بلیک ہول کی تاریخی تصویر اور اہل خرد کا زکر 

شاہ عالم علیم

میں دو دن پہلے یعنی  دس اپریل 2019 کو انسانی تاریخ میں پہلی بار سائنسدانوں نے کائنات میں ایک بلیک ہول Black hole کی تصویر کھینچی۔ اس تصویر کو کھینچنے کے لیے  ایونٹ ہورائزن Event Horizon نامی ٹیلی سکوپ کی مدد حاصل کی گئی تھی۔ یہ ٹیلی سکوپ  آٹھ زمینی ریڈیو ٹیلی سکوپس کا مجموعہ ہے۔یہ اٹھ زمینی ٹیلی سکوپس دنیا کے مختلف حصوں متحیدہ امریکہ، میکسیکو، چلی، سپین اور انٹارٹکا میں واقع ہیں۔ ان ٹیلی سکوپس کا ایک دیوہیکل ڈِش بناکر زمین سے چون ملین نوری سال 54 million light years کی دوری پر موجود اس بلیک ہول کی تصویر کھینچی گئی۔ جسے انسانی تاریخ کا ایک منفرد محاصل قرار دیا جارہا ہے اور سائنس کے اہم کارناموں میں سے ایک ہے۔اس تصویر کو حاصل کرنے کی کوششوں میں سب سے بڑا ہاتھ ایم ائی ٹی یعنی Massachusetts Institute of Technology کی کمپیوٹر سائنسدان کیٹی بومینKatei Boumanکو قرار دیا جارہا ہے۔ مس بومین نے تین سال پہلے ایک الگوریتھم Algorithm پر کام شروع کردیا تھا جس نے اس سارے پراسس کو یکجا کرکے ایک تصویر حاصل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ تاہم ڈاکٹر بومین نے کہا ہے کہ اس میں دو سو سے زیادہ ریاضی دانوں mathematicians اسٹرونومرز Astronomers  فزسسٹس Physicists کمپیوٹر سائنسدانوں انجنیئرز اور دوسرے ماہرین کا برابر ہاتھ ہے۔مسیئر  ستاسی Messier 87 نامی گیلکسی میں  واقع یہ بلیک ہول جو کہ عام طور پر نظر نہیں اتا (درحقیقت کوئی بھی بلیک نظر نہیں اتا) چالیس بلین کلومیٹر پر محیط ہے، یہ ہمارے نظام شمسی کے مجموعی سائز سے بھی بڑا ہے۔ اتنے بڑے بلیک ہول کو سکین Scan کرنے کے لیے دس دن لگ گئے۔اس تصویر کو حاصل کرتے وقت ڈیٹا کو اکھٹا کے لیے دسیوں ہارڈ ڈرائیوز Hard Drives کا استعمال کیا گیا بعد آزاں اس ڈیٹا کو سنٹرل پراسسنگ سنٹر Central Processing Centre بوسٹن امریکہ Boston USA اور بون جرمنی Bonn Germany بھیج دیا گیا جہاں اس تاریخی تصویر کو اخری شکل دی گئی۔

حسن اتفاق یہ ہے کہ اس دوران مشہور سائنسدان اسٹیفین ہاکنگ Stephen Hawking کی مشہور زمانہ کتاب “‘بڑے سوالات کے مختصر جوابات’ Brief Answers to the Big Questions”‘ نامی کتاب میرے زیر مطالعہ تھی۔ ابھی ایک دن پہلے میں بلیک ہولز Black Holes کے عنوان پر پہنچا تھا کہ ایک ویب سائٹ نے خوشخبری سنائی کہ کل سائنسدان تاریخ میں پہلی بار ایک بلیک ہول کی تصویر شائع کریں گے۔ یہ میرے لیے بڑی خوشی کی بات تھی کہ میں پہلی بار کسی بلیک ہول کی حقیقی تصویر دیکھنے جارہا تھا۔ لیکن افسوس کہ بلیک ہولز پر زبردست کام کرنے والا سائنسدان ہاکنگ یہ تصویر دیکھنے سے رہ گئے۔ وہ چند مہینے پہلے انتقال کر گئے تھے۔ تاہم ہاکنگ جیسے سائنسدان کے لیے،  جو کہ بقول خود ان کے “انھوں نے سارے کائنات کی سیر کی ہے” اس تصویر کو دیکھنا خوشی کی بات ضرور ہوتی البتہ حیرت کی ہرگز نہیں۔۔۔ لندن میں اعلی تعلیم یافتہ ماں باپ کے ہاں پیدا ہوئے سٹیفین ہاکنگ کو بچپن سے سائنسی اور فلسفیانہ سوالات کرنے کائنات میں موجود مرئی اور غیر مرئی چیزوں اور  نظریات پر سوچنے کی بیماری لاحق تھی اور اس کو بڑھاوا دینے میں اس کے والد کا برابر کا ہاتھ تھا۔ہاکنگ خود کہتے ہیں کہ میں مشہور سائنسدان گللیو Galileo کی موت سے ٹھیک تین سو سال بعد پیدا ہوا تھا اور میرے اندازے کے مطابق عین اسی دن تقریباً دو لاکھ اور بچے بھی دنیا میں ائے تھے لیکن میرا نہیں خیال کہ ان میں کوئی ایک بھی بعد ازاں اسٹرونومی سے دلچسپی رکھتا تھا۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ میں لندن میں پلا بڑھا 1950 میں میرے والد کی پوسٹنگ لندن کے شمالی حصے میں کردی گئی جہاں مجھے لڑکیوں کے ایک سکول داخل کردیا گیا جو کہ دس سال تک کے لڑکوں کو بھی برداشت کرلیتے تھے۔ بعد ازاں میں نے سینٹ البانز St. Albans سکول میں داخلہ لیا۔ جہاں میرے دوست مجھے ازراہے مذاق آئنسٹائن  کہہ کر بلاتے تھے شاید انھوں نے مجھ میں کچھ خاص دیکھا ہوا تھا۔سٹیفین مزید کہتے ہیں کہ اس سکول میں میں اپنے دوستوں کے ساتھ قسم بہ قسم کے موضوعات پر بحث و مباحثہ کرتا جو کہ ریڈیو کنٹرولڈ ماڈلز سے مذہب تک پھیلے ہوتے۔ ان میں سے ایک اہم اور بڑا موضوع کائنات کا وجود ہوتا۔ میں کائنات کے پھیلاو کے حوالے سے ایک خاص رائے رکھتا تھا تاہم بعد میں جب میں نے اپنی ہی ایچ ڈی کے لیے ریسرچ شروع کیا اور کاسمک مائیکرو ویو بیک گراونڈ Cosmic Microwave Background کی دریافت کی تو مجھے اندازہ ہوا کہ میں پہلے غلط تھا۔ ہاکنگ مزید کہتے ہیں کہ مجھے چیزوں کو الگ تھلگ کرکے دیکھنے کا بڑا شوق تھا تاہم چیزوں کو ایک بار الگ کرنا تو آسان کام ہوتا انھیں پھر سے جوڑنے میں میں بڑا نالائق تھا۔ہاکنگ کے والد جو کہ خود آکسفورڈ یونیورسٹی کے گریجویٹ تھے نے ہاکنگ کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ بھی اس یونیورسٹی میں داخلہ لے لیں۔یہ سٹیفین ہاکنگ کی زندگی کا وہی حصہ تھا جہاں ان کو عمر بھر کے ایک چیلنچ کا سامنا کرنا تھا۔  سٹیفین کہتے ہیں کہ آکسفورڈ کے ابتدائی دنوں میں میں نے کچھ ایسا محسوس کیا کہ میرے ساتھ سب ٹھیک نہیں ہے۔ سردیوں کے ایک دن میری ماں نے مجھے باہر جاکر سکیٹینگ Skating کھیلنے کو کہا، میں کھلتے ہوئے گر پڑا اور پھر اٹھ نہیں سکا۔ اسپتال میں ہفتوں میرا علاج چلتا رہا۔ مجھے یقین ہوگیا تھا کہ میرے ساتھ بہت کچھ گڑ بڑ ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ جس ڈاکٹر نے میرا معائنہ کیا اس نے معائینے کے بعد ہاتھ اچھی طرح دھو کر چپ کے سے باہر نکل گیا اور پھر زندگی بھر مجھے  نظر نہ ایا۔ بعد ازاں مجھے علم ہوا کہ مجھے ریڑھ کی ہڈی کا موزی مرض لاحق ہے جس میں عصبی نظام اور دماغ کے خلیے بڑھنا بند ہوجاتے ہیں اور اور یہ نظام بری طرح متاثر ہوتا ہے۔یہ سٹیفین کی زندگی کا بہت اہم موڑ تھا کیونکہ اس بیماری سے کم ہی لوگوں کے بچنے کے امکانات تھے۔ تاہم سٹیفین نے نہ صرف اس چیلنچ کو قبول کیا بلکہ اپنی پی ایچ ڈی مکمل کرکے کئیس Cauis کالج میں ملازمت بھی حاصل کی۔ انھوں نے شادی کی اور ان کے بچے بھی ہوئے۔ کچھ ہی سالوں میں وئیل چیئر wheel chair تک محدود ہونے اور جسم کے ہر اعضا کا جواب دینے کے باوجود سٹیفین دنیا کے اہم ترین سائنسدان کے طور پر جانے گئے۔سٹیفین نے بلیک ہولز پر زبردست ریسرچ کیا اور بہت اہم پیش گوئیاں کی جو سچ ثابت ہوتے جارہے ہیں۔ پرسوں جس ٹیلی سکوپ کی مدد سے مسیئر ستاسی Messeir87 گیلکسی میں بلیک ہول کی جو تصویر کھینچی گئی اس ٹیلی سکوپ کا نام ایونٹ ہورائزن Event Horizon  ہے۔

سٹیفین نے دریافت کیا تھا کہ بلیک ہولز سے مختلف قسم کے ریڈیشن کا اخراج ہوتا ہے اور بلیک ہولز کا بیرونی حصہ جہاں سے کسی چیز کو بلیک ہول اپنی طرف کھینچتا ہے ایونٹ ہورائزن کہلاتا ہے۔ بلیک ہولز کے اس بیرونی حصے کے نام سے منسوب یہ ٹیلی سکوپ بنایا گیا ہے اور جس ریڈیشن کا بلیک ہولز سے اخراج ہوتا ہے اسے ہاکنگ ریڈیشن کا نام دیا گیا ہے۔سٹیفن ہاکنگ صرف سائنسدان ہی نہیں بلکہ زبردست مصنف بھی ہیں۔ ان کی متعدد کتابیں دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ اور کروڑوں کی تعداد میں فروخت ہوتی رہی ہیں۔

میں ان کی کتابوں کا تفصیلی زکر کرنے سے قاصر ہوں تاہم پھر کسی دن سٹیفین کی بلیک ہولز پر ایک اور جامع کتاب  کے ساتھ الگ سے زکر کرونگا۔ البتہ یہ بتادوں کہ ان کی  کتابیں سائنس سے شغف رکھنے والے اور نہ رکھنے والے دونوں قسم کے لوگوں کو ضرور پڑھنا چاہئے۔ سنجیدہ موضوعات پر لکھی گئی ان کی کتابیں مزاح سے بھر پور ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments