متاثرین ڈیم پر محکمہ واپڈاکا ایک اور حملہ

تحریر۔اسلم چلاسی

کیا نظام ہے۔ کیسے کیسے آدم خور انسانوں کے شکل میں چھپے بیٹھے ہیں۔ کوئی شرم ہے، نہ حیا ہے، رشوت خوری، چوری چکاری، دوسروں کے حقوق پر شب خون مارنے کا ایسا بازار کہ جس کا مثال دنیا بھر میں نہیں ملتا ۔ پیسہ پھینک تماشا دیکھ عجیب مذاق ہے۔ اپنے حق کے حصول کیلے بھی لین دین کرنا پڑتا ہے۔ جو بھی کرسی پر ہے نعوذ باللہ خود کو خدا سمجھ بیٹھتا ہے۔ اپنے سامنے والوں کو روند کر نکل جاتا ہے۔ مظلوموں کی چیخیں نکل جاتی ہیں مگر سننے والا کوئی نہیں ہے۔ طاقت اور دہند دولت والوں کیلے الگ نظام ہے۔ متوسط اور غریب کا توجینا حرام ہے۔ قانون قائدہ انصاف صرف کہنے کی حد تک ہیں جس کو جو ہاتھ لگ جائیں وہی بہتی گنگا سمجھ بیٹھتا ہے۔ کوئی پوچھ گچھ نہیں ہے۔ چک اینڈ بیلنس کا کوئی نظام نہیں ہے۔

کب سروے کیا ا ور کیسے متاثرین کی فہرست مرتب کی؟ کسی کو کچھ علم ہی نہیں ۔وہ کون لوگ تھے جو پراسرار طور پر آئے اور راتوں رات سروے کیا جس کا کسی کو خبر تک نہیں ہوا اور لوگوں کو برباد کر کے چلے بھی گئے؟سروے بھی اس طرح کہ اللہ معاف کریں کہ پچاس سال کے شخص کوچھوڑکران کا اسی سالہ ضعیف العمر والدکا نام لکھ کر پانچ شادی شدہ جوڑوں کو ملا کر ایک گھر یا خاندان بنا دیا تو دوسری طرف محض اٹھارہ سال کے نوجوان کو باپ سے الگ کر کے ایک خاندان کا کفیل لکھ دیا جس نے اس وقت دل کھول کر نوٹوں کی بارش کردی ان کا نام آگیا۔ جس نے کنجوسی کی وہ بے چارہ آج بھی بے چارہ ہی رہ گیا۔

یوں کھنبری سے لیکر گوہر آباد کے حدود تک صرف چار ہزار دو سو کے لگ بھگ لوگ متاثرین کی فہرست میں شامل کردیے گئے۔ جن لوگوں نے منہ مٹھا کرا یا ان کو پورا پورا حق مل گیا جس نے رشوت دینے سے انکار کردی وہ بوڑھے باپ کے کھاتے میں آگیا۔ دو چار جتنے بھی بھائی ہیں سب کو ملا کر صرف ایک خاندان یا ایک چولہا بنا دیا گیا۔اور غضب پر غضب دیکھیں سنہ۲۰۰۷میں سروے کرتے ہیں اور پھر دو ہزار دس میں متاثرین کے ساتھ املاک کی ریٹس طے کرتے ہیں اور معاوضہ چار سال تاخیر کے بعد ادا کرتے ہیں کسی قسم کا ہرجانا نہیں دیتے اور سات سال پرانی انتہائی بدعنوان ٹیم کے ذریعے کیے گئے سروے جو بالکل غیر قانونی ہونے کے باوجود بھی متاثرین پرلاگو کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔اور اس لسٹ کے مطابق نصف سے زیادہ لوگ متاثر ہونے کے باوجود بھی سفید آدم خور ریچھ کے کاغذات میں متاثر نہیں ہیں۔ حالانکہ ان لوگوں کا مکان زمین و جاٗئداد اور دیگر املاک کا با قاعدہ ایوارڈ پاس ہوا ہے اب انتظامیہ کے ریکارڈ میں تقریباًً ساڑھے سات ہزار متاثرین ہے جن کا گھر بار اس ڈیم کے زد میں آیا ہے جبکہ محکمہ واپڈا کے ریکارڈ میں چار ہزار دو سو کے قریب لوگ ہیں جن کو محکمہ واپڈا نے پلاٹس کے حقدار قرار دیا ہے۔ ان کی مس منیجمنٹ اور نالائقی کا عالم یہ ہے کہ اب تک ایک ہر پن داس داس حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں جس میں اتنے لوگوں کو بسانا نا ممکن ہے کیونکہ زمین کم ہے متاثرین زیادہ ہیں اس لیے یہ ادارہ سیدھا سیدھا مکر جانے میں عافیت سمجھتا ہے۔

سننے میں آیا ہے کہ چند لوگوں کو نوازکر باقیوں کو کھڈا لگانے کیلے چند مفاد پرست خود ساختہ عمائدین سے خفیہ ملاقاتیں جاری ہیں اور کسی بھی وقت ان ملاقاتوں کا نتیجہ ان غریب لوگوں کیلے زہر بن کر سامنے آ سکتا ہے۔ مراعات یافتہ لوگ مزید مراعات کے حقدار ٹھہر سکتے ہیں اور باقی متاثرین زمانے کے رحم و کرم پر رہ کر دیامر ڈیم کے خلاف اٹھ کھڑے ہوسکتے ہیں۔ کیونکہ اس کے علاوہ لوگوں کے پاس اور کوئی راستہ باقی نہیں رہتا ہے۔ زمین و جائداد تو پہلے سے ہی اونے پونے کر کے اٹھا یا جا چکا ہے۔ اب یہ ایک ہی آسرا باقی تھا کہ چلو پلاٹ مل جاتا یا اتنا رقم مل جاتا کہ زیادہ نہیں تو کم از کم ایک چھت تو میسر ہوتی لیکن اس حق سے بھی محروم کر دیا گیا ہے۔ گویا کہ پہاڑوں پر چڑھنے کی ترغیب دیا جا رہا ہے۔ پہلے سے لوگ اس قدر تحفظات رکھتے ہیں اوپر سے یہ سب کچھ کرنے کا کیا جواز بنتا ہے ؟

ایک طرف دشمن اس انتظار میں بیٹھا ہے کہ کہیں سے کوئی غلطی ہو اور اس کا فائدہ اٹھا یا جا سکیں۔ دوسری طرف غلطی پر غلطی ہے۔ کوئی سننے کیلے تیار ہی نہیں ہے۔ نہ پرانے پاکستان میں سنا گیا نہ نیا پاکستان میں ۔اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اب بہت ہو چکا کتنے غریب لوگوں کے صبر کا امتحان لینگے۔ ان لوگوں نے ملک کیلے اپنے بساط سے زیادہ قربانیاں دی ہے۔ پاکستان میں کسی بھی قوم نے اتنی قربانی نہیں دی جتنی چلا سیوں نے دی ہے۔ اپنے ابا و اجداد کی قبریں ہزاروں سالوں پر محیط تاریخ اپنے جائے پیدائش سب قربان کردی۔ معاوضہ کیا دیا ہے اور کس طرح دیا ہے سب کچھ رکارڈ پر موجود ہے۔ اس پراجیکٹ کی بنیاد میں لوگوں کی خلوص اور حب الوطنی شامل ہے ورنہ پیسہ دیکر کالا باغ بنا کر دیکھائیں۔ سندھی اور پختنوں نے اس طرح کی قربانی سے انکار کردیا جبکہ چلاسیوں نے بے شمار تحفظات کے باوجود ملک کے وسیع تر مفاد میں اس ڈیم کو قبول کیا۔ حالانکہ ہم سب جانتے ہیں اس ڈیم سے چلاسیوں کو کوئی فائدہ نہیں ہے بلکہ اس کا فائدہ ملک کے باقی چاروں صوبوں کو ہے۔

لہذا اس ڈیم کی افادیت کو مدنظر رکھتے ہوئے چند متاثرین کی آبادکاری کا مسلہ ہے حل کیا جائیں تو بہتر ہے یوں دوکا دہی، فراڈ اور چوری چکاری کے ذریعے قوموں کو برباد کرنا ان کے آنے والی نسلوں کوبے گھر کرکے بھکاری بنا دینا انصاف نہیں، ظلم عظیم ہے۔ اب زمینی حقائق اور عوامی سرگوشیاں یہ بتا رہی ہیں کہ لوگوں میں اس ظلم کو بھی سہنے کی ہمت باقی نہیں رہی ۔ اب وقت کا تقاضا یہ ہے کہ انصاف سے کام لیتے ہوئے محکمہ واپڈا کے اس قاتلانہ حملے سے ڈیم متاثرین کو محفوظ بنایا جائیں ورنہ آنے والے دنوں میں متاثرین اپنے حق کے حصول کیلے عملی میدان میں آسکتے ہیں جس سے نہ صرف عوام میں بددلی پیدا ہو سکتی ہے بلکہ دیامرڈیم کی تعمیر میں رکاوٹیں کھڑی ہو سکتی ہی۔ں جو ملک و ملت کے حق میں بہتر نہیں ہے۔ لہذا ریاست کو بروقت مداخلت کر کے عوام کو ان کے حقوق کی فراہمی کا یقین دہانی کر کے اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments