اپنے بچے کی ناکامی کا جشن منائیں

پچھلے چند سالوں میں گلگت بلتستان نے اپنے کئی ہونہار بچے صرف اس وجہ سے کھوئے کہ انہوں نے بورڈ کے امتحانات میں اپنی اور اپنے والدین کی توقعات کے برعکس نمبر حاصل کیے اور اگر اچھے نمبر لیے بھی تو وہ اپنے ساتھیوں اور دیگر ہم جماعتوں سے کم نکلے۔ مختلف سکولوں میں رواں سال منعقد کیے گئے سالانہ امتحانات اور ان کے نتائج کے ردعمل کے طور پر طلبا و طالبات میں یہی خطرناک رجحان سب سے ذیادہ دیکھنے میں آیا ہے جس میں بچوں نے یا تو اپنی ناکامی کو قبول کرنا گوارا نہیں کیا یا اپنی توقعات سے کم نمبر حاصل کرنے پر اپنی جان لے لی۔ گذشتہ چند روز میں چترال میں وقوع پذیر ہونے والے حالیہ خودکشی کے چار واقعات نے تعلیم مہیا کرنے والے افراد، اداروں اور بچوں کے والدین پر کئی سوالوں کے در کھول دیے ہیں۔ایسا لگتا ہے کہ پچھلے کسی بھی واقعے سے نہ تو کسی ادارے نے اور نہ ہی والدین نے کوئی سبق سیکھا ہو۔ اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے اس بات کا اندازہ لگانا قطعاً مشکل نہیں کہ ہم نے اپنے بچوں کو تعلیم کے نام پر بھاری بھرکم بستے تو پکڑا دئے ہیں مگر انہیں علم و آگہی سے بھرپور، متوازن اصولوں پر مبنی زندگی گزارنے کے لیے درکار مہارتیں سکھانے میں ناکام رہے ہیں۔ اب تعلیم کا مقصد معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے والے افراد کی تربیت نہیں بلکہ اچھے کالجوں میں داخلہ اور بہتر کمائی والی نوکری کا حصول رہ گیا ہے۔ اور ان مقاصد کے حصول کے جنون نے نہ صرف تعلیمی اداروں کو ایک دوسرے کے مد مقابل کھڑا کیا ہےبلکہ والدین اور بچوں کو بھی ایک نئی طرح کی مقابلے بازی کے لیے میدان میں اتارا ہے۔گویا علم کا میدان باقاعدہ ایک اکھاڑہ بن چکا ہے جہاں اترنے والے کھلاڑی اور انہیں تیار کرنے والے ماہرین دونوں ہی مقابل کو چاروں شانے چت کرنے کے لیے ہر جائز و ناجائز طریقہ اپنانے کو تیار ہیں۔
گھر، جو کبھی بچے کی جذباتی و معاشرتی نشوونما کا سب سے محفوظ و مربوط مرکز ہوا کرتا تھا، اب دھیرے دھیرے بچوں کا اعتماد کھو رہا ہے۔ اکثر والدین اپنی اولاد کی ذہنی و جسمانی صلاحیتوں کے بارے میں آگاہی رکھنے، ان کے انفرادی مسائل اور شخصیت کی تعمیر پر توجہ دینے کی بجائے ان کا دوسرے بچوں کی کامیابیوں سے موازنہ کرتے رہتے ہیں۔ نتیجتاً بچے شدید ذہنی اور جذباتی دباؤ کا شکار ہوجاتے ہیں۔ یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ ہر بچے کی اپنی انفرادی صلاحیتیں ہوتی ہیں جن کے دم پر وہ کامیابی کے زینے چڑھتا ہے۔ ضروری نہیں کہ فلاں کا بیٹا ریاضی میں اول آیا ہو تو میرا بھی آئے۔ ممکن ہے میرے بچے کی دلچسپی کا مرکز کوئی اور مضمون یا شعبہ ہو۔ مگر اس مقابلے بازی کی فضا نے اتنی شدت اختیار کر لی ہے کہ اب بچے اپنی کامیابی پر بجائے نازاں ہونے اور جشن منانے کے، خود کو ناکام محسوس کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی نظر اپنی کامیابی پر کم اور اس دوڑ میں شامل خود سے آگے آنے والوں پر ہوتی ہے۔ اس غیر صحتمندانہ رویے نے ایک طرف تو مایوسی اور خوف کو جنم دیا ہے جس کے آگے خوشی اور کامیابی کا احساس پھیکا پڑگیا ہے اور دوسری طرف زندگی کی اور انسانی جان کی قیمت کسی بھی ایک پڑاؤ پر پیش آنے والی ناکامی کے آگے اپنے معنی کھو بیٹھی ہے۔
اس صورتحال میں سب سے ذیادہ نقصان اس بچے کا ہورہا ہے جس کے لیے تعلیم اور اس سے متعلق تمام سرگرمیاں ترتیب دی جارہی ہیں۔ بچوں پر والدین اور سکول دونوں کا ہی دباؤ ہوتا ہے کہ وہ اچھے نمبر لائیں اور دوسرے بچوں سے بہتر کارکردگی دکھائیں۔ اور یہی ہمارے نظامِ تعلیم کی ناکامی کا بڑا ثبوت ہے جو افراد کی ذہنی و فکری استعداد کو صرف اعدادو شمار کے ذریعے جانچنے اور پرکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس نظام کے تحت بچوں کی حیثیت جیتے جاگتے انسانوں سے ذیادہ مشینوں کی سی ہے جس میں ڈیٹا فیڈ کر کے امید کی جاتی ہے کہ بغیر کسی غلطی کے من و عن دہرائے۔ اور کامیابی کا تاج اہنے سر پر سجالے۔ جبکہ بچے کی ذات میں چھپے ہنر اور مہارتوں کو اجاگر کرنے اور جائزہ لینے کا کوئی دوسرا طریقہ موجود نہیں جو بچے کو بحیثیت انسان اپنی ذات کی نشوونما اور تکمیل کے مواقع فراہم کرے۔
بدقسمتی سے ہم نے اپنے بچوں کی علمی و فکری صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کی بجائے انہیں ریس میں دوڑائے جانے والے ان گھوڑوں کی مانند قطار میں لاکھڑا کیا ہے جہاں ان کی اہمیت ان کی حاصل کردہ پوزیشن اور نمبروں سے متعین کی جاتی ہے۔ اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اب بچے تعلیمی میدان میں منعقدہ نمبروں کی دوڑ میں اے- پلس حاصل کرکے بھی بجائے خوش ہونے کے خودکشی کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ان معصوم بچوں کی ایسی ہولا دینے والی حرکت کے پیچھے والدین کی غفلت کے ساتھ ساتھ ہمارا تعلیمی نظام بھی قصوروار ہے جس نے نئے دور کے تقاضوں سے نمٹنے کی آڑ میں بچوں کو کتابوں کے منوں بوجھ تلے دبا کر معلومات و حقائق تو رٹا دئے مگر زندگی کا وہ پاٹ نہ پڑھا سکے جس کے بعد ہمارے بچے زندگی کی پیچیدہ گتھیوں کو سلجھا سکتے۔
ایسے میں یہ سوال اپنی جگہ اہمیت اختیار کرجاتا ہے کہ یہ کیسی کامیابی ہے جو بچے سے کامیابی کی خوشی چھین رہی ہے؟ کون سے اصولوں پر بچے کی تربیت ہورہی ہے کہ وہ انسان سے ذیادہ مشین بننے میں تسکین محسوس کرتا ہے؟ افسوس اس بات کا ہے کہ والدین خود بچوں کے لیے سب سے کڑا امتحان بن گئے ہیں۔ اس وقت اس تحریر کا مقصد والدین کی ان بے جا توقعات پر بات کرنا ہے، جو اس حد تک بڑھ چکے ہیں کہ اب بچے اپنا نتیجہ گھر میں دکھانے، کامیابی پر ان سے شاباشی وصول کرنے یا ناکامی پر ان کی مزید توجہ اور شفقت حاصل کرنے کی بجائے اپنی جان لینے کو ترجیح دینے لگے ہیں۔
اگرچہ یہ والدین کا بنیادی حق ہے کہ وہ اپنے بچے کے اچھے مستقبل کے لیے فکرمند ہوں مگر اس کے ساتھ یہ بھی لازم ہے کہ بچے کی جسمانی اور ذہنی تربیت کے ساتھ اس کی جذباتی تربیت کا بھی خصوصی اہتمام کریں۔ بچوں کو زندگی برتنے کا جو ڈھنگ ماں باپ اپنی نگرانی میں سکھا سکتے ہیں وہ شاید ہی کوئی اور کر سکتا ہو۔
اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم بحیثیتِ والدین اپنے بچوں کے لیے وقت نکالیں، انہیں توجہ دیں، ان کی سوچ کو پرکھیں، انہیں سنیں اور سمجھنے کی کوشش کریں۔ انہیں سکھانے کے لیے پہلے ان کا اعتماد جیتنا ضروری ہے۔ ان کو زندگی کے رنگوں سے آشنا ہونے اور انہیں برتنے کے لیے پہلے انہیں تیار کرنا اہم ہے۔
بچوں کو یہ سبق سکھانا بہت ضروری ہے کہ زندگی کے کسی ایک موڑ پر ملی ناکامی باعثِ شرمندگی یا ذلت نہیں ہوتی بلکہ یہ ایک نادر موقع ہوتا ہے جس سے بچہ اپنی غلطیوں کا تجزیہ کرکے انہیں بہتر کرسکتا ہے۔ اپنے بچے کی ناکامی پر اسے گلے سے لگا کر یہ احساس دلانا کہ اب وہ آپ کی رہنمائی میں اس ناکامی کو سہنے، مایوسی کی کیفیت سے نمٹنے اور اس سے حاصل ہونے والے تجربات و احساسات سے سبق لیتے ہوئے آگے بڑھے تو کوئی وجہ نہیں کہ آنے والے سالوں میں ہمارے بچوں کی خون میں نہائی لاشیں ایک برا خواب ثابت ہوں۔
اس نازک اور پیچیدہ صورتحال میں والدین سے گذارش ہے کہ وہ آگے بڑھ کر اپنے بچوں کی مسیحائی کریں، انہیں ان کی کامیابی و ناکامی سمیت قبول کریں۔ کیونکہ ان کی شفقت ومحبت اور اعتماد ہی بچے کو ہار کر جیتنا سکھا سکتی ہے۔ آنے والے وقت میں اپنے بچوں کو ایک صحت مند تعلیمی تجربے سے صرف اس طرح گذار سکتے ہیں کہ والدین اپنے بچوں پر واضح کریں کہ ان کی بیٹی یا بیٹے کی ذات کی اہمیت ان کے کمائے گئے نمبروں سے ذیادہ ہے- دوسری طرف سکولوں اور طلبا و طالبات کے مابین پائی جانے والی نمبروں کی دوڑ کو بھی سرے سے ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ اور سب سے بڑھ کر ہمارا صدیوں پرانا تعلیمی نظام کا بوسیدہ ڈھانچہ نئے سرے سے تعمیر کرنے کی ضرورت ہے جس میں نصاب سے لے کر طریقہ تدریس اور امتحانات تک سب میں گویا دراڑیں پڑ گئی ہیں۔ تبھی تو نمبروں کے انبار اور ڈگریوں کے قطار لگنے کے باوجود ہمارے بچوں میں وہ صلاحیتیں نہ پنپ سکیں جو انہیں زندگی کے مسائل کے آگے ڈٹ جانے میں مدد گار ثابت سکتیں۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments