محکمہ جنگلات اور سوکھے پودے

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جنگلات بنی نوع انسان کو آلودگی سے بچانے میں موثر اور فعال کردار ادا کرتے ہیں اور ہوا کو صاف ستھرا رکھنے میں بھی معاون ثابت ہوتے ہیں ماہرین کی رائے کے مطابق کسی بھی ملک کی تعمیر وترقی اور فضا کی آلودگی سے بچنے کے لیے کل رقبے کا ایک چوتھائی یعنی 25فیصد جنگلات پر مشتمل ہونا ضروری ہے ہمارے ملک پاکستان میں صرف دو فیصد رقبے میں جنگلات موجود ہیں یہ امر کسی لحاظ سے خوش آئند اور حوصلہ افزائی نہیں ترقیاتی یافتہ ممالک میں اس شعبے میں اربوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں اور آلودگی سے بچنے کے لیے پودے لگائے جاتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ ان کی حفاظت بھی کی جاتی ہے ہمارے ملک میں بھی شجرکاری کے دوران کروڑوں پودے لگانے کا ٹارگٹ دیا جاتاہے ا ور ہر محکمے کو پودے لگانے کا حکم ملتا ہے پودے بھی لگائے جاتے ہیں مگر ان کی حفاظت کرنے کو کوئی تیار نہیں ہوتا جس کی وجہ سے یہ پودے مال موشیوں کے خوراک بن جاتے ہیں یا پانی وقت پر نہ ملنے سے سوکھ جاتے ہیں جنگلات کی ترقی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک عوام میں اس کی افایت اور اہمیت اجاگر نہ ہوجنگل میں ایک چرواہاکلہاڑی اور ورانتی سے ننے منے درختوں کو تختہ مشق بنا لیتا ہے دوسری طرف محکمہ جنگلات کی طرف سے سالانہ ہزاروں پودے لگانے کا اعلان کرتے ہیں مگر بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ دوران شجرکاری بڑے بڑے لوگوں کے ساتھ شجرکاری مہم کا آغاز کردیا جاتا ہے جب کہ پودے لگ جاتے ہیں تو نگرانی کرنے والا کوئی نہیں ہوتا گلگت بلتستان کے سرکاری محکمے بھی دوران شجرکاری بڑی تیزی دیکھاتے ہیں مگر ان کے لگائے گئے پودے کچھ عرصے بعدمال موشیوں کے خوراک بن جاتے ہیں جنگلات کی تو یہ حالت ہے کہ گلگت بلتستان عموما اور ضلع غذرمیں خصوصامیں اس سال محکمہ جنگلات کی طرف سے فراہم کئے گئے پودے سوکھ گئے ہیں جن کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ پودے جب فراہم کئے گئے تو اس وقت ہی یہ سوکھ گئے تھے یا مختلف بیماریوں کا شکار تھے اس طرح یہاں کے کاشت کاروں کی طرف سے لگائے گئے یہ سارے پودے سوکھ گئے صوبائی وزیر سیاحت گلگت بلتستان فداخان فدا نے بھی عوام کو محکمہ جنگلات کی طرف سے سوکھے اور بیمار شدہ پودے فراہم کرنے پر سخت احتجاج کیا اور انکوری کا بھی مطالبہ کیا نہ تو زمہ داران کے خلاف کوئی کارروائی ہوئی اور نہ عوام کو فراہم کئے گئے پودوں کا کوئی ازالہ کیا گیا غریب کاشتکاروں کی محنت ضائع گئی اور لاکھوں پودے جانوروں کی خوراک تو نہ بن سکے البتہ سوکھ ضرور گئے اور اس طرح نہ صرف غریب کاشکار کا نقصان ہوا دوسری طرف محکمہ جنگلات ضلع کے مختلف نالوں میں موجود چیڑ اور جونی پر اورچیل وغیرہ کے درختوں کی حفاظت اہم اقدامات اٹھائے حکومت مناسب قانون سازی کرے جنگل چوروں ٹمبر مافیاں کو عبرت ناک سزائیں دے جنگلات کی تعداد زیادہ ہوگی تو ہمیں صاف ستھرا ماحول دستیاب ہوگا اور ہم آلودگی سے بچ جائینگے غذر میں تو اس وقت صورتحال یہ ہے کہ محکمہ جنگلات کی لاپرواہی سے ایک طرف بڑی تعداد میں فراہم کردہ پودے سوکھ گئے ہیں تو دوسری طرف مختلف درخت بھی بیماریوں کا شکار ہوئے ہیں ا وروقت سے پہلے ہی ان کے پتے گرنے لگے ہیں اور بڑی تعداد میں غیر پھلدار درختان سوکھ رہے ہیں ایسے حالات میں محکمہ جنگلات کی خاموشی پریشان کن ہے اگر محکمہ جنگلات نے فوری طور پر ان درختان کو نہیں بچایا تو خطے کے عوام کو مالی طور پر کروڑوں روپے کا نقصان ہوگااور ہزاروں غیر پھلدار درختان کے سوکھنے سے خطے میں ماحول کی الودگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے اس حوالے سے محکمہ جنگلات کو فوری طور پر خطے میں درختوں پر پڑنے والی بیماری کی روک تھام کے لئے اپنا کردار ادا کرنا ہو گا ورنہ یہاں پر موجود محدور جنگلات گنجے ہونگے اور دوبارہ پوددوں کو ان درختوں کے برابر لانے میں صدیاں لگ جائے گی دوسری طرف رواں سال محکمہ جنگلات کی طرف سے عوام کو سوکھے پودے فراہم کرنے کی عوامی شکایت سامنے آئی اس حوالے سے بھی باقاعدہ تحقیقات عمل میں لایا جائے اور جو عناصر بھی اس میں شامل ہیں ان کو قرار واقعی سزا دی جائے اور جو پودے مختلف بیمایوں کا شکار ہیں اس بیماری کے حوالے سے بھی اقدامات اٹھائے جائے اور عوام کو شعور دینے کی ارشد ضرورت ہے محکمہ جنگلات کے آفسیران اپنے دفتروں تک محدود ہونے کی بجائے فیلڈ میں چلے جائے اور جو درخت مختلف بیماریوں کا شکار ہیں ان بیماریوں کے خاتمے کے لئے فوری اقدامات اٹھائے اگر عوام کو فوری طور پر اگاہی مہم شروع نہیں کیا تو اگلے سال کوئی بھی کاشتکار محکمہ جنگلات کے پودے لگانے کو تیار نہیں ہو گا ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments