عمران خان سے توقعات

 تحریر:۔دردانہ شیر

چین ہم سے دو سال بعد آزاد ہوا ہے مگر آج ترقی کے میدان میں دیکھا جائے تو دنیا کو پیچھے چھوڑ دیا ہے اور اس وقت دنیا میں ستر فیصد مصنوعات چائینہ کی فروخت ہوتی ہے اور چائینہ نے پوری دنیا کی مارکیٹ میں اپنا قبضہ جمایا ہوا ہے بتایا جاتا ہے کہ چین کے انقلابی لیڈر ماوزے تنگ نے اپنے قوم کو چار اُصول بتائے تھے جن میں برداشت،تسلسل،خودانصاری،اور عاجزی شامل ہے یہ چار خوبیاں چین کے بانی مووزئے تنگ میں بھی موجود تھیں۔چین کے بانی کا برداشت کا انداز اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ دنیا کے بہادر سے بہادر انسان بھی اپنی اکلوتی اولاد کی موت پر آنسو کنٹرول نہیں کرسکتا کوریا کے جنگ میں مووزئے تنگ نے اپنا اکلوتا بیٹا جنگ میں بھیجوا دیا بیٹے کی نعش واپس آئی تو یہ کہہ کر رونے سے انکار کیا کہ میں اس غم میں اکیلا نہیں ہوں میرے جیسے ہزاروں والدین کے بچے اس جنگ میں مارے گئے میں پہلے ان کے آنسو پونچھو گا بتایا جاتا ہے کہ موزوے تنگ کے بارے میں کہ انھیں انگریزی زبان میں عبور حاصل تھا مغرب میں چھپنے والی کتابوں کو منگوا کر پڑھتے تھے 1972میں رچرڈنکسن چین میں مووزی تنگ سے ملنے گئے تو مووزے تنگ نے ان کو ان کی کتابیں دیکھائی نکسن یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کیونکہ مووزی تنگ نے نہ صرف ان کی کتابیں پڑھ رکھی تھی بلکہ اوراق پر فٹ نوٹس بھی تھے اور بعض جگہوں پر سوالیہ نشان بھی مگر ان تمام انگریزی دانی کے باوجود ماوزے تنگ کسی دوسرے شخص کے سامنے انگریزی تک نہیں بولا اسکی وجہ چین اور چینی زبان سے محبت تھی وہ کہتے تھے کہ میں دنیا کو بتانا چاہتا ہوں چین گونگا نہیں اس کی ایک زبان ہے اگر دنیا ہمارے قریب آنا چاہتی ہے یا ہمیں سمجھنا چاہتی ہے تو اسے ہماری زبان سمجھنا اور جاننا ہوگی یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ اتنے بڑے عالمی لیڈر نے پوری زندگی میں کسی بھی ملک کا دورہ نہیں کیا انھوں نے کبھی بھی کسی دوسرے زمین پر پاؤں نہیں رکھا وہ کہتے تھے میں چین کا لیڈر ہوں چین میں رہونگاچنانچہ اسکی جگہ چواین لائی دوسرے ممالک کے دورے کرتے تھے اور آپ کی برداشت کی انتہا دیکھے کہ انگریزی زبان سمجھتے تھے لیکن جب انھیں انگریزی زبان میں کوئی لطیفہ سنایا جاتا تھا تو وہ خاموش ہوجاتے تھے لیکن جوں ہی اس لطیفے کا چینی زبان میں ترجمہ کیاجاتا تھا تو کھلکھلا ہنستے تھے یہ وہ لیڈر شپ تھی جسکے پاس پوری زندگی تین جوڑے کپڑے،دو جوڑے جوتے،اور تین مرلے کے گھر میں اپنی زندگی کی آخری ساعتیں گزاری جس نے اپنے ملک کو سُپر پاور بنایا دیا جس نے اپنے ازلی دشمنوں کو میڈ ان چائینہ پر مجبور کیا چین آج ایک ایسا ملک بن گیا ہے کہ امریکہ جیسا ملک اپنے قومی دن کے موقع پر آتش بازی کا سامان چین سے منگواتا ہے آج دنیا میں ستر فیصد مصنوعات چین کی فروخت ہوتی ہے یہ جان کر ہمیں حیرت ہوتی ہوگی کہ چین کے لوگوں نے پاکستان کے ذریعے دنیا دیکھنا شروع کیا پی آئی اے پہلی انٹرنیشنل ائیرلائن تھی جسکی جہاز نے پہلے چین کی سرزمین کوچھوا پی آئی اے کی جہاز کی چین میں لینڈنگ پر پورے چین میں جشن منایا گیا بتایا جاتا ہے کہ پاکستا ن نے صدر ایوب کے دور حکومت میں چین کو تین جہاز فروخت کردئیے ان میں سے ایک جہاز ماوزئے تنگ استعمال کرتے تھے پاکستان پہلا ملک ہے جس نے پہلے چینی سامان کی امپورٹ کی اجازت دی یہ وہ ملک ہے جو ہم سے دو سال بعد آزاد ہوا آج یہ ملک ترقی کے میدان میں اتنا آگے گیا ہے کہ امریکہ جیسے ملک کی نیندیں حرام ہوگئی ہے اور چین ایک ایسا ملک ہے جس نے ہر مشکل میں ہمارے ساتھ دیا اب سی پیک کی شکل میں 46ارب ڈالر خرچ کررہی ہے اور چین جس کا دوست ہو تو اس دوست ملک بھی کبھی غریب نہیں ہوسکتے فرق ہے تو لیڈر کی ہے کاش ہمارے لیڈر بھی مووزے تنگ طرز کی حکومت کرتے خود کو امیر سے امیر تر بنانے کی بجائے اپنے عوام کا سوچتے مگر 2018کے الیکشن میں ایسا ہوتا ہوا نظر آرہاہے اور پاکستان کے عوام نے یہ زمہ داری عمران خان جیسے لیڈر کو سونپ دی ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ لیڈر عوام کی توقعات پر کتنا اتر تا ہے پاکستا ن کے عوام کی عمران خان سے بہت ساری توقعات وابسطہ ہے کیونکہ ایک ایسا ملک جو ہر لحاظ سے کسی سے پیچھانہیں مگر ہمارے حکمرانوں کی عیاشیاں اور غلط پالیسوں کی وجہ سے آج پاکستا ن قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے اور یہاں کے عوام غریب سے غریب تر ہوتے جارہے ہیں اور چند خاندانوں نے اس ملک کے ساتھ جو سلوک کیا ہے ان کو نشان عبرت بنانا وقت کی ضرورت ہے اب ہمیں ایک ایسے لیڈر کی ضرورت ہے جو مووزے تنگ کی طرح کا حکمران ہو اور عالیشان محلات میںآرام کرنے کی بجائے غریب عوام کا سوچے اور اس حوالے سے پاکستا ن کے عوام نے عمران خان کو ووٹ دیا ہے جو کہ نیا پاکستا ن کو ترقی کی راہ پر گامزن کرینگے چونکہ سابق حکمرانوں نے جس طرح اس ملک میں لوٹ مار کی وہ تاریخ کا حصہ بنی ہے اور ملک کو لوٹنے والے ان حکمرانوں کے خلاف سخت سے سخت احتساب کی ضرورت ہے اگر اب نہیں تو پھر کبھی نہیں عمران خان نے وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالنے سے قبل ہی اپنے خطاب میں وزیراعظم ہاؤس میں نہ بیٹھنے کا اعلان کیا ہے بلکہ گورنر ہاؤسز کو بھی تعلیمی ادارے بنانے کی بھی نوید سنائی ہے اور سب سے پہلے خود کو احتساب کے لیے پیش کردیا ہے اور بھارت سمیت دیگر ممالک سے تعلقات بہتر بنانے کی بھی بات کی ہے امید ہے کہ عمران خان کے دور حکومت میں ملک اچھی خاصی تبدیلی آئیگی کیونکہ انھوں نے کے پی کے میں جو تبدیلی لائی ہے اسی وجہ سے کے پی کے کے عوام نے بھاری اکثریت سے اس کو کامیاب کرایا ہے ایسے ایسے بڑے برج کو عوام نے گرادیا ہے جو کہ کئی عرصوں سے قومی و صوبائی اسمبلیوں جیتے آرہے تھے ملک کے متوقع وزیراعظم سے یہ گزارش ہے کہ ملک کے دیگر صوبوں کی طرح گلگت بلتستان میں پر اپنی خصوصی توجہ مرکوز کریں حالانکہ گلگت بلتستان کے اس پسماندہ علاقے کے اپنے کوئی وسائل نہیں کہ اس صوبے کو چلایا جاسکے اس وجہ سے وفاق کی جانب سے سالانہ کروڑوں روپے ترقیاتی بجٹ کے نام پر ملتے ہیں وہ رقم ترقیاتی کاموں پر کم خرچ ہوتی ہے اتنا غریب صوبہ مگر یہاں کے وزیروں اور مشیروں کی گاڑیوں کو دیکھ کر اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے کہ یہ کوئی غریب صوبہ ہوان کی مہنگی گاڑیاں ان کی رہائش گاہیں دیکھ یہ اندازہ ہوتا ہے کہ یہ ملک کا امیر ترین علاقہ ہو گزشتہ دو سالوں کے دوران اس غریب صوبے کے مشیروں اور وزیروں کے لئے ڈیڑھ ارب روپے کی لاگت سے گاڑیا ں خرید ی گئی اور وہ بھی تین ہزار سی سی جن کی پٹرول اور مرمت کی مد میں ملک کے خزانے کو سالانہ کروڑوں کا نقصان ہو رہا ہے دوسری طرف عوام ہیں جن کے مسائل ہیں کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے ہیں شاہراہوں کی خستہ حالی اور بیروزگاری سے یہاں کے عوام پریشان ہیں لیکن حکمرانوں کو کوئی احساس تک نہیں ہے امید ہے عمران خان کی کامیابی سے ملک میں جہاں ملک کے دیگر صوبوں کے عوام پرامید ہیں وہاں گلگت بلتستان کے عوام کی بھی عمران خان سے بڑی توقعات وابسط ہیں اور امید کی جاتی ہے کہ بہت جلد اس کے اثرات گلگت بلتستان میں بھی محسوس ہونگے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments