دوارداس اشکومن کے مکین سانحہ بدصوات کے نو روز بعد بھی محصور، کوئی مدد کو نہ پہنچ سکا

اشکومن(کریم رانجھا) ؔ اشکومن کے محصور گاؤں دوارداس کے متاثرین بے یارومددگار،نو روز گزرجانے کے باوجود امداد سے محروم،اشیائے خوردونوش کی شدید قلت ،حکومتی اداروں سمیت دیگرکسی این جی اونے پوچھنا گوارا نہیں کیا،بیماروں کو دوا دستیاب نہیں ۔سترہ جولائی کے بدترین سیلاب کے بعد سے اب تک محصور گاؤں دوار داس کے چودہ گھرانوں کا نو روز گزر جانے کے بعد بھی کوئی پرسان حال نہیں ،اشیائے خوردونوش کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے ،آٹا نایاب ہو چکا حتیٰ کہ ادویات بھی علاقے میں موجود نہیں ،دوارداس گاؤں سے جان جوکھوں میں ڈال کرادویات لینے بلہنز تک پہنچنے والے طالب علم اکبر نے بتا یا کہ سترہ جولائی کے بعد سے اب تک سرکار سمیت کسی این جی او نے علاقے کی خبر نہیں لی ہے،چودہ گھرانوں کے مکین ہردم خوف کے سائے میں زندگی گزار رہے ہیں ،علاقے میں اشیا ئے خوردونوش ناپید ہیں ،آٹا پیسنے کے لئے بجلی موجود نہیں ،بچے بیمار ہیں لیکن ادویات دستیاب نہیں ،حکومت سمیت دیگر اداروں کی توجہ برصوات کی جانب ہے اور اس گاؤں کے مکینوں کا کوئی پرسان حال نہیں ،گزشتہ نو روز سے جاری سیلاب کی وجہ سے عوام ذہنی مریض بن چکے ہیں۔
Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments