کہانی سے ذرا پہلے……… 

ایک طویل عرصے بعد قلم کو جنبش دے رہا ہوں اس کی دو وجوہات ہیں…. ایک تو غم روزگار اور دوم ایک  کارحادثہ….. جس میں اللہ پاک نے  مجھ پر رحم فرما کر میری جان بخش دی مگر ہمارے ساتھ کار میں موجود ایک عزیز اس جہاں فانی کو خیر باد کہتے ہوئے رحلت کر گئے جن کا تعلق پنجاب سے تھا اور وہ نامی گرامی ڈاکٹر تھے… اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین….

کہتے ہیں کہ جہاں اللہ آزمائش کے لیے دُکھ دیتا ہے تو وہاں خوشی اور جینے کے اسباب بھی مہیا کردیتا ہے وہ رحمان ہے رحیم ہے کریم ہے… مصیبت کے وقت اُمید ہی وہ طاقت  ہوتی ہے جو ایک ناتواں انسان کو بلند حوصلہ دے کر جینے کی راہ دیکھاتی ہے اور یہ اُمید منجانب اللہ ہوتی ہے….

…. اب چلتے ہیں کہانی کی طرف…..

ہنزہ کہانی قسط نمبر 1

بیٹن (شمن)

از. کریم مایور

اُس پندرہ سالہ لڑکے کا نام ابراہیم تھا..

وہ تین دوستوں کے ہمراہ اپنے پانچ بکریوں کو لے کر وادی ہنزہ کی برف پوش پہاڑوں میں موجود تلموشی نامی چراگاہ کی جانب جارہا تھا…..

باپ نے سختی سے تاکید کی تھی کہ اگر ان بکریوں میں سے کوئی ایک بکری بھی ادھر اُدھر ہوئی تو تمھاری خیر نہیں اس لیے ابراہیم احتیاط اور ہوشیاری سے بکریوں کو حانکتے ہوئے راستے میں اپنے دوستوں کے ساتھ مل گیا… جو اپنی اپنی اور گاؤں والوں کی بکریاں لے کر چراگاہ کی جانب جا رہے تھے…

ابراہیم کے تینوں دوست ایک دوسرے سے ہنسی مذاق کرتے ہوئے جا رہے تھے، مگر  ابراہیم اپنی طبیعت میں عجیب سی بے چینی محسوس کرنے لگا تھا مگر اس کا ذکر اس نے اپنے دوستوں سے کرنا مناسب نہیں سمجھا، کیونکہ اُس نے گاؤں کے بزرگوں سے یہ سُنا تھا کہ پہاڑوں میں اکثر طبیعت کا اس طرح بوجھل ہونا فطری بات ہوتی ہے گاؤں کے لوگوں کے مطابق پہاڑ پریوں کا مسکن ہیں اس لیے جب آدم زاد یہاں قدم رکھتا ہے تو اُس کی طبیعت کچھ وقت کے لیے بوجھل ہو جاتی ہے_

ابراہیم اپنے دوستوں کے پیچھے چل رہا تھا ایک دوست نے ابراہیم سے پوچھا

“ابراہیم مجھے تمھاری طبیعت سہی نہیں لگ رہی کیا تم ٹھیک ہو؟

ہاں میں بلکل ٹھیک ہوں بس ذرا سر میں درد ہے چراگاہ پہنچ کر کچھ دیر آرم کرونگا تو ٹھیک ہو جاونگا ابراہیم نے بے دلی سے جواب دیتے ہوئے کہا.

چراگاہ پہنچ کر ابراہیم کے دوستوں نے اُسے کچھ دیر آرام کا مشورہ دیا اور اپنے بکریوں کو لے کر دوسری طرف چلے گئے…

گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے دوست اس بات سے بخوبی آگاہ ہونگے کہ پہاڑوں میں موجود چراگاہوں میں آرم کرنے کی خاطر کچے مٹی کے غار نما گھر تعمیر کئے جاتے ہیں جہاں چرواہے اپنے لیے طعام و قیام کا بندوبست کرتے ہیں…

ابراہیم بھی اپنے تین دوستوں کے ہمراہ تلموشی نامی چراگاہ اپنے بکریوں کو لے کر آیا تھا اُس زمانے میں کوئی تعلیمی سرگرمی نہ ہونے کی وجہ سے ماں باپ اپنے کمسن بچوں کو یا تو مال مویشی چرنے کی تربیت دیتے تھے یا زمینوں میں اپنے ساتھ کام پہ لگاتے تھے….

چراگاہ پہنچ کر ابراہیم کی طبیعت مزید خراب ہوگئی تو کچھ وقت آرم کرنے کی خاطر لیٹ گیا اُس کے دوستوں نے بھی مناسب سمجھا کہ ابراہیم ابھی چھوٹا ہے اور سفر کی تھکن کی وجہ سے طبیعت خراب ہوگئی ہوگی اس لیے اُسے مٹی کے بنے کچے گھر میں کچھ دیر آرم کا مشورہ دے کر بکریوں کو آگے لے گئے تھے…

اُس چھوٹے سے گھر میں ابراہیم کا دل گھبرا رہا تھا اس لیے باہر آکر اُس نے تازہ ہوا میں دو چار لمبی سانسیں لیں اور ایک پتھر پر بیٹھ کر دور اپنے دوستوں اور بکریوں کو دیکھنے لگا جو کافی دور ہونے کی وجہ سے ہیولوں کی طرح نظر آرہے تھے..

کچھ دیر بعد ابراہیم نے اپنے سر پر کسی نازک اندام کی ہاتھ کا لمس محسوس کیا پہلے تو ابراہیم نے اسے وہم سمجھا مگر وہ نازک ہاتھ سر پر مسلسل گردش کرنے لگا تو ابراہیم کو یقین ہو گیا کہ اُس کے عقب میں کوئی موجود ہے بدحواسی میں ابراہیم نے اچانک پیچھے دیکھا تو ایک خوبصورت لڑکی جس کے لمبے لمبے بال، تھے ایک شان بے نیازی سے کھڑی دل ربائی مسکراہٹ کے ساتھ کھڑی تھی ابراہیم کو اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا کیونکہ ایک ایسی جگہ جہاں مرد حضرات کافی مشقت اور لمبی سفر کے بعد پہنچتے ہیں ایک لڑکی کا وہاں موجود ہونا ناقابل فہم بات تھی ابراہیم کی عمر محض پندرہ سال تھی اس لیے وہ یہ بات سمجھنے سے قاصر تھا کہ یہ کوئی اور مخلوق ہے…

“تم کون ہو اور یہاں پر کیا کر رہی ہو؟

ابراہیم نے حیرت سے سوال کیا

میں ایک پری ہوں اور میں بھی اپنے مال مویشیوں کو لے کر یہاں آئی ہوں… وہ…. وہاں پر میرے مال مویشی موجود ہیں اس نے انگلی سے ایک طرف اشارہ کرتے ہوئے ابراہیم کو جواب دیا..

ابراہیم نے اُس کی انگلی کی سمت دیکھا تو وہاں پانچ مارخور موجود تھے ابراہیم کو اپنے بزرگوں کی وہ بات یاد آنے لگی کہ پریاں مارخور کا دودھ پیتی ہیں اور پریوں کے پاؤں اُلٹے ہوتے ہیں یہ بات یاد آنی تھی کہ ابراہیم نے فوراً اُس لڑکی کی پاؤں کی طرف دیکھا وہ واقعی اُلٹے سمت تھے.. ابراہیم کو ڈر کے مارے اپنی جسم میں چونٹیاں رینگتی ہوئی محسوس ہونی لگی سر کے بال کھڑے ہو گئے اور بے ہوش ہوگیا…

ابراہیم کو تب ہوش آیا جب اُس کے دوستوں نے اس کے چہرے پر پانی انڈیلنا شروع کیا حواس بحال ہونے کے بعد ابراہیم نے اپنے دوستوں کو سارا ماجرا سُنایا تو وہ ہنسنے لگے اُنہوں نے یہ سمجھا کہ فقط سفر کی وجہ سے ابراہیم کی طبیعت کچھ زیادہ خراب ہوگئی تھی اس لیے اُس نے کوئی بے تکی خواب دیکھا ہوگا…

مگر اگلے دن ایک عجیب واقعہ رونما ہوا…

ان کی سترہ بکریوں کی نسبت ابراہیم کی پانچ بکریوں نے زیادہ دودھ دیا تو وہ شَش و پَنجْ میں پڑ گئے پہلے دن تو اُنہوں نے یہ سمجھا کہ شاید ابراہیم نے دودھ میں پانی ملایا ہے….. مگر یہ سلسلہ جاری رہا تو اُنہیں یقین ہوا کہ معاملہ کچھ اور ہے، پھر بھی انہوں نے اپنی تسلی کے لیے ابراہیم سے کہا کہ تم ہمارے سامنے اپنے بکریوں کا دودھ دھولو ابراہیم نے ایسا ہی کیا وہ یہ دیکھ کر حیرت میں پڑ گئے کہ سترہ بکریوں کی نسبت پانچ بکریاں زیادہ دودھ دے رہی ہیں انہوں نے ابراہیم سے کہا کہ تجھ پر ایک پری مہربان ہے اور تم ان کے پسندیدہ لڑکے ہو….

گاؤں میں کچھ دن بعد گیننی(فصل کی کٹائی کا دن)  تھا اور گاؤں والوں نے ان چرواہوں کو تاکید کی تھی کہ پہاڑ سے سجو پُنر (مقدس پھول)  لے کر آئیں اس لیے چاروں دوست الگ الگ جہگوں پر مقدس پھول کو ڈھونڈنے نکلے. یاد رہے کہ سجو پُنر نامی مقدس پھول بہت ہی نایاب پھول سمجھا جاتا ہے اور تلاش بسیار کے بعد ہی کسی خوش نصیب کے ہاتھ لگتی ہے…

ابراہیم بھی مقدس پھول کی تلاش میں نکلا کچھ دور چلنے کے بعد اُسے وہی پری دوبارہ دکھائی دی وہ راستہ بدل کر واپس بھاگنے لگا تو اُس پری نے آواز دی

“ابراہیم مجھ سے ڈرو مت میں تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچاونگی بس میں یہ مقدس پھول تمہیں دینے آئی ہوں جس کی تمہیں تلاش تھی..

ابراہیم کے پاؤں رُک گئے اور اپنی جگہ ساکت کھڑا رہا پری آہستہ آہستہ چلتی ہوئی ابراہیم کے پاس آئی اور پھول اُس کے ہاتھوں میں دے کر غائب ہوگئی…

ابراہیم مقدس پھول لے کر جب اپنے دوستوں کے پاس آیا تو ان کا شک یقین میں بدل گیا کہ ابراہیم پر پریوں کا سایہ ہے چراگاہ سے گاؤں واپسی پر ابراہیم نے محسوس کیا کہ کوئی نادیدہ طاقت اُس کی مدد کر رہی ہے..

جب چاروں دوست گاؤں واپس پہنچے تو دودھ، مکھن، لسی، اور پھول لے کر آئے تھے گاؤں والے مقدس پھول سے بہت خوش ہوئے کیونکہ مقدس پھول جسے گاؤں والے (سجوپُنر) کہتے تھے شاذونادر ہی ہاتھ لگتی تھی…

گاؤں پہنچ کر اگلے دن گیننی کا تہوار تھا جس میں حسب دستور میوزک کا اہتمام کیا گیا تھا ترنگفہ (گاؤں کے سربراہ) کے حکم پر چرواہوں کے لیے حریب (دُھن) بچایا گیا کیونکہ ابراہیم اور اس کے دوست چرواہوں نے اس تہوار کے لیے گھی، مکھن، لسی کے ساتھ ساتھ مقدس پھول کا انتظام بھی کیا تھا…

ابراہیم کی طبیعت میں شرمیلا پن زیادہ تھا اس لیے پہلے کسی محفل میں اُس نے رقص نہیں کیا تھا مگر جب ابراہیم کے دوست چرواہے رقص کرنے لگے تو اُس کے دل میں بھی یہ اُمنگ پیدا ہوئی کہ وہ بھی محفل میں جا کر رقص کریں… اتنے میں بجانے والا ایک موسیقار نے بھری محفل میں اعلان کیا کہ یہاں کوئی بیٹن (بی ٹن)  جسے انگریزی زبان میں (شمن) کہتے ہیں موجود ہے کیونکہ میرا ڈھول بھاری لگ رہا ہے…

اس کہانی میں آگے بڑھنے سے قبل مناسب ہوگا کہ میں بیٹن یا شمن کے بارے میں کچھ تفصیلات اپنے محترم قارئین کے گوش گزار کروں…

بیٹن کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ انسانی حالت میں رہتے ہوئے پریوں سے رابط قائم کرتے ہیں اور اسی حالت وجد میں رہتے ہوئے لوگوں کو آنے والے وقت کے بارے میں پیشگی اطلاع دیتے ہیں میری جائے پیدائش ہنزہ میں چند سال قبل تک بیٹن (شمن)  بننے کا میلان تھا عورت اور مرد دونوں بیٹن بنتے تھے یا بنائے جاتے تھے البتہ صرف مردوں کو بیٹن بننے کی اجازت ہوتی تھی اگر کسی عورت میں بیٹن بننے کے اثار ظاہر ہوتے تو اُسے زائل کرنے کی کوشش کی جاتی تھی.. گلگت بلتستان یا دُنیا  کے دوسری جگہوں پہ حالات اور واقعات دوسرے ہوسکتے ہیں واللہ ہو عالم مجھے اس بارے میں زیادہ معلومات نہیں…

پندرہ سالہ ابراہیم میں بھی بیٹن کے آثار شروع ہوگئے تھے….. اس لیے اُس کے دل میں یہ اُمنگ جاگ گئی تھی کہ وہ بھری محفل میں چھلانگ لگا کر والہانہ رقص کرے مگر وہ اپنے دل کو سمجھا رہا تھا کہ یہ میرا وہم ہے ایسا کچھ نہیں مگر جب بجانے والا موسیقار جسے مقامی زبان میں (بیریچو) کہتے ہیں…. ان میں سے ایک نے اعلان کیا کہ یہاں کوئی بیٹن موجود ہے اس لیے میرا ڈھول بھاری ہوگیا ہے تو محفل میں موجود سب نے ایک دوسرے کی طرف دیکھنا شروع کیا..

اس کے بعد محفل میں موسیقیار نے وہ خاص حریب (دُھن) بجائی جسے (بیٹنے حریپ) یعنی (بیٹن یا شمن کا دُھن)  کہتے ہیں جیسے ہی دُھن ابراہیم کے کانوں تک پہنچی تو اُس کے کندھوں پر دو نیلے رنگ کے پرندے آکر بیٹھ گئے…. ابراہیم سہم گیا اور اطراف میں لوگوں کی طرف دیکھنے لگا کہ لوگ اب کیا محسوس کرینگے میرے بارے میں… مگر… لوگ ابراہیم کی طرف متوجہ نہیں ہوئے تب جا کر اُسے پتہ چلا کہ پرندے صرف اُسے دکھائی دے رہے ہیں…  کچھ دیر بعد اُن پرندوں نے پنجا مارنا شروع کیا اور ابراہیم سے کہنے لگے کہ وہ محفل میں جا کے رقص کریں….

گلگت بلتستان والوں کی یہ ثقافت ہے کہ کسی بھی محفل میں رقص کرتے وقت بزرگوں کو آگے کر کے جوان اور کم عمر بچے اُن کے پیچھے رقص کرتے ہیں مگر ابراہیم اپنے آپے سے باہر ہو کر جب محفل میں بے ہنگم رقص کرنے لگا تو لوگوں نے اُسے روکنے کی کوشش کی.. مگر بجانے والے موسیقیار سمجھ گئے تھے اُنہوں نے لوگوں کو روکا اور وہ خاص دُھن (حریپ) بجانے لگے تو ابراہیم حالت وجد میں رقص کرنے لگا… اور… رقص کرتے کرتے اچانک رُک گیا اور ہاتھ کے اشارے سے موسیقیاروں کو دُھن دھیمی کرنے کا کہا اور کہنے لگا..

“اے گاؤں کے لوگوں کیا تمہیں معلوم ہے کہ گنش (وادی ہنزہ کی قدیم آبادی جس کا نام گنش ہے) میں آج دیوار گرنے سے تین معصوم لڑکیاں جاں بحق ہوئی ہیں؟

یہ باتیں ابراہیم حالت وجد میں رقص کے دوران کر رہا تھا جب لوگوں نے اُس کے منہ سے یہ بات سُنی تو گالیاں دینے شروع ہوگئے اور کہنے لگے کہ لڑکا بکواس کر رہا ہے ایسا کچھ نہیں ہوا… مگر… کچھ دیر بعد یہ خبر آئی کہ جب ابراہیم محفل میں رقص کر رہا تھا اُس دوران گنش میں تین لڑکیاں دیوار گرنے سے جاں بحق ہو گئی ہیں…

اس کے بعد پورے ہنزہ میں یہ بات جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی کہ ایک نیا بیٹن دریافت ہوا ہے.. اُس وقت کی حکمران جسے میر کہتے تھے تک بھی یہ خبر پہنچی اور اُس نے حکم دیا کہ کل اُس لڑکے کو ہماری خدمت میں حاضر کیا جائے… وقت کے حکمران کو اپنی مستقبل کے بارے میں جاننے کا شوق ہوا اور اُس نے بیٹن کو دوبارہ نچانے کا فیصلہ کیا…

اگلے دن بادشاہ کا  دربار، وزیروں، اکابرین، اور رعایا سے بھری تھی لوگوں کا ایک جم غفیر جمع ہو گئی تھی… ابراہیم نامی اُس پندرہ سالہ لڑکے ( بیٹن) کو نہلا، کر دربار میں لایا گیا حسب دستور، اُس کے لیے تازہ زبح کی ہوئی بکرے کا سر جسے مقامی زبان میں (چھتو) کہتے ہیں کے ساتھ ساتھ دوسرے لوازمات

صاف ستھرے کپڑے، صنوبر کے خشک پتے جسے جلا کر اُس کا دھواں بیٹن سونگھا ہے، کھلا اور ہموار میدان، اور موسیقار (بیریچو)  سب تیا ر تھے…

جب موسیقیار دُھن بجانے لگے… اور تازہ بکرا جب زبح ہوئی تو خون کی بو ابراہیم کو بے چین کرنے لگی اُس نے جست مار کر بکرے کا سر لیا اور چوسنے لگا… اس کے بعد رقص کرتے ہوئے علاقے کے بارے میں کافی پیشگوئیاں کی اور بے ہوش ہوگیا… اس دن کے بعد ابراہیم کو باقاعدہ بیٹن (شمن)  تسلیم کیا گیا… اور حکومت وقت کی جانب سے انعام کے طور پر سفید کپڑے اور جوتے دیئے گئے..

وادی ہنزہ کی تاریخ میں ایک اور مشہور و معروف بیٹن (شمن) گزرا ہے جس کی کچھ پیشگوئیاں سچ ثابت ہو چکی ہیں یہاں پر اُس کا تذکرہ نہ کروں تو زیادتی ہوگی…

اُس کا نام شون گوکور تھا یہ معروف بیٹن (شمن)  میر سلیم خان کے دور حکومت (1790-1824)  کے زمانے میں رہا ہے اُس کی کچھ مشہور پیشگوئیاں…

-کچھ سالوں بعد ہنزہ میں مُٹھی بھر کے کچھ لوگ آئیں گے جنہوں نے چھوٹے کوٹ پہنے ہونگے وہ لوگ اچھا انصاف کرینگے اور خوشحالی آئی گی…

-ایک وقت آئے گا جب اصطبل کی جگہ محلات تعمیر ہونگے…

-ایک وقت آئے گا جب لوگ پرندوں کی طرح آسمان میں اُڑیں گے…

-گلگت بلتستان کے لوگ دریاؤں میں پانی کو ہاتھ لگائے بغیر چلیں گے…

-عام لوگ اکابرین بن جائنگے اور اکابرین عام لوگ..

-راجاؤں اور بادشاہوں کا محل ایک دن خالی ہوجائیں گے

-پاک چین سرحد کے قریب خوفناک جنگ ہوگی اور خون دریا کی طرح بہنے لگے گا

میری ناقص رائے کے مطابق اس آخر پیشگوئی کے علاوہ باقی تمام پیشگوئیاں سچ ثابت ہوگئی ہیں آپ کا کیا خیال ہے؟؟؟

اُمید کرتا ہوں آپ کو یہ سچی کہانی پسند آئی ہوگی ہنزہ کہانی کی دوسری قسط میں پھر کسی سچی کہانی کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضری دونگا انشاءاللہ….

حوالہ جات :

( جہد مسلسل از جان عالم)

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments