گلگت بلتستان کے وزیر اعلی اور ان کی کابینہ کے اراکین نے چور کے استقبال کے لئے عوامی وسائل استعمال کئے، ساجدہ صداقت

استور (پ۔ر ) پاکستان پیپلز پارٹی خواتین ونگ کی صوبائی سیکریٹری اطلاعات ساجدہ صداقت نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن ، ڈپٹی سپیکر جعفر اللہ خان ، صوبائی وزراء فرمان علی ، حاجی اکبر تابان پاکستان کو معاشی طور پر تباہی کے دہانے تک پہنچانے والے مجرم نواز شریف کے استقبال کیلئے سرکاری وسائل اور عہدے کا استعمال کرکے آئین اور قانون کی دھجیاں اڑائی ہیں جو انتہائی قابل مذمت ہے جبکہ نیب ایف آئی اے اور دیگر قومی اداروں کی جانب سے ابھی تک نوٹس نہ لیا جانا حیران کن ہے ۔ میڈیا کو جاری بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ حافظ حفیظ الرحمن قومی اداروں اور اعلیٰ عدلیہ کی تضحیک کے مرتکب ہو رہے ہیں اپنے مجرم قائد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے گلگت بلتستان میں لوٹ مار ، اقربا پروری اور میرٹ کی پامالی کے ذریعے علاقے کے وسائل کو ذاتی جاگیر سمجھ کر استعمال کررہے ہیں جبکہ گلگت بلتستان کے عوام تمام تر بنیادی ضروریات سے محروم ہوکر در بدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں ۔ ساجدہ صداقت نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ ، ڈپٹی سپیکر اور وزراء سرکاری گاڑیوں کا استعمال مسلم لیگ ن کی انتخابی مہم میں جاری رکھے ہوئے ہیں اور وزیر اعلیٰ کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ انتخابی مہم کے اختتام تک پنجاب میں موجود رہیں گے جس کا سیدھا سادھا مطلب یہ ہے کہ بحیثیت وزیر اعلیٰ انتخابی مہم میں حصہ لے رہے ہیں جو اکہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ قواعد و ضوابط کی سنگین خلاف ورزی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری وسائل کی لوٹ مار کے ساتھ حافظ حفیظ الرحمن نے گلگت بلتستان کی اعلیٰ ع۴دلیہ کے احکامات کو بھی پاؤں تلے روند ڈالتے ہوئے گلگت بلتستان آرڈر 2018کی معطلی کے باوجود گلگت بلتستان کونسل کے اثاثے صوبائی حکومت کو منتقل کر دینے کی سمری کی منظوری دی ہے جو توہین عدالت ہے اور گلگت بلتستان کے عوام اس بات کی توقع رکھتے ہیں کہ چیف جسٹس سپریم اپیلیٹ کورٹ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کو توہین عدالت کے مقدمے میں طلب کرینگے ۔
Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments