سیلاب کی تباہ کاریاں، اور متاثرین کی فریاد

تحریر: دردانہ شیر

موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات گلگت بلتستان میں بھی شروع ہوگئے ہیں اور یہ پہلا موقع ہے کہ گلگت بلتستان میں مون سون کی بارشیں ہورہی ہے اور محکمہ موسمیات نے گلگت بلتستان میں جولائی اور اگست میں بارشیں ہونے کی پیشنگوئی کی تھی خطے میں ہونے والی بارشوں نے اس وقت تباہی مچا دی ہے اور عوام کی کروڑوں کی جائیداد سیلابی ریلے کی نذ ر ہوگئی ہے اور رہائشی مکانات سیلاب میں بہہ جانے سے اب متاثرین ٹینٹوں میں مقیم ہے امدادی سامان کتنی ملتی ہے اور ان سے ان کا گزارہ چلتا بھی ہے یا نہیں اس کا جواب تو متاثرین خود دے سکتے ہیں دوسری طرف غذر کے دور افتادہ گاؤں بدصوات میں 17جولائی کا دن یہاں کے عوام کے لئے قیامت صغرا بن کر گزرا پہاڑ میں موجود گلیشیر نے آبادی کی طرف رخ کر دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے پورے گاؤں کو اپنی لپٹ میں لے لیا اور چند ہی منٹوں میں گاؤں ایک جھیل میں تبدیل ہوگئی تین درجن سے زائد رہائشی مکانات جھیل میں دب گئے گاؤں کی سکول بھی سیلاب کی نذر ہوگئے اور متاثرین نے بھاگ کر قریبی پہاڑوں پر پناہ لے لی اورٹیلی فون کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے ایک رات تو متاثرین نے کھلے آسمان تلے گزار دی اور اس کے دوسرے دن سب سے پہلے پاک آرمی کی ہیلی کاپٹر امدادی سامان لیکر پہنچ گئی اور حکومت گلگت بلتستان کو بھی اس واقعہ کی اطلاع مل گئی امدادی کاموں کا سلسلہ شروع ہوا اور حکومت کی طرف سے خصو صا پاک آرمی ،آ غاخان ڈولپمنٹ نیٹ ورک (اے کے ڈی این )اور غذر کی انتظامیہ نے امدادی سامان پہنچانا شروع کر دیا جبکہ آج دو ہفتے ہوگئے ہیں بد صوات کا زمینی رابط تاحال دیگر علاقوں سے بحال نہ ہوسکا اور نصف درجن دیہاتوں کا زمینی رابط بحال نہ ہونے سے وہاں کے عوام اس وقت سخت پریشانیوں میں مبتلا ہیں اور جو متاثر ہوگئے ہیں ان کو تو کسی طرح سے امداد بھی مل رہی ہے اور جو آبادی کا زمینی رابط دنیا سے دو ہفتے کے لئے کٹ جائے تو ان کی کیا حالت ہوگی آمدہ اطلاعات کے مطابق ان علاقوں میں بھی غذائی قلت پیدا ہوگئی سڑک کی بحالی تو دور کی بات ہے ابھی تک پیدل چلنے کے لئے بھی راستہ نہیں بنایا گیا جھیل ٹوٹنے اور سیلاب سے ایک طرف بدصوات کا گاؤں جھیل میں تبدیل ہوگئی دوسری طرف طوفانی بارشوں سے گاؤں بلہزمیں ایک درجن کے قریب رہائشی مکانات بھی سیلاب کی نذر ہوگئے اور گاؤں ہاسس میں بھی اتنے ہی مکانات کو نقصان پہنچا اور لوگ اب ٹینٹوں پر گزارہ کر رہے ہیں انتظامیہ اور دیگر این جی اوز نے اپنے دستیاب وسائل کے مطابق امداد فراہم کی مگر گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ اور صوبائی وزراء دوہفتے گزرنے کے باوجود بھی یہاں کے متاثرین سیلاب کی حالت زار دیکھنے کے لئے غذر نہیں آسکے جب کہ کسی گاؤں میں کوئی فٹ بال میچ ہو تو وزراء وہاں پہنچ جاتے ہیں مگر سینکڑوں افراد بے گھر ہونے پر حکمرانوں کو کوئی احساس تک نہیں حکمرانوں کی متاثرہ علاقے کو نظر انداز کر نے پر متاثرین سخت پریشان ہیں اور یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ آخر ہمارے حکمران ہم سے اتنے ناراض کیوں ہے آج دو ہفتے گزر گئے کسی بھی صوبائی وزیر نے ہماری خبر لینے کی بھی کوشش نہیں آخر ہمارا قصور کیا تھا متاثرین کا یہ کہنا سو فی صد درست ہے کہ دو ہفتے گزرنے کے باوجود بھی گلگت بلتستان کی حکومت کے کسی بھی صوبائی وزیر نے متاثرہ علاقے کا دورہ کرنے کی زحمت گوارہ نہیں کی آخر غذر کے ساتھ صوبائی حکومت کا یہ امتیازی سلوک کب تک جاری رہیگا غذر کو ہر وقت سبز باغ دیکھا یاگیا اور ہر حکومت نے اس ضلع کے ساتھ ناانصافی کر تے چلی آئی ہے چاہے وہ پی پی کی سابق حکومت ہو یا مسلم لیگ کی موجودہ حکومت یہاں پر حادثات اتنے زیادہ ہوتے ہیں مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے اب تک گلگت بلتستان کا آبادی کے لحاظ سے تیسرا بڑ اڈسٹرکٹ میں 1122کا دفتر موجود نہیں ہے اور لاکھوں کی تعداد میں سیاح اس علاقے کا رخ کرتے ہیں اور شندور میلے میں لاکھوں شائقین آتے ہیں اگر خدانخواستہ کوئی حادثہ پیش آئے تو فوری طور پر امدادی کاروائی کرنے کے لئے ضلع کے پاس کوئی وسائل نہیں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں صرف ایک ایمبولنس موجود ہے غذر سے بھی چھوٹے ڈسٹرکٹ میں تو1122کے دفتر موجود ہے صرف غذر کو نظر انداز کرنے کی وجہ؟؟ یہاں تک بتایا گیا کہ گلگت غذر روڈ کو سی پیک میں رکھا گیا ہے کبھی بتایا گیا کہ وزیر اعلیٰ نے گلگت سے گاہکوچ تک ایکسپرس وے کی تعمیر کے ڈیڑہ ارب روپے مختص کر دئیے ہیں اب صورت حال یہ ہے کہ مرمت کے نام پر اس روڈ کے لئے دس کروڑ روپے رکھے گئے ہیں نہ سی پیک کا پتہ چلا اور نہ ہی ایکسپریس وے کا ایسے میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے لئے نہ سعی کم از کم حکمران اظہار ہمدردی کے لئے ہی غذر آتے اور متاثرین کو کچھ نہیں دے سکتے تو کم از کم تسلی ہی دیتے میں یہاں پر غذر کی تاجر برادری اور مختلف فلاحی ادراوں اور غذر پریس کلب کے اپنے دوستوں کا بھی شکریہ ادا کرونگا جنہوں نے متاثرین کی بحالی کے لئے تپتی دھوپ میں امدادی کیمپ لگا دئیے اور جمع شدہ رقم کے علاوہ اشیاء خوردنی کا سامان متاثرین تک پہنچا دیا مگر بڑے افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ گلگت بلتستان کے صوبائی وزراء کئی نظر نہیں آئے میں وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمان سے گزارش کر ونگا کہ وہ کم از کم ایک بار بدصوات ضرور آئے اور دیکھے کہ متاثرین کس حال میں ہیں اور نصف درجن دیہاتوں کا زمینی رابط گزشتہ دو ہفتوں سے دیگر علاقوں سے کٹا ہوا ہے وہ کس حال میں زندگی گزاررہے ہیں چونکہ ان ہی عوام کے ووٹوں سے اپ گلگت بلتستان میں حکمرانی کرتے ہیں اور یہ عوام ہی ہیں جو سب کچھ جانتے ہیں آپ کو پتہ ہے کہ پی پی کی سابق حکومت نے خطے عوام کے لئے کچھ نہیں کیا تو یہ عوام ہی تھی جنہوں نے اپنے ووٹ کے ذریعے ان سے انتقام لیا اوراب مسلم لیگ کے پاس بھی کوئی زیادہ وقت نہیں بچا ہے اگر اس قدرتی آفات سے متاثر افراد کا اب بھی خبر نہیں لیا گیا تو یہ کسی طرح بھی موجود ہ حکومت کے لئے کوئی اچھا پیغام نہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments