مختصر سی ملاقات

شکیل احمد 

سردی کی شدت میں کمی اور بہار کی آمد سرزمین بلتستان میں سماں باندھنے کی شروعات ہوتی ہے۔ درختوں پر سفید گلاب کی چادر یں اورکھیتوں میں سبز فصلیں اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ بلتستان میں نئی زندگی کروٹ لے رہی ہے اوربہارارض بلتستان کی خوبصورتی کو دوبالا کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ بہار کی آمد کے ساتھ سا تھ موسمی مسافروں کے علاوہ اندرون و بیرون ملک سے سیاحوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔

وادی سکردو سے خپلو کی طرف سفر کے دوران جس گاڑی میں راقم منزل کی طرف گامزن تھا اتفاقاََ ریڈیو پاکستان کے معروف پرو ڈیوسر محمد امین بنگش اور ان کے دوست ہم سفر تھے۔ بعداز سلام و تعارفی گفتگو، بنگش صاحب نے بات آگے بڑھائی اور سلیقے کے ساتھ راستے میں آنے والے خوبصورت نظاروں کے بارے میں سوالات کا سلسلہ شروع کیا۔ میں نے ان کی عالمانہ اور سنجیدہ سوالوں کا جواب ادب اور سمجھداری سے ان تک پہنچانے کی اپنی سی کوشش ضرور کی۔ مگر ان کے فصاحت و بلاغت سے بھری سوالات جس قدر مقصدیت اور غور طلب تھے اس لحاظ سے شاید میں جواب نہ دے سکا۔وہ ان علاقوں میں بسنے والوں سے لے کر ان علاقوں کے ناموں کا مطلب تک جانے کے لئے بے تاب تھے۔ جس موضوع کی طرف گفتگو جاری تھی اس کے متعلق کبھی پڑھنے اورتحقیق کرنے کا اتفاق نہیں ہوا تھا۔ مگر اپنی قلیل معلومات کو کما حقہ پہنچانے کی کوشش ضرور کی۔ اُس مختصر سی ملاقات کے بعد اس بات سے آشنا ہوا کہ آنے والے سیاح نہ صرف یہاں کی خوبصورتی دیکھنے آتے ہیں بلکہ ان حسین وادیوں کے بارے میں بھی جاننا چاہتے ہیں۔ایسے معلومات نہ صرف بنگش صاحب جاننے کے لئے بے تاب تھے بلکہ آنے والے تمام سیاح ایسے ہی سوالات لے کر آتے ہیں ۔ جن سے اچھے برتاو سے پیش آتے ہوئے ان تک صحیح معلومات پہنچانا ہم سب کا اخلاقی فرض ہے۔ کیونکہ انہی کے ذریعے ہی ہم اپنی تہذیب و تمد ن کو دنیا میں عیاں کر سکتے ہیں۔ اگر ہم دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی ترقی کا راز معلوم کرنا چاہیں تو بہت سارے ممالک کی ترقی کے پیچھے سیاحت کا بڑا کردار نظر آتا ہے۔ کیونکہ و ہی ممالک سیاحوں کی توجہ مبذول کرنے کے لئے اپنی ساری انرجی استعمال کرتے ہیں۔ اورسیاحوں کے لئے ہر طرح سے آسانی فراہم کرتے ہیں۔ دنیامیں ایسے بھی بہت سارے ممالک موجود ہیں جن کی معیشت کا 85فیصد سیاحت کے شعبے سے وابستہ ہوتے ہے اور ان ملکوں کے حال سے یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ ان کی تعلیم ، صحت اور دوسرے شعبوں میں ترقی باقی ممالک کے نسبت کافی بہتر ہے۔

قسمت کی ستم ظریفی یہ ہے کہ وطن عزیز پچھلے کئی سالوں سے دہشت گردی کی جنگ میں مصروف عمل رہا نتیجتا بیرونی ملکوں سے آنے والے سیاحوں کا تناسب کافی کم ہو گیا۔ اور ملک بہت بڑے نقصان کا شکار ہوا۔مگر ان سب چیلجزکا مقابلہ کرنے کے بعد وطن عزیز پھر سے اپنی خوبصورتی اور آمن و آشتی کا پیغام دنیا تک پہنچانے میں کامیاب ہو رہا ہے۔اور بہت سارے غیر ملکی سیاح پھر سے اس حسین درتی پر قدم رکھتے ہیں۔وطن عزیز کی حسین وادیوں میں گلگت بلتستان کی خوبصورتی اپنی مثال آپ ہے۔ اور یہ علاقہ ہمیشہ سے پُر امن اور مہذب رہا ہے ۔اور آج بھی امن وامان اور بھائی چارگی کو فروغ دینے میں کوئی ثانی نہیں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں کے عوام اور سرکار مل کر آنے والے سیاحوں کے لئے دلچسپی اور خلوص کا مظاہرہ کررہے ہیں جو کہ ایک مہذب اور بااخلاق معاشرے کا شیوہ ہوتا ہے ۔ بلاشبہ گلگت سکردو روڑ کی تعمیراتی کام کی وجہ سے سیاحوں کو کچھ مشکلات کا سامنا ہے مگر پھربھی ملکی و غیر ملکی سیاح اس علاقے کی قدرتی خوبصورتی کو دیکھنے کے لئے بڑے پیمانے پر رخ کر رہے ہیں اور ایسے حالات میں سیاحوں کے تانتا باندھنا اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ یہاں کی خوبصورتی اور مہمان نوازی سیاحوں کا دل جیتنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ دوسری طرفPIAکی جانب سے کرایوں میں ہوشربا اضافہ نہ صرف ان سیاحوں کے ساتھ زیادتی ہے بلکہ پورے بلتستان کے عوام کے ساتھ ظلم کے سوا اور کچھ نہیں۔

گلگت بلتستان کے کئی ایسے علاقے اور جگہے جہاں آج سے کچھ سال پہلے نہ کوئی سیاح جاتے تھے نہ مقامی لوگ ان کی خوبصورتی اور اہمیت سے واقف تھا۔ رواں سال جس نسبت سے یہاں کے تاریخی جگہوں اور قدرتی خوبصورتی کو چار چاند لگنا شروع ہوا ہے شاید اس کی مثال تاریخ میں کہیں نہیں ملتی۔ ارض بلتستان قدرت کے تمام کرشموں سے مالا مال ہے ۔اور یہاں کی مشہور سیرگاہیں جہاں پر سیاحوں کا تانتا بندھا رہتا ہے ان کے بارے میں مختصر سا ذکر لازمی سمجھتا ہوں، شنگریلا جو کی قدرت کے حسین نظاروں،جھیل اور سرسبز ٹیلے، بہار کے موسم میں سیاحوں کے لئے دل موہ لینے والا ماحول فراہم کرتا ہے۔ ، دیوسائی سطح سمندرسے تقریبا 14000فٹ بلندی پر واقع دنیا کی سب سے اونچا سرسبز میدان جسے دنیا کا چھت کہا جاتا ہے بھی اس علاقے کی خوبصورتی کو دوبالا کرتے ہیں۔ یہ بڑا میدان گرمیوں میں سرسبز و شاداب اور خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہے ۔ جس کو دیکھنے اندرون اور بیرون ملک سے بڑے پیمانے پر سیاح آتے ہیں۔دوسری طرف کے ٹو اور مشہ بروم جیسے بلند وبالا پہاڑجبکہ تاریخی عمارتوں میں ، خپلوچقچن( 700سال پُرانی مسجد ) ، خپلو کھر، شگر کھر اور کھرفوچو جیسے قدیم عمارات پرانے زمانے کی تہذیب و تمدن کو بیان کرتے ہیں۔ اور ساتھ ساتھ ان میں موجود پرانی چیزیں لوگوں کو قدیم زمانے کے راجاوں اور لوگوں کے طرز زندگی ،رہن سہن کی عکاسی کرتی ہیں۔ سرزمین بلتسان قدیم زمانے سے سیاحوں کا مرکز رہا ہے۔ جس کی وجہ قدیم تاریخی عمارتوں اور یہاں کے لوگوں کی تہذیب و تمد ن ہے۔ گلگت بلتستان بھر میں سیاحوں کے لئے ضلعی انتظامیہ کی طرف سے لی جانے والی ا قدم قابل قدر ہے۔ اور یہ عمل یہاں کے لوگوں کے شعور بیدار ہونے کا واضح ثبوت بھی دیتا ہے۔سیاحوں کی آمد اور ان کی دلچسپی کو مد نظر رکھتے ہوئے ضلعی انتظامہ خپلو کے کاوشوں کو داد دینا اخلاقی فریضہ سمجھتا ہوں۔ کیونکہ جس محنت اور خلوص سے شہر میں موجود تاریخی عمارات ، سڑکوں اور دیواروں کے تزین و آرا ئین کے لئے تگ و دو کر رہے ہیں بلاشبہ لائق تحسین ہے۔ ایسی ہی کوشش او ر خلوص سے بلتستان بھر کو سجانے کی ضرورت ہے تاکہ یہ دھرتی نہ صرف معاشی لحاظ سے مالامال ہو بلکہ امن و بھائی چارگی اور مہذ ب معاشرہ ہونے کا بھی ثبوت پیش کرتا رہے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments