گلتری کے نواحی علاقوں‌میں‌جنگلی جانور مویشیوں‌پر حملہ آور، پندرہ ہلاک

سکردو (نمائندہ خصوصی) گلتری شوارن چملوک سے ملحقہ نالہ فلواٹ اورشگاؤ میں ریچھ اور دوسرے خطرناک جنگلی جانوروں کے حملے سے قریبی آبادی کے پندرہ مال مویشی ہلاک ہوگئے۔محکمہ وائلڈ لائف کے ذمہ داران نے واقعہ پر پردہ ڈالنے اور نقصان کا ازالہ کرنے کی بجائے واقعہ کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیدیا۔محکمہ وائلڈ لائف کی دوٹیموں نے جائے وقوعہ سے تمام شواہد اور آبادی کے مکینوں کے بیانات قلمبند کرانے کے باوجود معاملہ کو دبا دیا گیا ۔متاثرین نے ڈپٹی کمشنر سکردو کو تحریری درخواست دیتے ہوئے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ڈپٹی کمشنرسکردوکے نام دی گئی درخواست میں متاثرین کا کہنا ہے کہ گلتری شوارن چملوک سے ملحقہ نالہ فلواٹ اور شگاؤ میں ریچھ اور دوسرے خطرناک جنگلی جانوروں نے حملہ کرکے پندرہ سے زیادہ مال مویشیوں کا نقصان کیا ہے۔پانچ جولائی کوجب ہم مال مویشی کا پتہ کرنے نالے میں گئے تو ہمارے جانوروں کی بڑی تعداد ریچھ کے حملے کے باعث مردار پڑے تھے۔کیونکہ اس وقت شوارن نالے میں محکمہ وائلڈ لائف کا کوئی ملازم موجود نہ تھا جس پر ہم نے فرشاٹ میں موجود پولیس چوکی کو اطلاع دی۔چند روز بعد محکمہ وائلڈ لائف کی طرف سے ایک ٹیم نے نالے کا دورہ کیا۔واقعہ کی چھان بین کی اورموقع پر ہی لوگوں کی طرف سے دی گئی درخوستوں پر نقصان کی تصدیق کی اورمحکمہ کی طرف سے نقصان کے ازالے کی یقین دہانی کروائی۔پھرچند روز بعد وائلڈ لائف کی دوسری ٹیم آئی اورنالے کا دورہ کیا۔نقصان ہونے والے جانوروں کی ویڈیو اور تصاویر بھی بنائی اور تمام گاؤں والوں کے سامنے نقصان ہونے والے جانوروں کی تصدیق کی۔واقعہ کو ایک ماہ گزرنے کے باوجود تاحال محکمہ وائلڈ لائف کے کرتا دھرتاؤں نے معاملہ دبا کر رکھا ہوا ہے۔نہ تو ڈی ایف او نے خود گاؤں کا دورہ کیااورنہ ہی نقصان کا ازالہ کیا۔دوسری طرف محکمہ وائلڈ لائف سکردواس سارے واقعہ کو جھوٹ قراردے رہاہے جس سے ہماری سخت حوصلہ شکنی اوردل آزاری ہوئی ہے۔حالانکہ اس آبادی کے مکینوں نے ہمیشہ ریچھ کے شکار کو روکنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔یہاں کے مکینو ں نے اپنے نقصان کے باوجود قومی جذبہ کے تحت جنگلی حیات کے تحفظ کو اپناقومی فریضہ سمجھا۔متاثرین نے اپنی درخواست میں ڈی سی سکردو سے مطالبہ کیا ہے کہ ایک غیرجانبدار ٹیم کے ذریعے واقعہ کی تحقیقات کرا کر نقصان کا ازالہ کیا جائے ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments