چترال کا سیاسی دنگل

تحریر: کریم اللہ

جوں جوں الیکشن کے دن قریب آتے جارہے ہیں مختلف سیاسی جماعتیں جلسے جلوسوں سے عوام کی ہمدردی سمیٹنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ انتخابات کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا اس کا فیصلہ تو 25جولائی کو ہوگا البتہ سیاسی پنڈٹ مختلف قسم کی پیش گوئیوں میں مصروف ہے کسی کے نزدیک پاکستان پیپلز پارٹی اور ایم ایم اے کا مقابلہ ہے تو کوئی مسلم لیگ ن اور ایم ایم اے کے درمیان مقابلے کی توقع رکھے ہوئے ہیں کسی کو مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان مقابلہ ہوتا ہوا نظر آرہا ہے۔ اس سب کے باوجود فی الوقت یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ 25 جولائی  کو کون سرخرو ہوتا ہے۔

البتہ موجودہ سیاسی صورتحال کا تجزیہ ضلع چترال کے گزشتہ دو انتخابات (عام انتخابات 2013 ء اور بلدیاتی انتخابات 2015ء ) کے تناظر میں کیا جائے تو اصل مقابلہ دونوں سیٹوں میں پاکستان تحریک انصاف اور ایم ایم اے کے درمیان ہونے کی توقع ہے ، اس دوڑ میں پاکستان پیپلز پارٹی تیسرے جبکہ ن لیگ فی الوقت چوتھے نمبر پر نظر آتے ہیں لیکن شہزادہ فیملی  آخر ی رات بھی سیاسی معرکہ سر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔

2013ء کے عام انتخابات میں  آل پاکستان مسلم لیگ کے شہزادہ افتخار 30 ہزار ووٹ لے کر پہلے جبکہ پاکستان تحریک انصاف قومی اسمبلی میں  25ہزار ووٹ لے کر  دوسرے نمبر پر رہے ۔ جبکہ جماعت اسلامی 20ہزار اور جمعیت علمائے اسلام کو قریب قریب 16ہزار ووٹ ملے تھے  اسی طرح پی پی پی کے امیدوار کو بھی 19 ہزارووٹ پڑے تھے۔ اس کے دو سال بعد بلدیاتی انتخابات میں متحدہ مجلس عمل کو 37ہزار کے قریب ووٹ ملے جبکہ پی ٹی آئی کے ووٹوں کا تناسب بھی قریب قریب 37 ہزار تھا۔

اب اس صورتحال کو ایک اور پہلو سے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں ،شہزادہ محی الدین اور پھر شہزادہ افتخارالدین کی کامیابی میں اپر چترال اور لوٹکوہ کے ووٹوں کا کلیدی کردار رہا ہے۔ لیکن شہزادہ افتخارالدین کے دور اقتدار میں ان علاقوں کی جانب  کوئی  توجہ نہیں دی گئی جس کی وجہ سے یارخون، ڑاسپور اور لٹکوہ سے شہزادہ فیملی کا ووٹ تقریبا ختم ہوکر پاکستان تحریک انصاف کی جانب منتقل ہوگیا ہے ۔اس کےعلاوہ ملک کے دوسرے حصوں کی طرح چترال میں بھی نوجوان آبادی کا 90 فیصد اب بھی پاکستان تحریک انصاف کو سپورٹ کررہے ہیں ان میں سے سیکولر اور مذہبی ہر دو قسم کے نظریات کے حامل ووٹر شامل ہے۔ جبکہ پاکستان میں نوجوان کل آبادی کا 67 فیصد ہے ۔ ایم ایم اے کے مقابلے میں پاکستان تحریک انصاف کو یہ بھی فائدہ حاصل ہے کہ اس الیکشن میں ان کو ہر پولنگ اسٹیشن سے بھاری تعداد میں ووٹ پڑینگے اور ان میں سے اکثر یت نوجوان ووٹرز کے  ہونگے جو زندگی میں پہلی بار ووٹ کاسٹ کررہے ہیں ۔

دیکھا جائے تو اس وقت پی ٹی آئی سب سے آگے ہیں جس کا   مقابلہ ایم ایم اے کے ساتھ ہونے کی توقع ہے ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments