۔ اس سکول کی پیرنٹس ٹیچرز ایسوسی ایشن ) (PTA کے صدر حاجی محمد قاسم اور جنرل سیکرٹر ی شبیر حیدر ایڈوکیٹ اور دیگر والدین کا کہنا ہے کہ معذور بچوں کی تعلیم کے لئے بنائی گئی یہ عمارت ہماری کسی بھی حکومت کو کیوں ہضم نہیں ہوتی ہے؟2010 میں یہ عمارت سیلاب کے متاثرین کے حولے کی گئی تھی ۔ پھر ا س کا ہاسٹل نیب کو دیا گیا اور اب معذور افراد کو بے دخل کر کے میڈیکل کالج بنانے کی بات چل رہی ہے۔ معذور بچوں کے اس سکول کو جب سے وفاق سے اٹھا کر صوبائی حکومت کے حوالے کیا گیا ہے حکومت اس سکول میں تعلیم کومیٹرک تک بڑھانے کی بجائے اس سکول کو معذور افراد سے خالی کرانا چاہتی ہے۔ معذور بچوں کو یہاں سے نکالا گیا تو ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہوگا اور ایسی عمارت آئندہ نسلوں تک بننا مشکل ہے۔معذور بچے اور ان کے والدین نے گذشتہ دنوں جی بی کی اسمبلی ہال کے باہر اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج بھی کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ حکومت اس عمارت کو میڈیکل کالج بنانے کا فیصلہ واپس لے۔ اور نیب کا آفس بھی کہیں اورمنتقل کر کے ہاسٹل خالی کرایا جائے۔ نیز اس سکول کو ہائی سکول کا درجہ دیا جائے۔ تا کہ معذور بچوں کی تعلیم و تر بیت کا عمل متاثر نہ ہو۔والدین کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت اس عمار ت اور سکول کو سنھبال نہیں سکتی ہے تو یہ سکول واپس وفاق کے حوالے کرے کیونکہ وفاق یہ سکول جی بی کی حکومت کو دینا نہیں چاہتی تھی ۔ جی بی کی گذشتہ حکومت کی گزارش پر وفاق نے 2013 میںیہ ادارہ صوبائی حکومت کے حوالے کیا تھا۔ بعد میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ نے بذریعہ خط وفاق سے درخواست کی تھی کہ یہ ادارہ دوبارہ وفاق اپنی تحویل میں لے کیونکہ گلگت بلتستان کی حکومت کے پاس اتنے واسائل نہیں کہ اس ادارے کو سنھبالا جاسکے۔مگر اب تک وفاق نے اس درخواست پر توجہ نہیں دی ہے۔
ہم ان سطور کے زریعے حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنا فیصلہ واپس لے اور نیب کا دفتر بھی کہیں اور منتقل کیا جائے۔ جبکہ سکول کو فورا ہائی سکول کا درجہ دیا جائے۔ یہ بات بلکل بجا ہے کہ معذور بچوں کی یہ عمارت بہت ہی عالی شان ہے مگر یہ جس مقصد کے لئے بنی ہے اسی کے لئے ہی استعمال کیا جائے تو اس کی شان برقرار رہے گی ورنہ معذوروں کی بد عا لگنے کے بعد یہاں بنا یا جانے والامیڈیکل کالج بھی کامیا ب نہیں ہوسکے گا۔
ہمیں لگتا ہے کہ حکومت کا میڈیکل کالج بنانے کا منصوبہ بھی کھوکھلا لگتا ہے کیونکہ اگر میڈیکل کالج بنا نا ہے تو اس کے لئے الگ عمارت بننی چاہیے عمارت مفت مل جائے تو کوئی بھی پرائیوٹ ادارہ یہاں میڈیکل کالج بنا سکتا ہے۔اگر وفاق یہ کالج دے رہا ہے تو ساتھ میں عمارت بھی بنا کر دے تاکہ یہ وفاق سے ایک تحفہ طور پر جی بی کے عوام یاد رکھیں گے۔ وگرنہ جی بی کے معذور بچوں کو بے دخل کر کے بنایا جانے والا میڈیکل کالج پر لوگوں کو خوشی محسوس ہونے کی بجائے دکھ ہوگا اور حکومت کے دل میں بھی ایک خلش باقی رہے گی۔ کیونکہ جو افراد معاشرے کی توجہ کے محتاج ہیں ان کے ساتھ ناانصافی معاشرے کے لئے سود مند ثابت نہیں ہوسکتی اور ایسی کوئی ترقی دراصل ترقی بھی نہیں کہلا سکتی۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔

متعلقہ

Back to top button