برسراقتدار پارٹی اور گلگت بلتستان کی امیدیں

تحریر ظفراقبال

کامریڈ سٹالن  بالشویک پارٹی کے ایک اجلاس میں شرکت کے لئے ایک مرغا کو ساتھ لے کے حاضر ہوئے جب سٹیج پر تقریر کرنے پہنچے تو سب سے پہلے اس نے انتہائی بے دردی کے ساتھ اس مرغا کے جسم پے موجود تمام پنکھوں اور پر نوچ لئے۔مرغا درد کے مارے بلبلاتا رہا ۔ سٹالن نے پھر ایک ایک دانہ پھینک کر کمرے سےباہر نکلا ۔مرغا ان دانوں کو کھاتا ہوا سٹالن کے پیچھے پیچھے کمرے سے باہر چلا گیا۔یہی عمل دہراتا ہوا سٹالن دوبارہ کمرے میں ائے تو مرغا بھی اس کے پیچھے سے سٹیج تک پہنچ گیا۔
سٹالن نے پھر اپنی تقریر شروع کی اور کہا کہ سرمایہ دار ممالک پہلے اپنے عوام کو نوچ لیتے ہیں ۔جس طرح میں نے اس مرغا کو نوچا۔ایسی طرح جب عوام کے پاس کچھ بھی نہیں رہتا تو ان کو تھوڑی  کچھ مراعات دی جاتی ہیں تو وہ بہت خوش ہوتے ہیں ۔جس طرح اس مرغے کو میں نے دو دانے ڈال دیئے یہ میرا غلام بن کے میرے پیچھے چل رہا۔
سرمایہ داری معاشیات کے حامل ممالک کا المیہ یہی ہے کہ ان   ممالک کے ہاں اپنی عوام کے  فلاح و بہبود کے لئے کوئی لائحیہ عمل  نہیں ہوتا۔سرمایہ چند ہاتھوں میں گردش کرتا رہتا ہے ۔ غریب اور امیر میں فرق بڑھتا جاتا ہیں۔یہی سرمایہ دار جب اقتدار تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں تو ملکی قوانین بھی اپنے مفادات کے لئے تبدیل کرتے رہتے ہیں۔ان قوانین کا ٹکراو عوام کی مفاد سے ہوتا ہے۔اور ملک میں افراتفری دہشت گردی ۔چوری دھوکہ قتل غارت گری بے روزگاری اپنی عروج پر ہوتی ہے۔یہ ممالک پھر معاشی منحوس چکر کی گرداب میں بھری طرح پھنس جاتے ہیں۔
پاکستان ایسے ممالک کی لسٹ میں سر فہرست ہے۔پاکستان جس مقصد کے لئے بنایا گیا تھا ان مقاصد کو پس پشت ڈالا گیا ۔ایک لیبرل اور ڈیموکریٹک  پاکستان جو  انتھک جہدوجہد کے بعد حاصل ہوا تھا اج مسلح جتھوں کے ہاتھوں یرغمال بنا ہوا ہے اور عالمی سطح پر بھی کسی حد تک تنہائی کا شکار ہے۔عالمی مارکیٹ تک پاکستانی مصنوعات کی رسائی ناممکن ہو چکی ہیں۔اور ایسی حالت میں ملک کا grey list  میں شامل ہونا اس ترقی پزیر اور تیسری دنیا کے ملک کے لئے خوش ائند نہیں ہے۔
بیرونی قرضوں کا حجم تشویشناک حد تک بڑھ چکا ہے۔ہر پیدائشی بچہ ایک لاکھ کا مقروض ہے۔گردشی قرضوں کے سود کی مد میں indirect taxes  کا سہارا لیا جاتا جس سے عام ادمی کی زندگی بھری طرح متاثر ہوتی ہے۔اشیاء خورنوش کی قیمیں اسمان پر پہنچ جاتی ہے۔اور غریب کی قوت خرید کم ہو جاتی ہے
سرمایہ دار  نےانپی دولت چھپایا ہوا ہیں یا پھر بیرونی ممالک میں منتقیل کر چکا ہے۔جس کی وجہ سے direct tax کی مد میں حاصل ہونے والی رقم ملکی ضروریات کی تکمیل میں نا کافی ہوتی ہے۔
ایک ایسے وقت میں جب غریب عوام پر پہلے ہی بیرونی قرضوں کا بوجھ ڈالا گیا ہے اب ان عوام  سے چندہ وصول کر کے دیامر ڈیم بنایا جاتا ہیں۔اللہ کریں یہ ممکن ہو لیکن دنیا کی تاریخ میں چندے سے کبھی کہی پے ڈیم نہیں بنے ہیں۔
دیامر ڈیم اگر بنانا ہی ہے تو برائے مہربانی اس میں ہونے والے خردبرد اور کرپشن کا حساب لیا جائے ۔زرائعے بتاتے ہیں کہ اس میں زمینوں کی  مد میں بڑی پیمانے میں کرپشن ہوئی ہے۔
حالیہ انتخابات میں برسراقتدار سیاسی پارٹی پاکستان تحریک انصاف کا منشور  ہی کرپشن کا خاتمہ ہے۔امید یہی رکھ سکتے ہیں کہ احتساب کی دئرہ کار کو گلگت بلتستان تک بڑھایا جائے۔
٢٥ تاریخ کو ہونے والے انتخابات میں پاکستان کے عوام نے اپنے حق رائے دہی استعمال کرتے ہوئے اپنے پسندیدہ امیدوار کو ووٹ دئے۔اس دن پورے ملک کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان میں بھی عام تعطیل تھا۔تمام نجی اور سرکاری ادارے بند تھے۔لوگ گھروں میں ارام سے ٹی وی کے سامنے بیھٹے ریے۔اور سوالوں کے انبار انکی ذہنوں میں پیدا ہو رہے تھے۔اور اس کا اظہار سوشل میڈیا پے کر رہے تھے۔
گلگت بلتستان کے باسی گزشتہ ستر سالوں سے بنیادی انسانی حقوق سے محروم چلے ا رہے ہیں۔اس محرومی کے پیچھے سب سے بڑا ہاتھ یہاں کے عوام کا اپنا ہیں ۔کیونکہ انہوں نے کبھی گلگت بلتستان کی مسئلے کو سرے سے سمجھا ہی نہیں۔اور گزشتہ ستر سالوں سے ایک ہی مطالبہ لیے اپنا قیمتی وقت ضائع کر چکے ہیں۔حالانکہ صوبے کا مطالبہ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحده کے قراردادوں کی نفی ہیں۔ہمارے سیاسی شعور سےعاری قیادت نے کبھی مسئلہ کشمیر کو سمجھنے کی کوشیش ہی نہیں کی۔اگر ہمارے سیاسی نمائندے صوبے کے مطالبے سے دستبردار ہو کر ایک متنازعہ خطے کی حقوق کے لئے جدوجہد کرتے تو اج خطے کی تقدیر ہی بدل جاتی لیکن صد افسوس کی وفاقی پارٹیوں نے اپنے مفادات کے خاطر ہمیشہ گلگت بلتستان کے لوگوں کو اندھیروں میں رکھا اور ائینی صوبے کا سبز باغ دیکھا کر یہاں کے وسائل کو مال غنیمت سمجھ کر لوٹتے رہیں۔
1973کی ائین کے مطابق سات لاکھ افراد کے لئے ایک قومی اسمبلی کی سیٹ اور تین لاکھ افراد کے لئے ایک صوبائی سیٹ مختص کی گئی ہے۔حالیہ مردم شماری کے مطابق گلگت بلتستان کی مجموعی ابادی چودہ لاکھ دیکھایا گیا ہیں۔اس تناسب سے گلگت بلتستان کے لئے قومی اسمبلی میں دو سیٹں اور صوبائی اسمبلی میں پانچ سیٹں مختص ہونگے۔کیا دو افراد قومی اسمبلی میں ہمارے مفادات کا تحفظ یقینی بنا سکیں گے؟؟؟
جمعیت علماء اسلام ۔پختون خواہ عوامی ملی پارٹی کی اچھی خاصی تعداد قومی اسمبلی میں موجود ہوتے ہوئے فاٹا کی kpk کے ساتھ ملانے کی قرارداد کو نہیں روک سکے تو بلا ہمارے دو ممبران ہمارے حقوق کا کیا تحفظ کر پائنگے۔
اس لئے ہمیں ایک باشعور قوم ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے صوبے کی مطالبے سے خود کو دستبردار کرنا چائیے۔
اور پاکستان تحریک انصاف سے بھی زیادہ امیدیں وابستہ نہیں کرنا چائیے۔کیونکہ کوئی بھی وفاقی پارٹی گلگت بلتستان کے حوالے سے اذادانہ فیصلے نہیں کر سکتے۔کیونکہ گلگت بلتستان کے اندرونی معاملے میں دخل اندازی سے پہلے ملٹری اسٹبشمنٹ سے مشورے اور ان کی ہدایات پر عمل درامد کیا جاتا ہیں۔یہی وجہ ہے کہ گلگت بلتستان میں کبھی سیاسی قیادت مظبوط نہیں ہوسکی۔دو ہی قوتیں ہیں اسٹبشمنٹ اور بیروکریسی وہ خارجی اور اندرونی معاملات کو ڈیل کرتے ہیں۔سیاست کو یہاں کبھی پھولنے پھلنے کا موقع ہی نہیں دیا گیا۔اس لئے یہاں کے نوجوانوں کے ذہنوں میں ایک دبی ہوئی چنگاری موجود ہیں ۔فرصت اللہ بابر نے اپنے ان خدشات کا اظہار کر چکا ہے۔طاقت ہر مسئلے کا حل نہیں ہوتا۔کچھ مسائل سیاسی نوعیت کے ہوتے ہیں۔جن کا حل سیاست سے ہی ممکن ہیں
اس وقت عمران خان کے سامنے بہت بڑے چیلنجز ہیں۔ملکی ابتر معاشی نظام ۔سیاسی عدم استحکام ۔بیرزگاری ۔دہشت گردی۔ان سب سے فرصت ملنے تک بہت وقت لگے گا۔اس لئے گلگت بلتستان والے اپنے حدود کی دئرہ کار میں رہتے ہوئے اپنے مسئلے کو بین الااقومی سطح پے اٹھانے کی ضرروت ہیں۔
یہ ظلمت شب ہے گھپ اندھیرا ہے۔۔اس سے کیا امید سحر رکھنا

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments