لفافہ،کافر،غدار

تحریر:حبیب اللہ آل ابراہیم

زن،زر اور زمین کے بارے میں سنا تھا کہ یہ انتھائی خطرناک اور فساد کی جڑیں ہیں ان کی وجہ سے بھائی بھائی کا دشمن بن جاتا ہے۔اس آسمان کی بوڑھی آنکھوں نے زن،زر اور زمین کیلئے ہونے والے انگنت قتل و غارت،خون کی ہولیاں،بادشاہوں کی ایک دوسرے پر فوج کشی،تخت وتاج کی بربادی سمیت کیا نہیں دیکھا لیکن اب زمانے میں آنے والی جدت نے ترجیحات بدل کر لفافہ،کافر اور غدار کے نام سے نیا تیر بہ ہدف نسخہ ایجاد کرکے دنیا کو انگشت بدنداں کرکے رکھ دیا ہے جو کسی بھی باعزت شخص کی عزت نیلام کرنے اور اس پر کیچڑ اچھالنے کا اب تک کا موثر ترین ہتھیار ہیں۔فی زمانہ یہ ایٹم بم سے بھی زیادہ طاقت ور ہیں۔ان کے سامنے دنیا کے جدید اسلحے اپنی کم مائیگی اور کوتاہ دامنی پر شرم سار ہیں! ان سے پنجہ آزمائی کا مطلب اپنا پنجہ توڑوانا ہے جس نے بھی ان میں سے کسی ایک سے بھی پنگا لیا اس نے زندگی کی بہت بڑی غلطی کی اس کے برعکس جس نے بھی اِن سے فائدہ اٹھایا وہ مقدر کا سکندر ٹھہرا۔اور تو اور یہ حریفوں کو بلکہ اپنے سے کئی گنا طاقت وروں کو زیر کرنے کیلئے شرطیہ تیر بہ ہدف نسخہ ہے۔جو بھی شخص جس کا دامن نچوڑ کر خواہ فرشتے وضو کیوں نہ کریں اختلاف رائے کی صورت میں یا ناجائز مفادات کی راہ میں رکاوٹ بننے کے پاداش میں لفافی کا سابقہ یا لاحقہ نام کے ساتھ جوڑا کر اس کی عزت کو چارچاند لگایا جاسکتا ہے اب تو سوشل میڈیا نےہر”بندر کے ہاتھ میں استرا”دے کر اس کام کو مزید آسان بنا دیا ہے!۔زن ،زر اور زمین کی حفاظت کرنی پڑتی ہے لیکن جو ہمارا موضوع گفتگو ہے ان کی حفاظت کیلئے نگران ہونے کی قطعی ضرورت نہیں۔اس کا طریقہ استعمال(واردات)بھی مختلف ہے! لفافہ،کافر اور غدار کی طاقت کا اندازہ آپ اس بات سے بھی لگا سکتے ہیں کہ یہ زن،زر اور زمین کے حصول کیلئے بھی آزمودہ اور مجرب نسخہ ہے۔کسی طاقت ور حریف کے وجود سے تنگ ہیں اور آپ اس کی شکل دیکھنا بھی پسند نہیں کرتے تو اس پر کسی بھی ادارے یا شخص سے لفافہ لینے کا الزام عائد کرکے اس کی عزت سر بازار نیلام کر سکتے ہیں اس سے بھی آپ کے دل کو سکون میسر نہ آئے تو غداری کا تیر بہ ہدف اور آزمودہ نسخہ بروئے کار لایا جاسکتا ہے اس سے بھی مراد برنہ آیا تو کفر سازی کی صنعت سے رجوع کرکے اس کی ناپسندیدہ وجود سے با آسانی گلو خلاصی حاصل کیا جا سکتا ہے۔زندگی بھر کی ایمانداری،خدا ترسی،بے داغ جوانی اور نیک نامی وغیرہ جائے باڑ میں،مختلف نظریہ کا حامل ہونے کے جرم میں کوئی بھی شخص لفافہ لینے کا الزام عائد کرکے آپ کی عزت کی دھجیاں اڑا سکتا ہے اس پر بھی دال نہ گلے تو غدار ٹھہرانے کا حق محفوظ رکھتا ہے اس سے بھی مطلوبہ نتیجہ برآمد نہ ہوا تو کفرکا فتویٰ کسی فتویٰ ساز فیکٹری سے حاصل کرنے میں دیرنہیں لگاتا جس کے بعد تماشا دیدنی بھی اور عبرتناک بھی ہوتاہے۔کھایا پیا مچھا والا پکڑا گیا داڑھی والا کے مصداق صحافیوں پر محص الزام ہے جس طرح شاعر نے کہا ہے ´´اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا“صحافیوں کے علاوہ اس عالم آب گل میں لفافہ لینے والے اور بھی ہیں۔ہرشعبے میں لفافی موجود ہیں جنہوں نے اس مقدس شے کو بدنام کیا اب اس کی بدنامی کے انتقام کے نشانے پر ہرصاحب عزت ہے علماء پر دوسرے مسلک سے لفافہ لینے کا،ٹھیکیدار پر دوسرے ٹھیکیدار کو ٹینڈر فارم فروخت کر کے لفافہ لینے اور ایکسیئن کو لفافہ دینے کا،ڈاکٹر پر مریض سے انجینئر پر ٹھیکیدار سے اور اساتذہ پر شاگردوں سے لفافہ لینے کا الزام کسی شرعی اور قانونی گرفت سے آزاد ہو کر لگایا جا سکتا ہے۔مزے کی بات یہ ہے کہ کئی سرکاری اہلکار ایسے ہیں جن کو قائد اعظم کی تصویر سے بہت زیادہ پیار ہے اس لئے کسی لفافے کے بغیر حصول چاہتے ہیں۔اس لئے کوئی نہیں کہتا لفافہ پٹواری،لفافہ قانون گو،لفافہ تحصیلدار،لفافہ کلرک!یہ لوگ تنخواہوں کی کمی پر گاہے احتجاج بھی کرتے نظر آتے ہیں لیکن ان کے شاہانہ طرز بود و باش پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ ایک بوڑھی خاتون نے ڈپٹی کمشنر کو پٹواری کے عہدے پر ترقی پانے کی دعا کی تھی۔کم از کم راقم نے کسی کو ان پرلفافہ لینے کا الزام عائد کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔کہتے ہیں قدیم زمانے میں ایک پٹواری صاحب اپنے حلقے میں کسی مکان میں عارضی طور پر رہائش پذیر ہوا اس کے جانے کے بعد اس گھر سے کئی کلو مرغی کے پنجے برآمد ہوئے کسی نے اس کو مرغی خور پٹواری،مرغ پٹواری،مرغا پٹواری نہیں کہا یا اسی قبیل کا کوئی اور لاحقہ یا سابقہ اس کے نام کے ساتھ نہیں جوڑا۔پولیس والوں کو لفافے سے نفرت ہے وہ سائیڈ پر لے جاکر چائے پانی یا عید کے ایام میں عیدی کے نام پر جیبیں بھرتے ہیں مگر حیرت کی بات یہ ہے کسی نے پولیس والوں کو چائے پانی والا،عیدی والا یا اس سے منسلک کوئی اور لاحقہ یا سابقہ نام کے ساتھ پیوند کاری کرنے کی جرات نہیں کی۔اطلاعات کے مطابق ایک سیکرٹری خزانہ نے جی بی سے مبینہ طور پر جو کمایا وہ لفافوں میں نہیں سمویا جارہا تھا اس نے بوریوں کی خدمات لیں اسے بوری والا نہیں کہا گیا۔

پرانے وقتوں میں جب ٹیلی فون کی سہولیات نہیں ہوتی تھیں تو یہی لفافہ تھا جو پیاروں کے خط کو دامن میں سمیٹ کر منزل تک پہنچانے کا کام کرتا تھا ان لفافوں اورخطوط کی اہمیت اتنی تھی کہ تاریخ میں ان خطوط کو سرمایہ کے طور پر سنبھالے نظر آتا ہے اس کا اندازہ اکبرآبادی کے اس شعر سے بخوبی ہوتا ہے:

چند تصویر بتاں چند حسینوں کے خطوط

بعد مرنے کے میرے گھرسے یہ سامان نکلا

جبکہ اثر لکھنوی اسے دنیا جہاں کی دولت قرار دیتے ہیں:

آپ کا خط نہیں ملا مجھے

دولت دو جہاں ملی مجھ کو

لیکن وقت گزرنے کے ساتھ جب انسان کی ضرورت بدلی اورخط و کتابت کی ضرورت نہیں رہی تو نہ صرف اس کی اہمیت ختم ہوتی گئی بلکہ لفافے کو تو بدنام کر ہی دیا،لینے والے کی بھی خیر نہیں ہے۔اب تو صورتحال یہ ہے کہ کسی کو ملازمت کے تبادلے کاحکمنامہ ،کسی کی تقرری یا ترقی کالیٹر موصول ہوجائے تو بھی خوشی کے بجائے خوف سا رہتا ہے کہ کہیں کوئی یہ الزام نہ لگائے کہ فلاں شخص

کو فلاں شخص سے لفافہ لیتے ہوئے دیکھا ہے،حالانکہ پچھلے وقتوں میں خط وکتاب کی عزت اس قدر کی جاتی تھی کہ جب اپنے پیاروں کا خط موصول ہوتا تو فرط جذبات سے بقول چیئرمین نیب سرسے پائوں تک چوم لیا جاتا۔اس حوالے سے مرید باقر انصاری کا ایک شعرملاحظہ فرمائیں:

یوں خط تمھارے جان ادا چومتا ہوں میں

ہر ایک لفظ لفظ لکھا چومتا ہوں میں

اس خط کی بدولت نامہ بر کو بھی عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا اس کے لئے دعا بھی کی جاتی۔میرتقی میر جہاں خط میں تحریر مضمون کے بارے میں اجمالی اشارہ کرتا ہے وہاں نامہ بر کیلئے دعا بھی کرتا نظر آتا ہے۔

لپیٹا ہے دل سوزاں کو اپنے میر نے خط میں

الہٰی نامہ برکو اس کے لے جانے کی تاب آجاوئے

خواجہ حیدرعلی آتش کی سوچ تھوڑی مختلف ہے وہ نامہ بر میسر نہ آنے پرخوش اور اسی بہانے محبوب کے سامنے خود حاضر ہونا چاہتا ہے۔

پیامبر نہ میسر ہوا تو کیا خوب ہوا

زبان غیر سے کیا شرح آرزو کرتے

خطوط نویسی یا مکتوب نگاری کی تاریخ اتنی پرانی ہے جتنی آبائے آدم کی تاریخ ہے۔مرزا غالب نے اس میں جدت لائی جبکہ مولانا حالی،مولانا ابوالکلام آزاد،ڈپٹی نذیر وغیرہ نے اس کو پروان چڑھایا۔

دوسرا موضوع گفتگو”کفر” ہے ۔ یہ عربی زبان کا لفظ ہے، عربی لغت کے اعتبارسے اس کے لغوی معانی کسی چیز کو ڈھانپنا،کسی چیز کو چھپاناہے ۔اسی طرح ایک اورعربی لغت کی کتاب کے مطابق کسی چیز کو جاننے کے بعد اس کو نہ ماننا، اس کو رد کرنا، اس کا انکار کرنا کفر ہے۔جبکہ اسلامی اصطلاحات کے مطابق ہر وہ قول اور فعل جو ایمان کے خلاف ہو،کفر ہے۔

آپ جس کتاب سے بھی تعریف لے آئیں جدید دور میں کفر کا تعین ہرکوئی اپنے مفاد کوسامنے رکھ کر اپنی مرضی سے کرتا ہے سوشل میڈیا پر وہ شخص بھی بنا کسی دلیل اور منطق کے کفرکا فتویٰ جاری کر رہا ہوتا ہے جس کو کلمہ بنائے اسلام اور کلمہ بنائے ایمان کا بھی پتہ نہیں ہے لوگوں نے اپنے مفاد کے حصول کیلئے باقاعدہ کفرسازی کی صنعتیں قائم کر رکھی ہیں بس اختلاف رائے یا مفادات کی راہ میں رکاوٹ کی دیر ہے فتوی جاری ہونے میں دیرنہیں لگتی ۔اختلافات پر ایک دوسرے پر کفر کے فتووں کی تاریخ بہت پرانی ہے۔جو شخصیات کفر کے فتووں کی زد میں رہے ان میں عظیم صوفی بزرگ و عالم جنید بغدادی،عبدالقادر جیلانی ، صوفی شاعر جلال الدین رومی،عطار،منصور حلاج،امام غزالی،مولانا شبلی نعمانی،امام ابوحنیفہ،امام شافعی،شاعرمشرق علامہ اقبال اور قائداعظم ودیگر شامل ہیں۔بانی پاکستان کو تو خاکم بدہن کافر اعظم کہا گیا۔

معروف شاعر جلیل حیدر لاشاری نے حالت کی نزاکت کو اپنے شعر میں یوں بیان کیا ہے۔

جانے کب کون کسے مار دے کافر کہہ کر

شہرکا شہر مسلمان بنا پھرتا ہے

اسی تناظرمیں شکیل جعفری کی ایک نظم پیش خدمت ہے۔

جوہم کہتے ہیں یہ بھی کیوں نہیں کہتا،یہ کافرہے

ہماراجبر یہ ہنس کر نہیں سہتا، یہ کافرہے

یہ انسان کو مذاہب سے پرکھنے کا مخالف ہے

یہ نفرت کے قبیلوں میں نہیں رہتا،یہ کافرہے

یہ بادل ایک رستے پرنہیں چلتے یہ باغی ہیں

یہ دریا اس طرف کو کیوں نہیں بہتا،یہ کافرہے

ہیں مشرک یہ ہوائیں روز یہ قبلہ بدلتی ہیں

گھنا جنگل انہیں کچھ بھی نہیں کہتا،یہ کافرہے

یہ تتلی فاحشہ ہے یہ پھولوں کے بسترپہ سوتی ہے

یہ جگنو شب کے پردے میں نہیں رہتا، یہ کافرہے

شریعاً توکسی کا گنگنانا بھی نہیں جائز

یہ بھنورا پھر بھلا کیوں چپ نہیں رہتا ،یہ کافرہے

غداری کی تاریخ بھی پرانی ہے جتنی غداروں کی تاریخ ہے برصغیرمیں عہدے کے حصول کیلئے وطن اورعوام سے غداری کے زریعے میرجعفر اور میر صادق نے شہرت پائی تاریخ نے ان کے سینے پرہمیشہ کیلئے غداری کا تمغہ سجایا میرجعفر اور میر صادق کا کردار برصغیر میں استعارہ کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ علامہ اقبال نے بھی اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:

جعفراز بنگال صادق ازدکن

ننگ آدم ،ننگ دین ،ننگ وطن

لیکن دورجدید میں ہر وہ شخص غدار ہے جو دوسرے سے اختلاف رائے رکھتا ہے حق بات یا تعمیری تنقید کرتا ہے حق اورسچ کی کسوٹی آج کل اسی کو ٹھہرایا جانے لگا ہے جس نے زندگی میں جھوٹ بولنے کی تاریخ رقم کی ہے ہر وہ کام کرکے دیکھایا جس پر پہلے تنقید کرتا رہا مخالفین پر تنقید کے تیر اور برچھی چلانے والا آج معمولی تنقید بھی برداشت نہیں کرپا رہا ہے اسی کی کنٹینری اعلیٰ تربیت کا نتیجہ ہے کہ ان کے سوشل میڈیائی خدائی فوجدارار اختلاف رائے رکھنے والوں کی مٹی پلید کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہے لفافیوں کی لسٹ تو بنائی ہی ہے اب غدار اور کفر کے آزمودہ نسخے کو بھی بروئے کار لایا جا رہاہے۔غداری کی تعریف آئین کے آرٹیکل 6 میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے لیکن اس کے بارے میں کون سمجھائے۔بغیر ثبوت کے لفافی قرار دیا جاسکتا ہے تو غدار کہنے سے کون روک سکتا ہے۔

سوشل میڈیا پر ہر اس صاحب عزت شخصیات کی جس کا سوچنے کا طریقہ مختلف ہونے پر کردار کشی کا جو سلسلہ شروع ہوچکا ہے اس سے کوئی بھی محفوظ نہیں ہے یہ سلسلہ شتربے مہار کی طرح ہرسامنے آنے والوں کو قدموں تلے روندتے ہوئے آگے بڑھ رہا ہے ۔بظاہر یہ وقتی طور پر مطلوبہ نتائج دے سکتا ہے لیکن اس کے جو منفی اثرات ہیں اس سے نئی نسل کو بچانا انتہائی مشکل نظر آرہا ہے۔کوئی اس خوش فہمی میں نہ رہے کہ اس سے راستہ کٹ رہا ہے بلکہ یہ ہمیں منزل سے دور لے جا رہا ہے۔معاشرے میں تخریب کارانہ سوچ کے بجائے صحت مندانہ سوچ کو پروان چڑھانے کیلئے سنجیدہ اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔اللہ رب العزت سے دعا ہے کہہ ہم سب کو اسلام کے سنہرے اصولوں پرعمل پیرا ہونے کی توفیق عطاء فرمائے۔ما علینا الاالبلاغ

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments