بلتستان یونیورسٹی اور بلتستان کا مستقبل

تعلیم کے بنا ء کوئی بھی سماج سدھر نہیں سکتی نہ ہی اس سے انکار کیا جاسکتا ہے تعلیم کے بل بوتے پر ہی دنیا چاند پر قدم جمانے میں کامیاب ہوئے دنیا میں جتنے عظیم شخصیات نے اپنی عظمت کا سکہ جمایا ہے تو اس کے پیچھے تعلیم کا ہی نام سرفہرست آتا ہے علم کی بدولت دنیا میں قوموں نے اپنی سلطنتیں قائم کی ہے اگر ان قوموں نے بام عروج کی منزل تک رسائی حاصل کرلی ہے تو ان تمام رازوں کے پیچھے تعلیم ہے ان قوموں نے اپنی رعایا کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کے لئے علمی درسگائیں تعمیر کرائی اور علم کی شمع کو گھر گھر پھیلایا تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں نے تعلیمی درسگاہوں کے بجائے قلعے اور محلات تعمیر کئے جس کے باعث مسلمان علم کے میدان میں کمزور رہے گلگت بلتستان جہاں سرکاری تعلیمی معیار تسلی بخش نہیں ہے گزشتہ مختلف حکومتوں نے اپنے ادوار میں تعلیمی نظام کو سدھارنے کی کوشش بھی کی حالیہ مسلم لیگ نواز کی دور میں بلتستان یونیورسٹی کا قیام خوش آئند ہے بلتستان کی تاریخ میں پہلی بار یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایا گیا اب یہاں باقاعدہ کلاسیں چل رہی ہے جبکہ وائس چانسلر کی تعیناتی بھی عمل میں لائی گئی ہے پہلے یہاں سے طلبا و طالبات یونیورسٹی کی سہولیات نہ ہونے سے ملک کے دیگر علاقوں کا رخ کرلیتے تھے یا تعلیم کو خیر باد کہنے پر مجبور تھے متوسط طبقے سے تعلق طلبا و طالبات مزید تعلیم حاصل کرنے سے رہ جاتے تھے خاص کر طالبات کے لئے یونیورسٹی کی تعلیم خواب تھی مگر اب بلتستان یونیورسٹی کے قیام اور باقاعدہ کلاسوں سے یہا ں کا ماحول ہی تبدیل ہوگئی ہے آذادانہ ماحول میں جس انداز میں طلبا و طالبات علم کی پیاس بجھارہی ہے کراچی یونیورسٹی کے طرز پر اس پسماندہ علاقے میں یونیورسٹی سطح کی تعلیم یقننا حکومت کا بہت بڑا کارنامہ ہے اب یہاں ہر سال سینکڑوں طلبا و طالبات فارغ التحصیل ہوں گے بلتستان جیسے پسماندہ علاقے میں یونیورسٹی کا قیام قابل تحسین و خوش آئند ہے اس وادی میں جہاں برسوں سے لوگ تعلیم کی سہولیات کے لئے ترس رہے تھے اب یونیورسٹی لیول تک کی تعلیم فراہم ہونے سے علاقے کی عوام کی تعلیمی محرومیاں دور ہوگئی ہے اس اہم تعلیمی ادارے کی قیام کے بعد بلتستان کا مستقبل روشن و تابناک ہوں گے یہاں سے ڈاکٹر ز،انجینئر ز اور دیگر شعبوں سے پروفیشنلز پیدا ہوں گے جس سے علاقے کی تقدیر بدل جائے گی بلتستان یونیورسٹی میں اب مختلف شعبوں میں تعلیم میسئر ہوگی طلبا کو اپنے مرضی کے مضامین پڑھنے اورپسند کا شعبہ انتخاب کا موقع میسئر آرہا ہے بلتستان یونیورسٹی نسلوں کو سنورنے نہ صرف زریعہ ہے بلکہ گلگت بلتستان کی تابناک مستقبل اس قومی ادارے سے منسلک ہوچکا ہے بلتستان کے عوام کو گھر کی دہلیز پر یونیورسٹی سطح کی تعلیم کی سہولیات میسئر آنے کے بعد علاقے کا تعلیمی نظام بدل جائے گی دس سالوں کے بعد بلتستان میں تعلیم کی شرح سو فیصد تک جائے گی گزشتہ عشروں سے بلتستان کے طلبا و طالبات قراقرم یونیورسٹی گلگت میں جانے پر مجبور تھے جہاں طلبا و طالبات کو سخت مسائل کا سامنا تھی رہائش سے لے کر لمبی سفر طے کرکے گلگت جانا عذاب سے کم نہ تھا والدین بھی طلبا کو گھر کی دہلیز پر تعلیمی سہولیات نہ ہونے پر پریشان تھے بلتستان یونیورسٹی بلتستان کے عوام کے لئے نادر تخفہ ہے اس تعلیمی درسگاہ سے جو اُمیدیں وابستہ ہیں مستقبل قریب میں یقنا پورا ہوگا حالیہ دنوں اسی یونیورسٹی کے ایک شعبے کے طلبا وفد نے گلیشر اُگانے کا باقاعدہ تجربہ کیا جارہا ہے جو کہ اس یونیورسٹی کی کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے جبکہ یونیورسٹی کے ایک اور وفد نے دنیا کی بلند ترین سیاحتی مقام دیوسائی میں نئی جھیل دریافت کرلی ہے جو کہ انوکھا اور کامیاب مہم ہے بلتستان کا معاشرہ جتنا مہذب ،امن اور مذہبی ہم آہنگی اور بھائی چارگی کے حوالے سے دنیا میں منفرد مقام رکھتا ہے وہاں اس علاقے میں تعلیم کی سب سے بڑی درسگاہ معجزے سے کم نہیں بلتستان یونیورسٹی مستقبل میں پورے گلگت بلتستان اور پاکستان کی تعمیر و ترقی کا مرکز بنے گا علم کی موتیاں اور روشنی اس ادارے سے دنیا کے کونے کونے تک پھیل جائیں گے اس تعلیمی ادارے کی ابھی پوری قیام اور انفراسٹکچر کے مراحل جاری ہے جس کے بعد یہ ادارہ روزگار کا بھی ایک اہم مرکز بنے گا س بلتستان یونیورسٹی بلتستان کے عوام کا دیرینہ مطالبہ اور خواب تھا اس اہم تعلیمی ادارے کی قیام کے لئے جن اداروں اور شخصیات نے کردار ادا کیا ہے بلتستان کے عوام ان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں کیونکہ تعلیمی اداروں کی قیام سے قوموں کی نسلیں سنور جاتی ہے نسلیں سنورنے سے قوم کی مستقبل روشن ہو نے کے ساتھ ملک بھی دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے صف میں کھڑا ہوگا ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments