دیامر میں‌تعلیمی ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے، عمائدین اور علما نے دہشتگردوں‌کو رد کردیا ہے، چیف سیکریٹری

چلاس ( شہاب الدین غوری سے ) چیف سیکرٹری گلگت بلتستان بابر حیات تارڑ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں جتنے بھی سکولز تعمیر ہوں گے ان میں ستر فیصد ضلع دیامر میں بنائے جائیں گے ۔ صوبائی کابینہ کی منظوری کے بعد دیامر میں تعلیمی ایمرجنسی لگائی گئی ہے۔تعلیم میں رکاوٹ برداشت نہیں کرینگے عوام کو بنیادی حقوق دینگے جینے کے حقوق دینگے کسی کو اجازت نہیں دینگے کہ وہ کسی کی آزادی سلب کریں ۔کچھ شرپسندوں نے علاقے کے پرامن ماحول کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی ہے یہاں کے عمائدین اور عوام ایسے شرپسندوں کو نہ پسند کرتے ہیں اور نہ ان کو برداشت کرتے ہیں ۔ کمشنر آفس چلاس میں کمشنر دیامر استور ڈویژن سید عبدالوحید شاہ ، ڈپٹی کمشنر دیامر ، ایس پی دیامر و دیگر آفیسران کی موجودگی میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے چیف سیکرٹری گلگت بلتستان نے مزید کہا کہ تعلیمی ایمرجنسی کے تحت جن بچوں کی عمریں سکول جانے کی ہیں ان کی رجسٹریشن کی جائے گی ، سکول چھوڑنے والے بچوں کو دوبارہ داخل کیا جائے گا اور جو بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں ان کو سکول چھوڑنے نہیں دینگے ۔انہوں نے کہا کہ دیامر کے لوگ خائف ہیں کہ فاٹا طرز کا آپریشن ہوگا لیکن یہاں صورتحال مختلف ہے کیونکہ عمائدین و علمائے دیامر نے شرپسندوں سے قطع تعلق کر کے حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون کا عملی مظاہرہ کیا ہے تو فاٹا طرز کے آپریشن کی ضرورت ہی نہیں ہے ہماری پولیس اور انتظامیہ شرپسندوں سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ اور ضرورت کے مطابق پاک فوج بھی تیار ہے ۔ گلگت بلتستان کی پولیس بہادر اور نڈر فورس ہے انہوں نے کارگاہ اور تانگیر میں شرپسندوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور دو دہشت گردوں کو واصل جہنم کیا اور خود بھی شہادتیں دی ہیں ۔حالیہ واقعات کے بعد عوام دیامر داریل اور تانگیر کا ردعمل حوصلہ افزا رہا ۔ انہوں نے کہا کہ دیامر میں ویکسینیشن کی شرح صرف چار فیصد ہے جوکہ انتہائی قابل تشویش ہے ۔حکومت ویکسینیشن کا نیا نظام متعارف کرائی گی جس میں ویکسینیشن کی شرح سو فیصد تک بڑھے گی انہوں نے کہا کہ دیامر کے تمام سکولوں کو جدید سہولیات فراہم کرینگے انہوں نے کہا کہ دیامر میں بجلی کے بحران کے خاتمے کیلئے عملی اقدامات کا آغاز کیا ہے واپڈا پاور ہاوٴس تھور سے دو سے تین ماہ میں بجلی فراہم کی جائیگی جبکہ پندرہ میگاواٹ تانگیر پاور ہاؤس کو بھی واپڈا کے زریعے بہت جلد پایہٴ تکمیل تک پہنچایا جائے گا چیف سیکرٹری گلگت بلتستان بابر حیات تارڑ نے کہا کہ چیف جسٹس آف پاکستان نے دیامر بھاشہ ڈیم پر ترجیحی بنیادوں پر کام کرنے کی ہدایات دی ہیں ہیں جس پر انتہائی تیز رفتاری سے پیش رفت جاری ہے انہوں نے کہا کہ پہلی بار فیصلہ کیا گیا ہے کہ دیامر بھاشہ ڈیم سے پچاس سے سو میگاواٹ بجلی گلگت بلتستان کو دی جائے گی جو پہلے دیامر کی ضروریات پوری ہونے کے بعد گلگت بلتستان کے دیگر اضلاع کو بجلی دی جائے گی ۔قبل ازیں چیف سیکرٹری گلگت بلتستان بابر حیات تارڑ رونئی گرلز سکول پہنچے جہاں انہیں ڈائریکٹر محکمہ تعلیم دیامر استور ڈویژن ہدایت اللہ اور ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ تعلیم دیامر فقیراللہ نے سکول کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی بعدازاں کمشنر آفس دیامر میں بٹوخیل اور سونیوال قبائل کے عمائدین سے امن و امان ، دیامر کے حالیہ واقعات اور ڈیم ایشوز کے حوالے سے تفصیلی گفت و شنید بھی کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments