چترال کا علاقہ موری لشٹ قحط سالی سے دوچار، کئی مہینوں‌سے بارش نہیں‌ہوئی ہے، فصلیں‌ سوکھ گئیں

چترال (بشیر حسین آزاد ) بارش نہ ہونے کی وجہ سے کوہ یونین کونسل میں واقع گاؤں موری لشٹ میں گزشتہ کئی مہینوں سے جاری قحط سے ڈیڑ ھ سو متاثر گھرانوں نے حکومت کی بے حسی پر شدید افسوس اور مایوسی کا اظہا ر کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت کو ہماری ضرورت نہیں تو ہمیں سرحد پار افغانستان نقل مکانی کرنے کی اجازت دی جائے کیونکہ علاقے میں سبزہ نام کی ہر چیز سوکھ گئی ہے جبکہ گندم کا فصل پہلے ہی خشک سالی کی نذر ہونے سے ان کی معیشت برباد ہوگئی ہے۔ جمعہ کے روز چترال پریس کلب کے زیر اہتمام پریس فورم میں اظہار خیال کرتے ہوئے علاقے کے عمائیدین سابق ممبر ضلع کونسل حاجی غفار خان ، قاضی اصغر ، عطاء اللہ خان، کونسلر اکرام اللہ، محب الرحمن، ہدایت الرحمن ، حبیب الرحمن، شریف محمد اور دوسروں نے کہاکہ 160گھرانوں پر مشتمل اس علاقے میں 3000ایکٹر پر کاشت گندم کی فصل اور 650ایکڑ پر پھلدار اور غیر پھلدار درخت مکمل طور پر سوکھ گئے جبکہ پانی نہ ہونے کی وجہ سے علاقے میں سبزی اور جوار بھی کاشت نہیں ہوسکی اور خشک سالی کی وجہ سے 800کے قریب بیل گائے اور 5000بھیڑ بکریوں کو دوسرے علاقوں میں لے جاکر فروخت کردئیے گئے جن پر ان کی معیشت کا دارومدار تھا۔ انہوں نے علاقے میں ابپاشی کے پانی کی شدید قلت کا ذمہ دار محکمہ ایریگیشن کو ٹھہراتے ہوئے کہاکہ استانگو ل کے نالے سے ان کی پانی کی فراہمی روک دی گئی ہے جبکہ اس سرکاری ایریگیشن چینل کی تعمیر کا کام 1960ء کی دہائی میں شروع کیا گیا تھا ۔ انہوں نے کہاکہ محکمے کا ایکسئین خود موقع پر آنے اور صورت حال کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے باوجود کوئی قدم نہیں اٹھائی اور اس نہر میں ڈیوٹی پر مامور محکمے کے چار ملازمیں ڈیوٹی دئیے بغیر تنخواہ لے رہے ہیں جن کا کام استانگو ل اور موری لشٹ گاؤں کے درمیان پانی کی تقسیم کی نگرانی ہے۔ انہوں نے کہاکہ موری لشٹ کے عوام ابھی تک پرامن طریقے سے پانی کی بحالی چاہتے ہیں اور قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے سے احتراز کررہے ہیں لیکن ان کی صبر کا پیمانہ لبریز ہونے اور کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما ہونے کی صورت میں محکمہ ایریگیشن اس کا ذمہ دار ہوگا۔ متاثریں کا کہنا تھا کہ ایک طرف حکومت بیلین ٹری سونامی کے نام پر بے آب وگیاہ بیابانوں میں شجرکاری کرکے ان کو پانی دے رہی ہے تو دوسری طرف کئی سو سالوں سے آباد گاؤں موری لشٹ میں 60سال سے زائد عمر کے درخت پانی نہ ہونے کے وجہ سے خشک ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ حکومت نے اب تک اس علاقے میں خشک سالی کے متاثرین کو کوئی امداد بہم نہیں پہنچائی اورعلاقے میں فاقوں کی نوبت آپہنچی ہے کیونکہ ان کی معیشت کا دارومدار زراعت پر تھا جوکہ بارش نہ ہونے اور محکمہ ابپاشی کی نااہلی کی وجہ سے برباد ہوگئی ہے۔

انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیاکہ گولین گول 14کروڑ روپے کا محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کا واٹر سپلائی اسکیم سے علاقے کو ابنوشی کا پانی چند دنوں تک فراہمی کے بعد اس کی عدم تکمیل کا بہانہ بنا کر پانی کی سپلائی کاٹ دی ہے جس سے ان کو بڑی حد تک ریلیف ملی تھی اور اب علاقے کے لوگ 12کلومیٹر دور ماشیلک کے مقام سے موٹر گاڑیوں سے پینے کا پانی لانے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ابنوشی اور ابپاشی کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے فوری طور پر چار ہزار فٹ پلاسٹک پائپ کا انتظام کیا جائے تاکہ اسے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے نامکمل منصوبے میں لگے پائپوں کے ساتھ لگاکر متاثرہ علاقوں تک پانی پہنچایاجا سکے۔ انہوں نے کہاکہ ابپاشی کے پانی کا مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل کرنے کے لئے گولین گول سے 8انچ قطر کے پائپ کے ذریعے پانی لایا جائے جس کے لئے ایریگیشن ڈپپارٹمنٹ نے صوبائی حکومت کو پراجیکٹ پروپوزل بھیج دیا ہے جسے اس سال کے اے ڈی پی میں شامل کیا جائے ۔ انہوں نے علاقے کو آفت زدہ قرارد ینے کے لئے بھی حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ۔ علاقے کے عمائیدیں نے ڈپٹی کمشنر چترال سے مطالبہ کیاکہ وہ اس سنگین مسئلے کی طرف فوری توجہ دے ورنہ ان کے لئے افغانستان کی سرحدیں کھلوادے تاکہ وہ اپنے بال بچوں کے ساتھ نقل مکانی کرکے افغانستان جاکر پناہ لے سکیں جہاں ان کو پانی دستیاب ہو۔ انہوں نے ایریگیشن ڈویژن چترال کے ایکسین پر زور دیا کہ وہ استانگول کے مقام پر پانی کی تقسیم کے لئے محکمے کے اہلکاروں کو پہلے کی طرح تعینات کرے جوکہ پانی کو تین دیہات میں برابری کی بنیاد پر تقسیم کرنے پر مامور ہوتے ہیں۔ اس موقع پر تمام لوکل سپورٹ آرگنائزیشنز کا نمائندہ تنظیم سی سی ڈی این کے چیرمین سرتاج احمد خان نے علاقے میں مسئلے کی شدت کے پیش نظر پریس فورم منعقد کرنے پر چترال پریس کلب کا شکریہ ادا کیااور کہاکہ علاقے میں ابنوشی اور ابپاشی کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے طویل المدتی اور مختصر مدتی دونوں حل موجود ہیں او ر حکومت کو چاہئے کہ ان دونوں پر وقت ضائع کئے بغیر عمل کیا جائے تاکہ اس علاقے کے لوگوں کو ریلیف مل جائے جن کی مجبوری کا یہ عالم ہے کہ وہ علاقے سے نقل مکانی کی باتیں کرنے لگے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پانی کے تنازعے پر دو علاقوں کے عوام کے درمیاں تصادم کا خطرہ بھی تشویشناک ہے جس کے حل پر توجہ دی جائے ۔ انہوں نے کہاکہ سی سی ڈی این نے دور دراز کے دیہات میں عوامی مسائل کو اجاگر کرنے کے لئے چترال پریس کلب کے ساتھ تعاون کررہی ہے ۔ اس موقع پر چترال پریس کلب کے صدر ظہیر الدین نے کہاکہ متاثرین کو یقین دلایا کہ ان کو درپیش اس سنگین مسئلے کو حکومت کے متعلقہ حکام تک پہنچانے میں مقامی میڈیا کوئی کوتاہی نہیں کرے گی اور علاقے میں آکر پریس فورم کا انعقاد ہی اس کا ثبوت ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments