عورت

کرن قاسم

معاشرے کی ہمہ پہلو تشکیل و تعمیر میں عورت ایک خاص مقام رکھتی ہے اس کے بغیر معاشرے کا کسی بھی شعبے میں ترقی کرنا ناممکن ہے۔ ثقافتی ،اقتصادی ،معاشی، معاشرتی ،تعلیمی ،اخلاقی و تمدنی ،مذہبی ،غرضیکہ معاشرے کے ہر پہلو کے استحکام میں عورت کو مرکزی کردار کی حیثیت حاصل ہے۔ عورت معاشرتی فلاح وبہبود میں اہم کردار ادا کرتی ہے وہ بہترین ماں ،باوقار بہن ہم قدم شریک حیات، ڈاکٹر ،نرس ،وکیل ،فرض شناس پولیس آفیسر ،صحافی ،قابل معلمہ اور محب وطن مفید شہری کی حیثیت سے معاشرتی ترقی و تعمیر میں اہم کردار نبھارہی ہے۔ لیکن ہمارے معاشرے میں عورت کو ماں ،بیٹی ، بہن بیوی کی حد تک محدود رکھا گیا ہے جبکہ ان سارے رشتوں سے بڑھ کر وہ ایک انسان بھی ہے۔ مذکورہ بالا تمام کردار وہ ہیں جو معاشرے نے اس کی جھولی میں ڈالے ہیں اور ازل سے خوشی خوشی ان تمام رشتوں اور کرداروں کو صرف قبول کیا جاتا رہا ہے۔عورت معاشرے لے اقدار اور ضروریات کے مطابق خود کو ڈھاتی بھی رہی لیکن کہیں نہ کہیں یہ سوال دب کر رہ جاتا ہے کہ بحیثیت انسان وہ کیا چاہتی ہے عموماً ایک عورت کی زندگی کا سفر بیٹی سے بیوی اور پھر بیوی سے ماں بننے تک ہی محدود ہوتاکیا گیا ہے اس سفر میں بھی اسے بہت کچھ سہنا پڑتا ہے عورت اپنے فرائض نبھاتے نبھاتے یا تو خود سے غافل ہوجاتی ہے یا معاشرہ اسے دبا دیتا ہے ۔

گلگت بلتستان میں خواتین کی صورتحال زیادہ بہترنہیں گلگت بلتستان میں بھی خواتین کو بے پناہ مسائل کا سامنا ہے یہاں کی خواتین اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہے ان میں تعلیم، صحت کے مواقع زمانے کی فتار کے تناسب سے نہ ملنا ،مردوں کے نسبت کم اجرت ملنا، کام کی جگہ ہراساں کرنا، کم عمری میں شادی ،جائیداد میں حق نہیں ملنا اور گھریلو تشدد جیسے مسائل سرفہرست ہیں ان مسائل کو حل کرنے کے لئے مختلف سرکاری و غیر سرکاری ادارے ،این جی اوز اور دیگر فلاحی اداروں میں اقدامات نہ ہونے کے برابر ہے۔اور خواتین کے مسائل کے حل کا بیڑا اٹھانے والے ادارے اپنی ذمہ داری صحیح ادا نہیں کررہے بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہوکہ یہ ادارے خواتین کو ڈھال بناکر اپنا روزگار کرلیتی ہیں اور خواتین کے عزت نفس کو مجروح کرنے میں ان اداروں کا بڑا ہاتھ ہے خواتین کے حقوق کے نام پر کام کرنے والے غیر سرکاری ادارے صحیح معنوں میں اپنا کردار ادا کرتے تو آج خواتین باشعور اور مسائل کم ہوتے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ آجکل خواتین کی شراکت داری کے بغیر کوئی شعبہ مکمل نہیں اور نہ ہی وہ شعبہ اپنے اہداف حاصل کر سکتا ہے۔

گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی میں اب تک خواتین کی نشستوں پر آنے والی خواتین نے خواتین کی فلاح و بہبود،خواتین کی ترقی،روزگار سمیت کسی قسم کے مسئلے کے حل کے لئے کوئی کار ہائے نمایاں کارنامہ سر انجام نہیں دیا بلکہ خواتین کی مخصوص نشستوں پر براجمان خواتینصرف اپنے ٹی اے ڈی اے کے لئے اسمبلی کا رخ کیا اور اسمبلی میں خواتین کے حقوق کے حوالے سے مجرمانہ خاموشی اختیار کی۔جیسا کہ پہلے ذکر آچکا ہے کہ خواتین کی شمولیت کے بغیر کوئی شعبہ اپنے اہدا ف حاصل نہیں کر سکتا۔آج کل کے دور میں بچوںکی کفالت ،ان کو بہترین اعلیٰ اور معیاری تعلیم سمیت صحت و دیگر سہولیات کی فراہمی کے لئے میاں بیوی دونوں کا بر سر روزگار ہونا ناگزیر ہے جبکہ غیر شادی شدہ خواتین کو اپنے بہتر مستقبل کے لئے برسر روزگار رہنا ناگزیر ہے ایسے میں وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے سرکاری سکولوں کی پرائمری تک تعلیمی نظام خواتین کے سپرد کرنے کا بہترین فیصلہ کیا تھا اور کہا تھا پرائمری تک تمام سکولوں میں خواتین اساتذہ تعینات ہوں گی اس فیصلے پر عملدرآمد کے لئے خواتین ممبران اسمبلی اگر ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر کام کرتیں تو آج تک یہ فیصلہ عملی جامہ پہن چکا ہوتا اور ہمارے معاشرے کی بہت ساری پڑھی لکھی خواتین کو باعزت روزگار مل چکا ہوتا۔خواتین کے نوکری کرنے کی جگہ ہراساں کئے جانے کے واقعات سامنے نہیں آتے اس کی بڑی وجہ فوری انصاف کا نہ ملنا ہے اس حوالے ضرورت اس امر کی ہے کہ گلگت بلتستان میں خواتین کے لئے الگ کورٹس قائم کئے جائیں پولیس سٹیشن الگ تو کئے گئے ہیں لیکن ان میں نظام نہ ہونے اور انصاف ملنے کی امید نہ ہونے کی وجہ سے باپردہ اور باعزت خواتین بے بس ہوتی ہیںبے بسی کی ایک وجہ اس حوالے سے موثر قانون سازی کا نہ ہونا بھی ہے۔ہماری تجویز ہے کہ گلگت بلتستان میں خواتین کو حقوق کی فراہمی،روزگار سمیت انصاف کے راہ حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے فوری طور پر قانون سازی کی جائے اور معاشرے میں عورت کے عزت و وقار کو برقرار رکھنے کے لئے خواتین کی مخصوص نشستوں پر براجمان خواتین ممبران اسمبلی اپنا کردار ادا کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments