ملک میں تبدیلی ۔۔اثرات گلگت بلتستان میں

تحریر:۔دردانہ شیر

سی پیک کے حوالے سے جب بیجنگ میں پاکستان کے چاروں وزراء اعلی کے علاوہ گلگت بلتستان کے وزیر اعلی کی شرکت اور ہمارے وزیر اعلی نے اس کانفرنس میں شرکت کے بعد واپسی پر گلگت بلتستان کے عوام کو جو خوش خبری سنائی خطے کے عوام اس موقع پر وزیر اعلی کی طرف سے خطے کی بھر پور نمائندگی پر انھیں خراج تحسین پیش کر رہے تھے اور عوام کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان عوام کو بہت جلد بجلی کی لوڈ شیڈنگ سے چھٹارہ حاصل ہوگااور یہاں کی شاہراہوں کی تعمیر سے خطے کے عوام کی تقدیر بد ل جائیگی اور لوگ جگہ جگہ سی پیک کے حوالے سے خطے کی تقدیر بدلنے کی باتیں کر رہے تھے مگر دو سال کا عرصہ گزر گیا سی پیک میں رکھے گئے منصوبوں کی تعمیر کا کئی کوئی نام ونشان نظر نہیں آرہا ہے کبھی کہا گیا کہ روڈ کے سروے کا کام جاری ہے کبھی بتایا گیا کہ چائینہ سے انجنیئر پہنچ گئے اور کبھی یہ نوید سنائی گئی کہ سردیوں کے بعد چائینہ کی تعمیراتی کمپنی پہنچے والی ہے دو سال گزر گئے نہ تو بجلی کے منصوبوں پر کام شروع ہوا نہ ہی گلگت چترال روڈ کی تعمیر کے لئے چائینہ کی کوئی کمپنی آئی اور نہ چعلمس داس اور پھنڈر میں بجلی کے منصوبوں کی تعمیر کا کام شروع ہوا ہاں یہ ضرور ہوا کہ اس دوران گاہکوچ سے بارچی تک روڈ کی توسعی منصوبے کا کام روک دیا گیا اور عوام کو یہ کہہ کر بیوقوف بنایا گیا کہ سی پیک میں غذر روڈ کو شامل کر دیا گیا ہے ایسے میں روڈ کی توسعی منصوبے کی کوئی ضرورت نہیں اور اس سڑک کی تعمیرکاکا م بھی روک دیا گیا اور عوام کو مزید بیوقوف بنانے کے لئے گاہکوچ کے نواحی گاؤں گورنجر میں ایک ہزار فٹ روڈ پر تاکول ڈال دیا گیا وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمان نے اس کا افتتاع کیا اور کہا کہ سی پیک کی سڑک کی تعمیر اس طرح کی ہوگی آج دو سال ہونے کو ہے اس ایک ہزار فٹ سے ایک فٹ بھی زائد سڑک کی تعمیر کا کام نہیں ہواوزیر اعلی نے ایک ہزار فٹ سڑک کی تعمیر کاافتتاع کیا تھا وہاں سے اگے ایک فٹ سڑک پر بھی کام شروع نہیں ہواجب عوام نے روڈ کی تاخیر کی بات پر احتجاج کیا تو سلپی پل کے افتتاع اور گلگت میں سینئر صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے وزیر اعلی نے کہا کہ گلگت سے گاہکوچ تک ایکپیسریس وے طرز کے روڈ کی تعمیر کے لئے ڈیڑہ ارب روپے رکھے گئے ہیں اور بہت جلد اس اہم منصوبے کی تعمیر کا کام شروع ہوگا مگر دو سال سے اس اعلان کا بھی کوئی پتہ نہ چل سکا اب جب ہر طرف سے حکومت کو ناکامی نظر آئی نہ تو گلگت چترال روڈ پر کام شروع ہوا نہ ہی چائینہ کی کوئی کمپنی آئی اور نہ ہی گلگت سے گاہکوچ تک ایکسپریس وے بنا تو ایسے میں جب غذرشروٹ اور بارگو کے عوام نے روڈ کی خستہ حالی پر احتجاج کیا تو روڈ کی مرمت کے لئے دس کروڑ روپے رکھے گئے ہیں نہ سی پیک والا روڈ بنا نہ ایکسپریس وے کی تعمیر ہوئی اب گلگت سے گاہکوچ تک جو روڈ کی مرمت کے لئے دس کروڑ روپے رکھے گئے ہیں اس سے جو تارکول روڈ سے اکھڑ گیا ہے وہاں پر ٹاکی لگا دی جائیگی اب آتے ہیں خطے میں بجلی کے شدید بحران کی طرف گلگت بلتستان کے عوام کو اس وقت سب اہم مسلہ بجلی کا ہے بجلی کی طویل ترین لوڈ شیڈنگ نے صوبے کے مکینوں کو پریشان کرکے رکھ دیا ہے درجنوں بجلی گھروں سے بجلی کی فراہمی تو ہورہی ہے مگر ان بجلی گھروں سے سردیوں میں پانی کی کمی اور گرمیوں میں پانی کے بہاو میں اضافے سے مطلوبہ مقدار میں بجلی پیدا ہی نہیں ہوتی گرمیوں میں اگر پانی کا بہاو معمولی بھی زیادہ ہو تو بجلی کے پانی کے چینل کا سربند ٹوٹ جاتا ہے اور سردیوں کے موسم میں پانی کے مقدار کم ہونے سے عوام کو بجلی نہیں ملتی اس وقت گلگت بلتستان کے ان درجنوں پن بجلی گھروں کی تعمیر پر اربوں روپے خرچ کئے جا چکے ہیں اور متعدد بجلی گھروں کی تعمیر کاکام جارہی ہے اگر یہ منصوبے بھی مکمل ہوجائے تب بھی لوڈ شیڈنگ کے عذاب سے چھٹکارہ ملنا مشکل ہے ایسے میں وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمان نے بیجنگ میں ہونے والے سی پیک کے اجلاس میں چھلمیس داس اور پھنڈر میں دو اہم منصوبوں لینے دعوے تو کئے مگر دو سال گزرنے کے باوجود بھی ان منصوبوں کی تعمیر پر کام شروع نہ ہونا ایک سوالیہ نشان ہے اور اگر یہ دونوں منصوبے تعمیر ہوگئے تو خطے میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ نہ صرف ختم ہوتی بلکہ یہاں پر کارخانے بھی تعمیر ہوتے اور یہ علاقہ ترقی کے میدان میں بہت آگے نکل جاتاچونکہ اس وقت گلگت بلتستان کے متعدد پہاڑ وں میں ماربل وافر مقدار میں موجود ہے مگر علاقے میں توانائی کے بحران کی وجہ سے نہ تو یہاں پر کارخانے لگائے جاسکتے ہیں اور نہ ہی یہاں کے پہاڑوں میں موجود معدنیات کا عوام کو کوئی فائدہ ہے اگر گلگت بلتستان میں بجلی کی وافر مقدار میں پیداوار ہوگی تو علاقے میں مختلف کارخانے لگ جائینگے جس سے علاقے میں روز بروز بڑھتی ہوئی بیروزگاری بھی ختم ہوگی مگر دیکھا جائے تو سی پیک سے اب تک گلگت بلتستان کے عوام کوئی فائدہ نہیں ہوا ہے حالانکہ یہاں کے عوام پر امید تھے کہ گلگت بلتستان کی اہم شاہراہوں جس میں گلگت چترال روڈ شامل ہے اگر سی پیک میں شامل تھا تو ابھی تک اس پر کام شروع ہونا چائیے تھا اور شاہراہ تعمیر ہوتی تو گلگت بلتستان کے عوام کو شاہراہ قراقرم طرز کی ایک متبادل سڑک کی سہولت حاصل ہوتی مگر ایسا ہوتا نظر نہیں آرہا ہے کیونکہ موجودہ حکومت کے پاس اب ایک سال یا ڈیڑہ سال کا عرصہ رہ گیا ہے مگر اب تک دیکھا جائے تو صرف اعلانات کے سی پیک کے حوالے سے کوئی پیش رفت نظر نہیں آرہی ہے اور خطے عوام بھی یہ دیکھ رہے کہ موجودہ حکومت سی پیک کے منصوبوں کی تعمیر میں کامیاب ہوتی بھی یا نہیں اگر یہ اعلان صرف عوام کو بیوقوف بنانے کے لئے تھا تو یہ گلگت بلتستان میں مسلم لیگ (ن) کی موجودہ حکومت کے لئے کوئی اچھا پیغام نہیں چونکہ اب خطے کے عوام باشعور ہوگئے ہیں وہ ہر اعلان پر نظر رکھتے ہیں وقت کے حکمرانوں کو اپنے اعلانات پر عملی جامہ پہننا ہوگا ورنہ انے والے الیکشن کے لئے بھی کوئی زیادہ وقت نہیں بچا ہے لگتا ہے کہ وفاق کے ساتھ ملک چاروں صوبوں میں جو تبدیلی آئی ہے اور اس تبدیلی کے اثرات بہت جلد گلگت بلتستان میں بھی پہنچ جائینگے اور اس وقت حکمرانوں کے پاس سوائے پچتاوے کچھ نہیں بچے گا

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments