داس جپوکے میں‌پانی کی قلت، خواتین دو کلومیٹر دور سے پانی لانے پر مجبور

غذر(بیورو رپورٹ)ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر گاہکوچ سے بیس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع گاؤں داس جپوکہ کے عوام اس دور جدید میں بھی پانی کی بوند بوند کے لئے ترس رہے ہیں گاؤں میں خشک سالی کی وجہ عوام کی تما م فصیل سوکھ گئی ہیں اور عوام نقل مکانی پر مجبور ہوگئے یہاں کی خواتین دو کلومیٹر کا سفر طے کر کے گاؤں گیچ سے اپنی کندھوں پر اٹھا کر پانی لانے پر مجبور ہیں مگر وقت کے حکمرانوں کو کوئی احساس تک نہیں گاؤں کی سیر ابی کے لئے دریائے غذر میں واٹر ٹینکی بھی بنائی گئی ہے مگر تاحال وہاں سے بھی پانی کی فراہمی نہ ہوسکی اب تو پھیلدار وغیر پھیلدار درخت بھی سوکھ رہے ہیں گاؤں کے مکینوں نے کئی بار اعلی حکام سے بات کی مگر کوئی پیش رفت نظر نہیں آتی صرف تسلیاں دی جاتی ہے گاؤں کے لوگوں کا روزگار صرف زراعت سے وابسط ہے مگر خشک سالی سے ان کی تمام فصیلں سوکھ گئی ہے اور اب تو پینے کا پانی بھی دستیاب نہیں سابق چیرمین یونین کو نسل صفی اﷲاور عمائدئن داس جپوکہ نے میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت نے انھیں پانی کی فراہمی کو یقین نہ بنایا تو وہ نقل مکانی پر مجبور ہونگے چونکہ اب تو پینے کا پانی بھی ہماری خواتین کئی کلومیٹر دور پیدل سفر کرکے اپنے کندھوں پر اٹھاکر لانے پر مجبور ہیں عمائدین نے چیف سیکریٹری گلگت بلتستان سے گاؤں داس جپوکہ کے عوام کوپینے اور سیرابی آب کا پانی فراہم کرنے کے احکامات جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments