ایک گھوڑے کی کہانی – آخری قسط 

(عظیم روسی مصنف ٹالسٹائی کی ایک کہانی سے ماخوذ)

7

تیسری رات:

رات کا پہلا پہر تھا۔ خنکی بڑھنے لگی تھی۔ چاند کی چاندنی کچھ زیادہ ہی اجلی لگ رہی تھی۔ اس کی مدھم مدھم سی روشنی، روشن کے بدن پر پڑرہی تھی۔۔۔ وہ سب سے الگ اور ممتازنظر آرہا تھا۔ کچھ گھوڑے اس کے اردگرد کھڑے تھے اور کچھ بیٹھے یا نیم دراز تھے۔ روشن نے اپنی کہانی پھر سے شروع کی:

اگرچہ میرا تعلق سائیس سے تھا اور وہ اپنے آپ کو صاف ظاہر ہے کہ نوابوں اور بادشاہوں سے کم تر ہی سمجھتا تھا، مگر ایک بات ضرور تھی کہ وہ جہاں موقع ملتا، مجھے آگے کرنے کی کوشش ضرور کرتا۔ وہ دل ہی دل میں سوچتا کہ مجھ میں ایک شاندار گھوڑا بننے کی پوری صلاحیت موجود ہے۔ آپ حیران ہوں گے کہ اس خوبی کی بنا پر مجھے مزید تکلیف دی گئی۔

ایک دن، اصطبل کے باہر کھلے میدان میں جرنیل اور اس کے نواب دوست اپنے پسندیدہ گھوڑے ’’ہنس‘‘ کو دوڑا رہے تھے۔ سب اس کے دوڑنے کے انداز، گردن اور ٹانگوں کی حرکات کی دل کھول کر تعریفیں کررہے تھے۔ ہنس بھی بڑے طنطنے میں، گردن اکڑائے ، نخرے سے ٹانگیں پھیلائے چلتا اور مجھے جلانے کے لیے، عجیب طریقے سے میری طرف نگاہ دوڑاتا۔۔۔ ہنس واقعی بہت اچھا دوڑتا تھا۔ اس کے دوڑنے میں بڑا وقار اور بجلی سی تیزی تھی۔ جب وہ دوڑتا تو اس کی گردن آگے کی طر ف اور پچھلی ٹانگیں کھل کر پچھلی طرف پھیل جاتیں۔ دوڑتے ہوئے وہ اپنے سموں کو زمین پر ہلکا سا لگاتا۔۔۔ لگتا جیسے وہ زمین پر نہیں ، ہوا میں اڑ رہا ہے۔ سب کا خیال تھا کہ وہ سب سے بڑی گھڑ دوڑ میں پہلی پوزیشن لے گا۔

اسی اثنا سائیس کونجانے کیا خیال آیا۔ اس نے جرنیل سے مجھے دوڑانے کی اجازت مانگی۔ جرنیل نے شاید خیال کرتے ہوئے اجازت دے دی کہ بھلا میرا اور ہنس کا کیامقابلہ۔۔۔ ! میں ہنس کے ساتھ دوڑا۔ پہلی دوڑ میں وہ مجھ سے چند انچ آگے رہا۔ دوسری دوڑ میں مَیں کئی میٹر اس سے آگے رہا ۔ تیسری دوڑمیں بھی یہی ہوا۔ سب لوگ جو ’’ہنس‘‘ کی تعریفوں کے پُل باندھ رہے تھے، گونگے سے ہوگئے۔ سب کو اندازہ ہو گیا کہ میں ہنس سے زیادہ تیز بھاگ سکتا ہوں۔ خوش ہونے کی بجائے جرنیل کا منہ ہی لٹک گیا۔ اس نے فوراً حکم دیا کہ مجھے کسی دور دراز علاقے میں لے جا کر فروخت کر دیا جائے۔ اس نے سائیس سے کہا کہ اگر اس بدصورت کی میں نے شکل بھی دیکھ لی تو بہت بُرا ہوگا۔

مجھے یاد ہے، اس دن سائیس بڑا اداس تھا۔ وہ خود اپنے ہاتھ سے مجھے فروخت نہیں کرنا چاہتا تھا۔ وہ مجھے کھلے میدان سے اصطبل میں لایا۔ راستے میں وہ میرے بالکل ساتھ ساتھ چل رہا تھا اور مسلسل میرے منہ پر ہاتھ پھیر رہا تھا۔ اس کے بعد وہ سائیس مجھے نظر نہ آیا۔ اصطبل کا ایک ملازم مجھے ایک دوسرے شہر لے گیا۔ مجھے ایک سوداگر نے اپنی گھوڑا گاڑی میں جوتنے کے لیے خرید لیا۔ میں اس کے پاس زیادہ دیر نہ رہا۔ پھر مجھے ایک فوجی سوار نے خرید لیا۔

مجھے اس اصطبل سے جانے کا بہت رنج تھا، جہاں میں پیدا ہوا۔ میرے بچپن کے ساتھی مجھ سے بچھڑ گئے۔ میرے بچپن کے ساتھی بچھڑوں کی زندگی میں عزت اور شان کا مستقبل تھا اور میرے لیے بے چارگی، بے کسی اور ذلت۔۔۔ آخر یہ سب کیوں؟ اس لیے کہ میں چتکبرا ہوں، مجھے بدصورت سمجھا جاتا ہے اور مجھے اپنانے والا کوئی نہیں۔۔۔

اس رات روشن اپنی کہانی آگے نہ بڑھا سکا۔ ایک گھوڑی بڑے انہماک سے روشن کی کہانی سن رہی تھی۔ وہ اچانک اٹھی اور اپنی کوٹھڑی میں جا کر کراہنے لگی۔ سب گھوڑے پریشان ہو گئے۔ گھوڑیاں سارے معاملے کو فوراً سمجھ گئیں۔ دوسرے گھوڑے خاص طور پر نوجوان بچھڑے معاملے کی ٹوہ لگانے کے لیے کوٹھڑی کی طرف آتے اور گردنیں اٹھا اٹھا کر جھانکنے کی کوشش کرتے۔ سیانی مائیں انھیں ڈانٹ کردوربھگا دیتیں۔

صبح سویرے سب نے دیکھا کہ کوٹھڑی میں ایک منا سابچھڑا موجود تھا۔ وہ اپنی ٹانگوں پر کھڑا ہونے کی کوشش کرتا، لڑکھڑاتا اور گر پڑتا۔ اس کی ماں اس کے صدقے واری جا رہی تھی۔ وہ اسے مسلسل چاٹتی جا رہی تھی۔ اتنے میں عالم کے چلّانے کی آواز آئی۔ اس نے ملازموں کوپرالی لانے اور کوٹھڑی میں بچھانے کا حکم دیا۔ کوٹھڑی کو آرام دہ بنانے کے بعد وہ روشن پر سوار ہو ا اور سب گھوڑے دریا کے ساتھ کھلے میدان میں چلے گئے۔

8

چوتھی رات:

رات ہوگئی۔ اصطبل کے سب دروازے بند کر دئیے گئے۔ ہر طر ف خاموشی تھی۔ صرف گھوڑوں کے سانس لینے کی آوازیں آرہی تھیں۔ روشن نے اپنی بات شروع کی۔ وہ کہنے لگا:

مجھے انسانوں اور گھوڑوں میں رہنے کا بہت موقع ملا ۔ اس تجربے سے میں نے بہت سیکھا۔میں زیادہ عرصہ دو لوگوں کے ساتھ رہا۔ ایک نواب جو فوج میں گھوڑوں کے رسالے کا انچارج تھا اور دوسری ایک بڑھیا، جو شہرمیں رہتی تھی۔ سچی بات یہ کہ میری زندگی کا بہترین حصہ گھوڑوں کے رسالے والے نواب کے پاس گزرا۔ اور یہ بھی سچ ہے کہ میری بربادی کا ذمہ داربھی وہی تھا۔ میں اسے پہلے بھی پسند کرتا تھا اور آج بھی پسندیدگی سے یاد کرتاہوں۔ اس کی جو بات مجھے سب سے زیادہ پسند تھی، وہ تھی اس کی پرکشش شخصیت اور اس کا ہرو قت خوش رہنا۔ وہ بہت امیرتھا۔ شاید اسی لیے وہ کسی کو بھی پسند نہ کرتا تھا۔ شاید امیروں کو اس کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی۔

تمھیں معلوم ہے کہ ہماری زندگی کامکمل انحصار انسانوں پر ہے۔ اسی لیے ہم انسانوں کے بارے میں عجیب سا احساس رکھتے ہیں۔ میرے، نواب سے تعلق میں بھی یہی احساس ہمیشہ رہتا تھا۔ وہ میرے ساتھ بڑی سرد مہری سے پیش آتا تھا۔ مجھے پتہ تھا کہ میری زندگی کا انحصار اسی پر تھا۔ اس کی سرد مہری کے باعث میرا دل چاہتا کہ میں اس کے زیادہ قریب ہو جاؤں۔ میں اس کا دل جیتنے کے لیے، اس کی خدمت اوربھی انہماک سے کرتا بلکہ اگر یہ کہوں کہ میری خدمت میں اس کے لیے چاہت تھی تو غلط بات نہ ہو گی۔ یاشاید میری یہ مجبوری، مجھے چاہت کرنے پر اکسارہی تھی۔ میں اب بھی سوچتا ہوں کہ شاید میری چاہت محض ایک ڈھونگ تھی، یا میں خوف زدہ تھا کہ کہیں وہ مجھے اپنے آپ سے الگ نہ کر دے۔ بھلا مجبوری میں یا غرض کے ہوتے ہوئے جو تعلق بنے، اس میں پیار تو نہیں پنپ سکتا۔

نواب کے پاس بہت سے گھوڑے تھے۔ مگر ان میں چتکبرا کوئی نہ تھا۔ اس نے مجھے اس لیے خرید لیا تھا تاکہ اس کے پاس ایسا گھوڑا ہو جو عام طور پر کسی کے پاس نہیں ہوتا۔۔۔ اسی طرح جیسے تتلیوں کواکٹھا کرنے والے خوبصورت تتلیوں کے ساتھ ساتھ نہایت سادہ یا بدصورت تتلیاں بھی جمع کر لیتا ہے۔۔۔ اس کا مشغلہ صرف چیزوں کو جمع کرنا ہوتا ہے۔۔۔ تاکہ وہ ہر طرح کی تتلیوں کے جمع کرنے پر اتراسکے۔

میں جتنا عرصہ بھی نواب کے پاس رہا، بہت خوش رہا۔ نواب کی دوست ایک لڑکی تھی۔ میں ایک شاندار بگھی میں جوتا جاتا۔ اسے اس لڑکی کے ہاں لے جاتا اور پھرواپس گھرلے آتا۔ کبھی کبھار وہ دونوں سیر کے لیے نکل پڑے۔ نواب خوش شکل تھا، وہ لڑکی بھی بہت خوبصورت تھی۔ بگھی کو چلانے والا کوچوان بھی بہت اچھی شکل والا، لمبا تڑنگا شخص تھا۔ ہر روز ایک لڑکا میری مالش کرتا۔ وہ صبح صبح اصطبل میں چلا آتا۔اصطبل کی صفائی کرتا، میری اس کے ساتھ بڑی دوستی تھی۔ میں شرارت سے اس کے کوٹ کا آستیں پکڑ لیتااور اسے ہولے سے کھینچتا۔ وہ خوش ہو کر میری گردن پر تھپکی دیتا اور پھر مالش شروع کر دیتا۔ مالش کے بعد وہ مجھے ایک تالاب پر لے آتا۔ وہاں وہ کپڑا گیلا کر کے میرے جسم پر پھیرتا۔ وہ میری نازک جلد کی تعریف کرتا۔ میرے بڑے بڑے پاؤں، چوڑی کمر اور لمبے بدن کو دیکھ کر عش عش کر اٹھتا۔ میری لمبی گردن پر تھپکی دیتا اورکہتا:

’’کیا شاندار گھوڑا ہے! کیسے بدقسمت مالک تھے، جنھوں نے اسے ضائع کر دیا۔۔۔ اس کی تربیت اچھے طریقے سے ہوتی تویہ دنیا کا بہترین گھوڑا شمار ہوتا۔۔۔!‘‘

اتنے میں بگھی کا کوچوان وہاں آنکلتا۔ اس کی شکل نواب سے بہت ملتی تھی۔ بلکہ شروع میں، مَیں اسے نواب کا بھائی ہی سمجھتا رہا۔ مگر اس بات پر پریشان ہو جاتا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک بھائی فوج کا افسر ہو اور دوسرا صرف کوچوان! مگر میرے ساتھ جو کچھ ہوچکا تھا، اس کے بعد میرا خیال یہ تھا کہ ان انسانوں کی دنیا میں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ عجیب بات تھی کہ وہ دونوں بڑے گھمنڈی اور تکبر والے تھے۔ وہ اپنی ذات کے علاوہ کسی اور کو خاطر میں نہ لاتے تھے۔ عام لوگ بھی ان کو منہ نہ لگاتے تھے۔ لوگوں کا خیال تھا کہ وہ کسی کے ساتھ کسی وجہ کے بغیر بھی بدتمیزی کرسکتے ہیں۔ اسی وجہ سے لوگ ان سے دُور رہتے تھے۔ ان کی بدتمیزی کے خوف سے نہیں، اپنی عزت کو بچانے کے لیے۔۔۔ مجھے ہمیشہ محسوس ہوتا کہ یہ دونوں، لوگوں کے قدرتی، بے غرض پیار سے محروم ہیں۔ اس پیار کے لیے کچھ لینا دینا نہیں، صرف پیار والا دل ہی کافی ہوتا ہے۔ یہ پیار مل جائے تو کوئی شخص کبھی بھی اکیلا نہیں رہتا۔

بگھی وان چھٹی والے دن بہت اچھے کپڑے پہنتا۔ اس دن وہ کچھ زیادہ ہی جوشیلا اور سرگرم نظر آتا۔

’’سناؤ، دوست کیا حال ہے؟ مجھے بھول تو نہیں گئے۔۔۔؟‘‘ بگھی وان مجھے پسلی میں کچوکا دیتا، مجھے تکلیف دینے کے لیے نہیں، صرف شرارت کے لیے۔ میں اپنے دانت کٹکٹاتا اور گردن کو اوپر نیچے ہلاتا۔

دو گھوڑوں والی بگھی میں میرے ساتھ ایک کالا گھوڑا ہوا کرتا تھا۔ وہ بڑا غصے والا تھا اور اسے مذاق تو بالکل بھی پسند نہ تھا۔ اگر کبھی بگھی وان اس کے ساتھ کچوکے والی شرارت کرتا تووہ غصے سے پھنکارنا شروع کر دیتا۔ گردن اوپر اٹھاکر ،اسے زور سے جھٹکتا۔ وہ میرے ساتھ بھی لڑائی سے باز نہ آتا تھا۔ ہم اکثر ایک دوسرے سے لڑتے اور ایک دوسرے کو دانت مارنے سے بھی نہ کتراتے۔ ایک روز ہم دونوں لڑ رہے تھے کہ بگھی وان آگیا۔ اس نے کالے گھوڑے کو ایسے ہی منع کرنے کے لیے دھکا دے دیا۔ اسی دن جب ہمیں بگھی میں جوتا جا رہا تھا، بگھی وان کے ہاتھ سے لگام نیچے گر گئی۔ وہ اسے اٹھانے کے لیے جھکا تو کالے گھوڑے نے اس کی پیٹھ پر اپنے سر سے ٹکر مار دی۔ وہ لڑکھڑاتا آگے کی طرف جاگرا۔ ایک دم توبگھی وان کو بڑا غصہ آیا مگر پھر ہنسنے لگا۔ اُسے ہنستا دیکھ کر ارد گرد سارے ملازم بھی خوب ہنسے۔ ایسے خوشگوار مواقع نوابوں کے ہاں کم ہی میسر آتے ہیں۔ اسی طرح کا ایک واقعہ شہر میں ہوا۔ میں اور کالا گھوڑا نواب کو اس کی دوست کے گھر سے واپس لا رہے تھے۔ راستے میں ایک جگہ پر سڑک ڈھلوان تھی۔ ڈھلوان سڑک پر ہم خودبخود تیز بھاگنے لگے۔۔۔ پھر کیا تھا، ہم بس بھاگتے ہی چلے گئے۔ ہمیں بڑا لطف آرہا تھا اور ہمارا دل چاہتا ہی نہ تھا کہ ہم رُک جائیں۔ عجیب پاگل پن تھا، ہم بازار میں بھی اسی تیزی سے بھاگ رہے تھے۔ اس دن نواب اور ہمارا بگھی وان بھی بڑے خوشگوار موڈ میں تھے۔ انھوں نے ہماری تیز رفتاری اور پاگلوں کی طرح دوڑنے پر وہ قہقہے لگائے کہ اب یاد کر کے بھی حیرانی ہوتی ہے۔ آخر بازار میں ایک اونچی جگہ پر، جہاں ہمارے لیے بھاگنا مشکل تھا، ہم رُک گئے۔

میں نے نواب کی خدمت میں اپنی آدھی زندگی اور اپنی آدھی صلاحیتیں گنوا دیں۔ وہ میری دیکھ بھال صحیح طریقے سے نہ کرتے تھے۔ پھر بھی یہی کہوں گا یہ میری زندگی کے بہترین دن تھے۔

اصطبل کا دروازہ چرچرایا اور عالم اور دیگر ملازموں کی آوازیں آنے لگیں۔ سب گھوڑے چراگاہ جانے کے لیے تیار ہوگئے۔

پانچویں رات:

اس شام ہوا بالکل بند تھی۔ فضا میں گھٹن بڑھتی جارہی تھی۔ گرمی کی وجہ سے مچھروں نے یلغار کر دی اور سب گھوڑوں کو ان کے کاٹنے سے سخت بیزاری ہونے لگی۔ پھر بھی سب کو روشن کی زندگی کی کہانی سننے میں بڑی دلچسپی پیدا ہوگئی تھی۔ وہ مسلسل اپنی دُمیں ہلاتے، مچھروں کو اِدھر اُدھر بھگاتے، کہانی سنتے رہے۔ روشن نے اپنی کہانی شروع کی:

جلد ہی میری زندگی کا یہ سنہری دور ختم ہو گیا۔ میں نواب کے ہاں صرف دو برس ہی رہا۔

ہمارے علاقے میں بہار کے دنوں میں بہت میلے ٹھیلے ہوتے تھے۔ میں اور کالا گھوڑا نواب کو بگھی میں بٹھا کر ایک جگہ لے گئے۔ وہاں بہت سے گھوڑے تھے۔گھوڑوں پر طرح طرح کے رنگ برنگے کپڑے ڈالے ہوئے تھے۔ اور ان کی باگیں دبلے پتلے سواروں نے پکڑ رکھی تھیں۔ جونہی ہم وہاں پہنچے، نواب نے کالے گھوڑے کو میدان میں لانے کے لیے کہا۔ ایک دوڑ میں کالا گھوڑا دوڑا۔ وہ دوسری پوزیشن پر آیا۔ پہلی پوزیشن پرآنے والا گھوڑا صرف اپنی گردن سے اس کے آگے رہا۔ نواب نے بس ایسے ہی تماشا دیکھنے کے لیے، مجھے بھی دوڑ میں شامل کرنے کا کہا۔ دوڑ شروع ہوئی۔ ایک گھوڑا جس کا نام شاید ’’چاند ‘‘ تھا، دوڑ شروع ہوتے ہی سب سے آگے بھاگنے لگے۔ میں نے کالے کی ہمت بندھائی کہ وہ اگر ہمت سے بھاگے تو چاند کو ہرا سکتا تھا۔ مجھے تو اپنے آپ پر بھروسہ ہی نہ تھا۔ میں خود دوڑنے کی بجائے کالے کا حوصلہ بڑھاتا گیا۔ پہلے چکر میں وہ پہلے تین گھوڑوں میں شامل تھا۔ مجھے بڑا عجیب لگا کہ میں چوتھے نمبر پر تھا۔ دوسرے چکر میں کالا دوسرے نمبر پر اور میں قریباً اس کے برابر تھا۔ تیسرے اور آخری چکر میں مَیں سب سے آگے تھا۔ مجھے اس وقت معلوم ہوا جب لوگوں نے شور مچایا۔۔۔ ’’دیکھو چتکبرا پہلے نمبر پر آگیا، واہ واہ کیا شان ہے، اس کے دوڑنے میں ۔۔۔ اتنی لمبی چھلانگ۔۔۔ یہ ایک جست لیتا ہے اور دوسرے گھوڑوں کو یہی فاصلہ دو چھلانگوں میں طے کرنا پڑتا ہے۔۔۔‘‘

سب لوگ، نواب کے ارد گرد جمع ہو کر، اسے مبارک دینے لگے۔ میرا نواب ٹس سے مس نہ ہوا۔ اس نے صرف اپنے دانت دکھائے اور بڑی سنجیدگی سے بیٹھا رہا۔ لوگ مجھے خریدنے کے لیے ہزاروں روپوں کی پیش کش کرنے لگے۔

’’وہ میرا دوست ہے، اسے گھوڑا نہ سمجھیں، یہ بکاؤ نہیں ہے۔ میں اسے سونے کے پہاڑ کے عوض بھی نہ بیچوں گا۔۔۔‘‘ نواب نے لوگوں سے کہا۔

ہم گھڑ دوڑ کے میدان سے باہر آئے۔ اب ہمیں نواب کے دوست کے گھر جانا تھا۔ ہمارا نواب جس لڑکی کو اپنا دوست سمجھتا تھا، وہ کسی اور کو پسند کرتی تھی۔ ہم اس کے گھر پہنچے۔ نواب کو معلوم ہوا کہ وہ لڑکی اپنے دوست کے ساتھ جا چکی تھی۔ اس وقت شام کے پانچ بجے تھے۔ نواب نے بگھی کو سرپٹ بھگانا شروع کر دیا تاکہ اس لڑکی کو پکڑ سکے۔ وہ پاگلوں کی طرح بگھی کو دوڑا رہا تھا۔ وہ چابک اٹھاتا اور ہم دونوں کو مارنا شروع کر دیتا۔ ہم دونوں بھی جی توڑ کر دوڑ رہے تھے۔ چابک میری کمر پر پڑتا تو جیسے میری کھال ادھڑ جاتی۔ میں تکلیف سے بلبلا اٹھتا۔ مجھے کچھ لمحوں کے لیے دوڑنا بالکل ہی بھول جاتا۔ میری رفتار اس قدر زیادہ تھی کہ میری ٹانگوں کا توازن بگڑنے لگا۔ میں کئی دفعہ گرتے گرتے بچا۔ میرے اگلے بائیں سم پر لگا نعل ڈھیلا ہوا اورپھر اتر گیا۔ میں پھر بھی دوڑتا گیا۔ نواب عجیب، بھاری سی آواز میں مسلسل بول رہا تھا: ’’جلدی کرو، جلدی کرو۔۔۔ جانے نہ پائے۔۔۔!!‘‘

ادھر چابک پر چابک میری کمر پر برس رہے تھے، ادھر میرا اگلا بایاں سم، درد سے کلبلا رہا تھا۔ قریباً دس پندرہ کلومیٹر کی اندھا دھند دوڑ کے بعد ہم نے اس لڑکی کو اس کے دوست سمیت جا لیا۔ میں نے اپنا سم دیکھا، اس میں سے خون بہہ رہا تھا۔

اس رات میری وہ بُری حالت رہی کہ میں بتا نہیں سکتا۔ میرا بدن جگہ جگہ سے دکھ رہا تھا۔ سم سے خون بہنا تو بند ہو گیا مگر یہ سُوج کر تین چار گنا بڑا ہو گیا۔ میں نے اس رات کچھ نہ کھایا۔ صبح سویرے اصطبل کے ایک ملازم نے مجھے پانی پلا دیا۔ میں سخت بیمار ہو گیا۔ نواب نے میرا مناسب علاج کروانے کی طرف توجہ نہ دی۔ مجھے اصطبل کے باہر لاوارث کھلا چھوڑ دیا گیا۔ میں سارا دن ایک درخت کے نیچے کھڑا رہتا۔ میرے زخمی سم میں کیڑا لگ گیا۔ میرا سارا بدن بیماری سے سوج گیا۔ میری ٹانگیں ٹیڑھی ہوگئیں۔ مجھ سے ایک قدم بھی چلنا مشکل تھا۔ میں قدم اٹھاتا تو میرا سارا جسم کانپنے لگتا۔

ایک سائیس، جو نواب کا ملازم تھا، مجھے ہر روز ترس بھری نگاہوں سے دیکھتا۔ وہ تھوڑا تھوڑا میرا خیال کرتا اور مجھے نواب سے چوری دوسرے گھوڑوں کا بچا کھچا کھانا دے دیتا۔ دراصل نواب نے مجھے مرنے کے لیے چھوڑ دیا تھا۔ وہ محض رحم کی وجہ سے مجھے گولی مارنے سے گریز کر رہا تھا۔ ایک دن نواب بڑے اچھے موڑ میں تھا۔ سائیس نے نواب سے کہا:

’’اگر آپ اجازت دیں تویہ گھوڑا میں لے لوں۔۔۔ مجھے لگتا ہے کہ میں اسے ٹھیک کر لوں گا۔۔۔!‘‘

نواب نے فوراً مجھے اس کے حوالے کر دیا۔ وہ تو پہلے ہی اپنی جان مجھ سے چھڑانا چاہتا تھا۔

سائیس نے سب سے پہلے میرے زخم خاص طور پر سم کو ٹھیک کرنے کے لیے ایک دوا تیار کی۔ دوا کو میرے سم پر لگا کر اوپر موٹا کپڑا باندھ دیا گیا۔ ایک ہفتے کے بعد کپڑا کھولا گیا۔ سائیس نے زخم کا معائنہ کیا، زخم ٹھیک ہونے لگا تھا۔ اس نے کئی ماہ اس دوا کا استعمال جاری رکھا۔ میرا سم نہ صرف ٹھیک ہو گیا بلکہ میں نے آہستہ آہستہ چلنا شروع کر دیا۔ پھر وہ مجھ پر سواری کرنے لگا۔ اس نے میری خوراک بھی بہتر کر دی۔ مجھے لگا جیسے میرے بدن میں طاقت واپس آرہی ہے۔ ایک دن اس نے مجھے کھلے میدان میں پہلے دلمی اور پھر تیز رفتار سے بھگایا۔

قریباً چھ ماہ میں مَیں بالکل تندرست ہو گیا۔ سائیس نے مجھے گھڑ دوڑ کی مشق کروانا شروع کر دی۔ وہ بہت خوش تھا۔ اس نے میرے بارے میں جو سوچا تھا، ویسا ہی ہوا۔ وہ صبح سویرے میرے پاس آتا اور خوشی سے مجھے بلاتا:

’’اوئے روشن، اس سال گھر دوڑ میں تم نے پہلا انعام لینا ہے۔۔۔‘‘ میں خوشی سے پچھلی ٹانگوں پر کھڑا ہو جاتا۔ میری ساری زندگی میں یہ پہلا موقع تھا جب مجھے قدر سے دیکھا گیا۔ کسی نے میرے رنگ اور جسم پر موجود دھبوں سے قطع نظر میری صلاحیتوں پر توجہ دی۔

آخرکار، سالانہ گھڑ دور آپہنچی۔ مجھے بھی میدان میں لا کر، ایک چکر لگوایا گیا۔ کسی نے میری طرف توجہ نہ دی۔ اس دوڑ میں بادشاہ کا گھوڑا سب سے پسندیدہ سمجھا جا رہا تھا۔ سب کا خیال تھا کہ وہ ضرور پہلی پوزیشن حاصل کرے گا۔ دوڑ شروع ہوئی۔ یہ میدان کے سات چکروں پر مشتمل دوڑ تھی۔ پہلے تین چکروں میں، مَیں سب سے آگے دوڑنے والے پانچ گھوڑوں میں شامل تھا۔ جیسے جیسے چکر ختم ہو رہے تھے، گھوڑوں میں دوڑنے کی قوّت کم سے کم ہوتی جا رہی تھی۔ آخری چکر میں، میں اور بادشاہ کا گھوڑا ساتھ ساتھ تھے۔ آخری چکر ختم ہونے والا تھا اور میں سر توڑ بھاگ رہا تھا۔ دوسرا گھوڑا صرف اپنی گردن سے میرے آگے تھا۔ میں نے سوچا کہ وہ جیت جائے گا۔ مگر پھر بھی میں نے اپنی کوشش جاری رکھی۔ فتح کے نشان پر پہنچے۔۔۔ میں اپنے سر کے آگے ہونے کی وجہ سے پہلے نمبر پر آگیا۔ تماشائیوں میں اک شور بلند ہوا۔ بادشاہ بھی دوڑ دیکھ رہا تھا۔ وہ اس قدر مایوس ہوا کہ فوراً میدان سے رخصت ہو گیا۔ اس کے لیے یہ برداشت کرنا مشکل تھا کہ اس کا گھوڑا ایک سائیس کے گھوڑے سے ہار جائے۔ میرا سائیس تو خوشی سے پاگل ہو گیا تھا۔ کبھی مجھے چومتا اور کبھی گلے لگاتا۔ اس دن نواب بھی میرے پاس آیا۔ وہ خاموش تھا۔ اس نے صرف میری گردن پر ایک تھپکی دی اور میدان سے چلا گیا۔

اس رات میں بہت خوش تھا اور مجھے اپنے آپ پر بڑ افخر محسوس ہو رہا تھا۔ خوشی سے مجھے نیند نہیں آرہی تھی۔ جسم بھی تھکاوٹ سے چور تھا۔ میں سوچتا رہا کہ اگر مجھے اپنے بچپن سے ہی اچھی تربیت دی جاتی، میرا خیال رکھا جاتا تو میں نجانے کتنی دوڑوں میں فتح حاصل کرتا۔ یہی سوچتے میں سو گیا۔

صبح ہونے میں ابھی کافی وقت تھا، میری نیند ٹوٹ گئی۔ میرے اسی سم میں شدید درد ہو رہا تھا، جس کا علاج سائیس نے کیا تھا۔ میں نے سوچا شاید دوڑ کی وجہ سے اس میں تکلیف ہو رہی ہے۔ مگر معاملہ بالکل اُلٹ نکلا۔ میرے سم میں پھر سوزش ہونے لگی۔ سائیس نے بہتیرا علاج کیا مگر کچھ نہ ہوا۔ صرف یہی ممکن ہو سکا کہ میں چلنے لگا، وہ بھی لنگڑا لنگڑا کر۔۔۔ میں بہت کمزور ہو گیا تھا۔ مجھے ایک بیوپاری کے پاس بیچ دیا گیا۔ وہ بیوپاری مجھے نہایت ادنیٰ قسم کی خوراک دیتا تھا۔ اس سے میں ہڈیوں کا ڈھانچہ ہی رہ گیا۔

بیوپاری نے مجھے ایک بوڑھی عورت کے پاس بیچ دیا۔ وہ بڑی ظالم عورت تھی۔ وہ مجھے گھوڑا گاڑی میں جوتتی اور گاڑی پر بیٹھتے ہی مجھ پر چابک برسانا شروع کر دیتی۔ اس عورت کا انتقال ہو گیا تو مجھے ایک پھیری والے کے پاس بیچ دیا گیا۔ یہ پھیری والا دیہاتوں میں پھرتا رہتا اور گھریلو استعمال کی اشیاء بیچتا تھا۔ پھر مجھے ایک کسان کے پاس فروخت کر دیا گیا۔ کسان مجھ لنگڑے سے سارا دن ہل چلواتا۔ مجھ سے ہل کھینچنا مشکل ہو جاتا۔ وہ مجھ پر ڈنڈے برساتا، میں تکلیف میں زمین پر گر پڑتا۔ کسان سے خانہ بدوشوں نے مجھے کچھ اناج کے بدلے خرید لیا۔ ان کے ساتھ زندگی بہت مشکل تھی۔ وہ سارا دن چلتے رہتے اور مجھ پر میری ہمت سے کہیں زیادہ بوجھ لاد دیا جاتا۔ میں ان کے قافلے کے ساتھ چل نہ سکتا اور کافی پیچھے رہ جاتا۔ وہ میری خوب دھنائی کرتے مگر پھر بھی اس کا کوئی فائد ہ نہ ہوتا۔ سچی بات یہ تھی کہ مجھ میں ہمت ہی نہ تھی۔ آخر تنگ آکر خانہ بدوش، مجھے گھوڑوں کی سالانہ منڈی میں بیچ آئے ۔ وہیں سے مجھے، اس اصطبل میں لایا گیا۔ سب گھوڑے خاموش تھے۔ اصطبل میں ہلکی سی بارش ہو رہی تھی۔

9

اگلی شام:

جونہی گھوڑوں کا ریوڑ اصطبل میں واپس پہنچا، اصطبل کے باہر، اصطبل کا مالک اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ کھڑا تھا۔ وہ مختلف گھوڑوں کی طرف اشارہ کر کے بات کر رہا تھا۔ بزرگ گھوڑیاں اور گھوڑے مالک سے کترا کر گزررہے تھے جبکہ چھوٹے الہڑ بچھڑے خواہ مخواہ ان لوگوں کے درمیان سے گزرتے ہوئے گرداڑا رہے تھے۔ مالک راستے سے ہٹ کر ایک اونچی جگہ پر کھڑا ہو گیا۔ اس کے مہمان بھی ساتھ تھے۔ مالک ہر گزرنے والے گھوڑے کی تعریف کرتا۔ اس کی نسل بتاتا اور پھر کارنامے گنوانا شروع کر دیتا۔ اس کے مہمانوں میں سے کچھ اس کی بات بڑی توجہ سے سن رہے تھے اور کچھ صرف دکھاوے کے لیے ’’ہوں‘‘ ، ’’ہاں‘‘ کر رہے تھے۔ اصل میں انھیں گھوڑوں سے کوئی دلچسپی ہی نہ تھی۔

سب سے آخر میں عالم ، روشن پر سوار نمودار ہوا۔ ایک مہمان کہنے لگا:

’’واہ کیسا شاندار گھوڑا ہے۔۔۔ اس کے جسم پر بنے ڈیزائن تو دیکھو۔۔۔ کیسی عالی شان آرائش، قدرت نے کی ہے۔۔۔ آپ کو یاد ہوگا میرے پاس بھی ایسا ہی ایک گھوڑا تھا۔۔۔ میں نے سائیس کو دے دیا تھا۔۔۔ میں تو اسے گولی مروا دینا چاہتا تھا مگر سائیس نے اسے بھلا چنگا کر دیا بلکہ اس نے سالانہ گھڑ دوڑ میں اول انعام حاصل کیا ۔۔۔ بادشاہ اس دوڑ کے بعد مجھ سے ناراض ہو گیا تھا۔۔۔‘‘

اصطبل کے مالک نے بات سنی اور صر ف’’ہوں‘‘ ، ’’ہاں‘‘ کر کے بات ختم کر دی۔ روشن نے اس شخص کو پہچان لیا ۔ یہ وہی نواب تھا، جس کی بگھی وہ دو سال چلاتا رہا تھا۔ روشن نے دھیرے سے ہنہنانے کی آواز نکالی اور ان لوگوں کے پاس سے گزر کر اصطبل میں داخل ہو گیا۔

اسی شام سارے مہمان اصطبل کے مالک کے گھر میں بیٹھے تھے۔ وہ ایک خوبصورت لان میں بیٹھے چائے پی رہے تھے۔ گفتگو بدستور گھوڑوں کے بارے میں ہو رہی تھی۔ ایک مہمان نے اپنے میزبان سے پوچھا:

’’آپ کے خیال میں سب سے اچھا گھوڑا کونسا ہے۔۔۔؟‘‘

’’میرے تجربے کے مطابق سب سے اچھا گھوڑا روشن ہے۔۔۔ اپنی جسامت ، دوڑنے کے انداز اور جسمانی قوّت کے اعتبار سے اس کا جواب نہیں۔۔۔ مگر سب سے بدقسمت بھی یہی ہے۔۔۔!!‘‘ مالک نے کہا۔

’’کیا میں اس پر سواری کر سکتا ہوں؟‘‘ مہمان نے فرمائش کی۔

’’سواری کر کے کیا کرو گے، اب تو یہ بوڑھا ہوچکا ہے۔۔۔‘‘ مالک نے جواب دیا۔

مہمان نے ضد کی تو روشن کو اصطبل سے منگوایا گیا۔ مہمان نے اصطبل کے ساتھ دریا کے ساتھ ساتھ پانچ چھ کلومیٹر کی سواری کی اور لوٹ آیا۔ لوٹتے ہی اس نے کھجلی سے تڑپنا شروع کر دیا۔

اگلی صبح گھوڑوں کے ڈاکٹرکو بلوایا گیا۔ اس نے روشن کا معائنہ کیا اورکہنے لگا:

’’ارے، اسے تو خارش کی بیماری لگ گئی ہے۔۔۔ اسے فوراً خانہ بدوشوں کے ہاتھ فروخت کر دینا چاہیے۔۔۔‘‘

’’کیا فائدہ، اس سے تو جان خلاصی کرلوتو اچھا ہے! ‘‘ اصطبل کے مالک نے کہا۔

10

وہ صبح خاصی پُرسکون تھی۔ اصطبل کے سارے گھوڑے دریا کے ساتھ کھلے میدان میں چلے گئے۔ روشن کو اصطبل میں ہی روک دیا گیا۔ ایک عجیب سا شخص اصطبل میں داخل ہوا۔ وہ دبلا پتلا تھا اوراس نے بہت گندے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ اس نے ایک لمبا سا کوٹ پہن رکھا تھا اور اس پر گہرے بھورے اور سیاہی مائل دھبے تھے۔ اس شخص کا چہرہ بالکل سپاٹ اور جذبات سے عاری تھا۔ اس نے روشن کو ایک سادہ سی رسی کی لگام ڈال کر کچھ قدم چلایا۔ اصطبل کے باہر کنویں تک آیا۔ روشن کنویں سے پانی پینا چاہتا تھا لیکن اس شخص نے روشن کو کھینچ کر ایک طرف کھڑا کر دیا۔ وہ کہنے لگا:

’’یہ تو اب کسی کام کا نہیں رہا۔۔۔!‘‘

اصطبل کا ایک ملازم اور وہ شخص ، روشن کو اصطبل سے باہر ایک ڈھلانی جگہ پر لے آئے۔ اس شخص نے کوٹ اتار ا اور ایک جھاڑی پر رکھ دیا۔ اس نے اپنی آستینیں چڑھا لیں۔ تھیلے سے ایک لمبا سا چھرا نکالا۔ چھرے کو ایک پتھر پر رگڑنے لگا۔ روشن چپ چاپ یہ سب دیکھ رہا تھا۔ اس کے قریب ایک درخت تھا، اس نے اپنی گردن لمبی کر کے درخت کی شاخ کو پکڑنے کی کوشش شروع کر دی۔ شاخ کو اس کا منہ چھو جاتا مگر وہ اسے منہ سے پکڑ نہ پاتا۔ پھر اس نے حسب معمول اپنی آنکھیں بند کر لیں۔ اس کے نیچے ہونٹ لٹک گئے۔ وہ مسلسل پتھر پر چھرا تیز کرنے کی آواز سن رہا تھا۔ اس آواز کے مسلسل آنے سے، روشن کو غنودگی سی ہونے لگی۔ اس کی سوجی ہوئی ٹانگ میں وقفے وقفے سے جھٹکے سے محسوس ہونے لگے۔ اس کے بدن پر ابھری ہوئی رگوں میں جھری جھری سی ہونے لگی۔ روشن کو محسوس ہوا جیسے کوئی اس کے قریب آیا ہے۔ اس نے غنودگی سے آنکھیں کھولیں۔ اس کے سامنے دو کتے کھڑے تھے۔ ایک کتا، چھرا تیز کرنے والے شخص کو سونگھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ دوسرا کتا، روشن کو اس طریقے سے دیکھ رہا تھا کہ جیسے اسے، اس سے کوئی کام ہو۔ روشن نے ان کتوں کو دیکھا اور اپنا منہ اصطبل کے ملازم کے ہاتھ سے ہولے ہولے سہلانا شروع کر دیا۔

’’شاید یہ لوگ میرا کوئی علاج وغیرہ کرنا چاہتے ہیں۔‘‘ روشن نے سوچا۔ روشن کو ملازم نے لیٹنے کا اشارہ کیا۔ روشن نے بڑی دقت کے ساتھ اپنی کمزور ٹانگوں کوتہہ کیا۔ بہت آہستگی کے ساتھ وہ بیٹھا اور پھر اپنی گردن ایک طرف لمبی کر کے لیٹ گیا۔ اصطبل کا ملازم اس کے منہ پر دونوں ہاتھ رکھ کے بیٹھ گیا۔ روشن نے آہستہ آہستہ پھر اپنا سر اس کے ہاتھوں کے ساتھ سہلانا شروع کر دیا۔

روشن کو محسوس ہوا۔۔۔ یہ لوگ اس کی گردن کے ساتھ کچھ کر رہے تھے۔ اس کے جسم میں جھرجھری سی ہوئی۔ اس نے اپنی ایک ٹانگ کو ایک طرف ٹھوکر لگانے کے انداز میں جھٹکا۔ پھر وہ انتظار کرنے لگا۔ معلوم نہیں اب کیا ہو گا؟ اس نے محسوس کیا کہ جیسے کوئی گرم سی چیز اس کی گردن پر بہنا شروع ہوگئی ہے۔ یہ زمین کی طرف بہی اور گردن پر بہتے ہوئے سینے تک بھی آئی۔ اس نے ٹھنڈی اور لمبی سانس لی۔ اسے بڑا سکون ملا۔ اس پر زندگی کابوجھ اترنا شروع ہو چکا تھا۔

روشن نے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔ اس کا سر زمین پرجھکنا شروع ہو گیا۔ ملازم کے ہاتھ، اب اس کے سر پر نہ تھے۔ اس نے اپنی ٹانگوں میں جھری جھری سی محسوس کی، جیسے ان میں سے کوئی بھاری چیز بڑی آہستگی سے نکل رہی ہو۔ اس چیز کے نکلتے ہی ٹانگوں میں اک راحت سی اترنے لگی۔ اس کے پورے بدن سے یہ بوجھ مسلسل نکلتا جا رہا تھا۔ بدن میں سکون اس طرح بھرتا جارہا تھا جیسے کسی پہاڑ پر بنی جھونپڑی میں بادل چلاآئے۔ بادل جھونپڑی کو اپنی گود میں بھر لے۔ روشن کو اس ساری کیفیت میں خوف کی بجائے ایک حیرانی سی محسوس ہو رہی تھی۔ یہ سب اس کے لیے نیا تھا۔ ایسا تجربہ اسے کبھی پہلے نہیں ہوا تھا۔

ایسا سکون اسے کبھی پہلے محسوس نہ ہوا تھا۔ اسے لگا جیسے وہ آہستہ آہستہ بادلوں کی طرح اوپر اٹھ رہا ہے۔ ہوا میں تیر رہا ہے۔۔۔ بہت ہولے ہولے ، ہوا کے جھونکے کی طرح۔۔۔ پھر اسے لگا جیسے وہ اوپر اٹھنے کے ساتھ ساتھ پھیلتاجا رہا ہے۔ اس کا جسم کہر کی دھند کی طرح، اپنا وزن اِدھر اُدھر بکھیر رہا ہے۔ اسے بڑا سکھ محسوس ہوا۔ اس کا دل چاہتا تھا کہ وہ بائیں طرف کروٹ لے لے۔۔۔ مگر اب وہ اپنے جسم کے بوجھ سے نجات حاصل کر چکا تھا۔۔۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments