ڈگری کالج خپلو میں‌ لیکچررز کی کمی، تدریسی عمل متاثر

گانچھے ( محمد علی عالم ) ڈگری کالج خپلو میں لیکچرر کی کمی سے تدریسی عمل متاثر  ، لازمی مضامین سمیت سائنس کے تمام مضامین کی اساتذہ موجود نہیں ، صوبائی حکومت کی تعلیمی انقلاب کے دعوے کہاں گئے والدین اور طلبہ کا سوال ، کالج میں اساتذہ کی شدید کمی پر چیف سیکرٹری سے نوٹس لینے کا مطالبہ  تفصیلات کے مطابق ڈگری کالج خپلو میں لیکچرر کی شدید کمی کا سامنا ہے کالج میں صرف چھے لیکچرر موجود ہے کالج زرائع کے مطابق لازمی مضامین کی اساتذہ گزشتہ کئی سالوں سے موجود ہی نہیں ہے انگلش اور مطالعہ پاکستان کے اساتذہ تقریباً چھے جبکہ اردو کے لیکچرر دو سالوں سے تعینات نہیں ہے اسی طرح رواں سال تعلیمی سیشن  کی شروع سے سائنس مضامین کے لئے بھی لیکچررز موجود نہیں ہے ذرائع کے مطابق سائنس مضامین کیمسٹری، بیالوجی، فزکس اور ایجوکیشن کے سبجیکٹ کے لئے کنٹریکٹ پر لیکچرر کام کر رہے تھے تاہم انکے ایک سال کنٹریکٹ مکمل ہونے کے بعد دوبارہ رنیو نہ ہونے پر فارغ ہو گئے ہیں جس کے بعد کالج میں ریگولر بیس پر کام کرنے والے چھے مضامین کے اساتذہ رہ گئے  والدین اور طلبہ کا کہنا ہے کہ وزیر تعلیم ابراہیم نے بھی ضلع کے اکلوتے کالج سے منہ پھیر لیا تین سالوں میں ایک بار بھی کالج کا دورہ نہیں کیا صوبائی حکومت اور محکمہ تعلیم نے  ڈگری کالج خپلو کو لاوارث چھوڑ دیا اساتذہ کی کمی سے بچوں کی تدریسی عمل شدید متاثر ہے صوبائی حکومت کی تعلیمی انقلاب کہاں گئے ؟ انہوں نے چیف سیکرٹری سے ڈگری کالج خپلو میں اساتذہ کی کمی کا نوٹس لینے کا مطالبہ کر دیا
Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments