’’ہم پیروانِ پیر قلم باضمیر ہیں ‘‘

جمشید خان دکھیؔ 

9ستمبر 2018کو اتوار کے دن 3بجے دی لرننگ اکیڈمی دنیورگلگت کے ہال میں انجمن فکر و سخن نگر کے زیر اہتمام وادی نگر کے معروف شاعر حسین نحوی کا اردو شعری مجموعہ ’’حرف رفو‘‘ کی تقریب رونمائی ہوئی جس میں حلقہ ارباب ذوق (حاذ)اور انجمن فکرو سخن نگر کے احباب کے علاوہ عوامی نمائندوں، اساتذہ کرام، معززین علاقہ اور طلبہ و طالبات نے شرکت کی۔نظامت کے فرائض انجمن فکر و سخن نگر کے شاعر محمد حسین نے انجام دیئے ۔اس تقریب کے مہمان خصوصی حاذ گلگت کے نائب صدر اور کئی شعری کتب کے مصنف جناب خوشی محمد طارق تھے جبکہ میر محفل معروف عالم دین علامہ محمد عباس وزیری تھے ۔ لیڈر آف اپوزیشن اور ممبراسمبلی جناب رضوان علی بھی اس محفل میں شریک تھے ۔لرننگ اکیڈمی کے طلبہ نے تلاوت اور نعتیہ کلام پڑھنے کی سعادت حاصل کی ۔محفل میں شریک دوستوں جناب اسماعیل ناشاد ،ڈاکٹر علی گوہر ،غلام عباس نسیم ،حیدر خان حیدر ، قربان علی منتظر اور راقم جمشید دکھیؔ نے تقریب کے حوالے سے اظہار خیال بھی کیا اور کلام بھی سنایا۔ جناب اسماعیل ناشاد،بانی صدر انجمن فکرو سخن نگر نے مہمانوں کو اس تقریب میں شرکت پر خوش آمدید کہااور انجمن کے ساتھ حاذ کے تعاون کا خصوصی ذکر کیا۔اس کے بعد مہمان خصوصی ، میر محفل اور کتاب کے مصنف جناب حسین نحوی نے سٹیج پر کھڑے ہوکر تالیوں کی گونج میں ’’حرفِ رفو‘‘کی باقاعدہ رونمائی کی رسم ادا کی۔ محمد حسین ،ابولحسن،ناصر عباس انمول ،ایوب صابر،بابر خان بابراور صاحب کتاب حسین نحوی صاحب نے بھی اپنا کلام سنایا اور سامعین سے خوب داد حاصل کی ۔اس موقع پر نحوی صاحب نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ حلقہ ارباب ذوق (حاذ)گلگت ادبی خدمات کا پیشرو ہے ۔ آپ نے شاعری کی افادیت بھی بیان کی اور حیدرخان حیدر اور اسماعیل ناشاد کے تعاون کا بھی ذکرکیا ۔ غلام عباس نسیم ،بابر خان بابر اور راقم کا بھی خصوصی شکریہ ادا کیا۔ کچھ شعراء کرام نے صاحب کتاب کی شان میں بھی اشعارکہے ۔جناب رضوان علی ممبر اسمبلی نے اپنے خطاب میں کہا کہ نحوی نے کتاب کی شکل میں شعری ذائقوں سے روشناس کرایا ہے ۔شاعر عقل وادارک کا منبہ ہوتا ہے اور مشکل وقت میں قوم کی رہنمائی بھی کرتا ہے ۔ شعرا کے کلام میں آفاقی پیغام ہوتا ہے اور یہ لوگ معاشرے کی عکاسی کرتے ہیں ۔مہمان خصوصی جناب خوشی محمد طارق نے اپنے خطاب میں کہاکہ آج کا دن اس حوالے سے خوشی کا دن ہے کہ ادب کے باغ میں ایک پھول کا اضافہ ہوا ہے ۔آپ نے کہا کہ نحوی کا مطالعہ وسیع ہے اور ان کا کلام علمی ذخیرہ ہے ۔آپ نے اس موقع پر اپنا کلام بھی سنایا ۔میر محفل علامہ محمد عباس وزیر ی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ انسان حیوان ناطق ہے ۔کائنات کی ہر چیز اپنے رب کی تسبیحکرتی ہے ، یہ اور بات ہے کہ ہم سمجھتے نہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنے دل کی بات دوسروں تک پہنچانے کی صلاحیت دی ہے اور شعراء اس صلاحیت سے بھرپور استفادہ کررہے ہیں ۔ آپ نے اس موقع پر کتاب ہذا کے حوالے سے تنقیدی جائزہ بھی پیش کیا ۔ آخر میں لرننگ اکیڈمی کے پرنسپل اور شاعر قربان علی منتظر نے شرکائے تقریب کا شکریہ ادا کیا اور تناول ماحضرکے بعد یہ تقریب سرشام اختتام پزیر ہوئی ۔نحوی نے اپنی کتاب کا انتساب دانائے راز اور حکیم الامت حضرت علامہ اقبال کے نام کیاہے ۔کمپوزنگ محمد الیاس نے کی ہے ،الجواد پرنٹرز راولپنڈی نے چھپائی کا کام کیا ہے جبکہ ناشر نارتھ بک ایجنسی گلگت ہے ۔صاحب کتاب نے کتاب ہذا کا دیباچہ ،پروفیسر حشمت کمال الہامی نے بعنوان رفو گر،تقریظ کے عنوان سے حیدر خان حیدر ، پیغام کے عنوان سے اسماعیل ناشاد اور قلم کا زوار کے عنوان سے راقم (جمشید دکھی ؔ ) نے اپنے تاثرات قلم بند کئے ہیں ۔242صفحات پر مشتمل یہ کتاب 2016ء میں شائع ہوئی تھی جس کی رونمائی کی تقریب گزشتہ دنوں منعقد ہوئی ۔یہ کتاب مبلغ 300روپے کی قلیل قیمت پر نارتھ بک ایجنسی گلگت اور کئی دیگر بک سٹالوں پر بھی دستیاب ہے ۔محترم حسین نحوی صاحب ایک بلند علمی شخصیت کے مالک ہیں ۔تعلیمی قابلیت ایم اے اردو اور سلطان الافاضل کی ڈگری کے حامل ہیں ۔بیک وقت شنا، بروشسکی ،اردو اور فارسی چارزبانوں میں شعر کہتے ہیں ۔ ان کا تعلق تھول نگر سے ہے اور معلمی کے معززپیشے سے وابستہ ہیں ۔نحوی کی شاعری اس وقت منظر عام پر آئی جب آپ انجمن فکر سخن نگر اور گاہے گاہے حلقہ ارباب ذوق (حاذ)گلگت کی محفلوں میں شرکت کرنے لگے ،۔ آپ انجمن فکر سخن نگر کے بانی اراکین میں شامل ہیں۔ قدرت نے آپ کو ذہن رساعطا کیا ہے ۔ ان کا علمی قدکا ٹھ بہت بلند ہے لہذا ان کی شاعری اور فن کے حوالے سے مجھ جیسا کم علم آدمی کیا تبصرہ کرسکتا ہے ۔البتہ تعمیل ارشاد کرتے ہوئے چند حروف لکھنے کی جسارت کی ہے ۔نحوی صاحب ایک دیندار اور نیک خصلت انسان ہیں ۔اچھے اور علمی لوگوں کی صحبت اور پھر اپنے ذوق مطالعہ نے انہیں تصوف کے قریب کردیا ہے ۔ اس لئے ان کے کلام میں عارفانہ رنگ کا ہونا کوئی تعجب کی بات نہیں ۔ ’’حرف رفو‘‘کے نام سے نحوی نے نہ صرف زیر نظر شعری مجموعہ شائع کیا ہے بلکہ اپنے کلام کے ذریعے ملت کی زبوں حالی پر ماتم کناں بھی ہیں ۔انہوں نے مختلف موضوعات کے تحت شاعری کی ہے ۔اپنے کلام بعنوان ’’دنیا اور انسان اور عروجِ آدم سے شناسی ‘‘ میں ایک ماہر فن کی حیثیت سے شاعرانہ جوہر دکھائے ہیں۔آپ سوسائٹی کے ہر منظر کی تصویر اپنی شاعری کے ذریعے اس انداز سے لوگوں تک پہنچاتے ہیں کہ سامعین یاقارئین متوجہ ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے ۔البتہ ان کا کلام عام آدمی آسانی سے نہیں سمجھ سکتا ۔کیوں کہ آپ بڑے ثقیل اور مشکل الفاظ استعمال کرتے ہیں ۔نحوی کی شاعری ان کے دل کی آواز ہے ۔ ان کے ہاں اخلاقیات کی عمدہ مثالیں بھی ملتی ہیں ۔انہوں نے اپنے ذوق سلیم اور اپنی علمیت سے ہمیشہ سنجیدگی اور وقار کو قائم رکھا ہے اور جذبات او ر واقعات کو نہایت مہذب اور لطیف پیرائے میں بیان بھی کیا ہے ۔نحوی قوم کی زبوں حالی کا صرف رونا رو کر خاموش نہیں ہوتے بلکہ قوم کو تابناک مستقبل کی نوید بھی دیتے ہیں ۔انہیں یقین ہے کہ ملت انسانیت کو تاریکیوں سے باہر نکالنے کیلئے ایک ’’مرد کامل‘‘آنے والا ہے ۔مجھے امید ہے کہ ان کے قومی درد میں نکلنے والے آنسوکبھی رائیگاں نہیں جائیں گے ۔’’پیروانِ پیر قلم‘‘ کے عنوان کے تحت لکھی گئی نحوی کی نظم کے ان اشعار کے ساتھ اجازت چاہوں گا:۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments