سانحہ قصور اور گلگت بلتستان

گل نیاب شاہ کیسر

جس معاشرے میں تہذیب کا رونا سب سے زیادہ ہو اور طرز زیست سادگی کے سمندر میں غوطہ مارتا دکھائی دے، وہاں جرائم بھی اتنے ہی زیادہ ہوتے ہیں۔ تمدن اور عزت کے سیاہ بادل کے پیچھے پرورش پاتے  یہ جرائم انتہائی شکل اختیار کر لیتے ہیں اور پھر ایک مرحلہ ایسا بھی آجاتا ہے کہ یہ جرائم اظہار پر مجبور ہوجاتے ہیں اور روز روشن کی طرح معاشرے کی غلاظت لئے نمودار ہوجاتے ہیں۔

قصور کا واقعہ جہاں درندگی کے انتہائی سطح کی ضمانت ہے، وہی یہ اس معاشرے کی پسماندگی اور جنریشن گیپ کا بھی منہ بولتا ثبوت ہے۔ زینب کے ساتھ ہونے والی زیادتی پہلا واقعہ نہیں ہے، بلکہ ایسے واقعات روزمرہ کے حساب سے وہاں پیش آتے تھے جو کبھی کھل کر سامنے نہیں لائے گئے۔ یہ واقعات یا تو عزت اور غیرت کے پردے میں دب گئے یا پھر امیر شہر کے تیز دھار تیغ کی چمک کے سامنے بے سروسامان ہو کر رہ گئے۔

قصور کا گلگت بلتستان سے موازنہ کسی صورت ممکن نہیں، البتہ کچھ حقائق سے آگاہ رہنے کے لیے اور کچھ حفظ ماتقدم کی ضروریات کے پیش نظر، گلگت بلتستان کو ایک ہی تناظر میں دیکھا جاسکتا ہے۔

ہمارے معاشرے کا شمار بھی ان معاشروں میں ہوتا ہے جہاں صدیوں سے تہذیب و تمدن کی فصلیں لہلہاتی اور سادگی اور پردگی کے چڑیا چہچہاتے سانسوں کی تجارت میں مصروف عمل ہیں۔ جس کی وجہ سے بہت مرتبہ معاشرے کو تباہ کرنے والے عناصر غیرت کی دیواروں کے پیچھے پل کر توانائی حاصل کرتے ہیں۔ گلگت بلتستان میں بھی متعدد بار ایسے واقعات تاریخ کی صفات پرچھپ چکی ہیں اور کئی واقعات پولیس سٹیشن کے کورے کاغذوں پر بھی سیاہی بکھیرنے کا سبب بنے ہیں۔

اس سلسلے کی ایک کڑی 2014 میں پسش آنے والا واقعہ ہے جب ایک چھ سال کے معصوم بچے کو اغوا کیا گیا اور پھر زیادتی کے بعد اُسے قتل کر دیا گیا، اور پھر اس کی بوری بند نعش دریا کے کنارے سے برامد ہوئی۔ اس کے علاوہ شبیر سہام کے انکشاف سے بھی اسی گندگی کی بو آتی ہے۔

حال ہی میں ضلع غذر میں ایک واقعہ پیش آیا جہاں ایک 13 سالہ معصوم کے ساتھ زیادیی کی خبر نے با غیرت لوگوں کے ضمیر کو خوب جھنجھوڑا۔

اس بات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ منظر عام پر آنے والے یہ واقعات آٹے میں نمک کے برابر ہیں، لیکن غور طلب بات پس دیوار رونما ہونے والے واقعات کی ہے، جو وجود رکھتی ہیں، مگر ہماری نظروں سے اوجھل رہتے ہیں، یا پھر ہم جان بوجھ کر انہیں بتانے سے خائف رہتے ہیں۔

اب ہمیں غور کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ واقعات، بے شک نہ ہونے کے برابر ہی کیوں نہ ہوں، وجود رکھتی ہیں، اور ہمیں یہ بھی سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہمارے گلشن میں اس خار کے کھلنے کی وجہ آخر کیا ہے؟

ایک ایسا خطہ جہاں رشتہ تو بہت مقدس شے ہے، دوستی اور یاری پربھی لوگ جان قربان کرنے پر آمادہ ہوتے ہیں، وہ خطہ جو پاکستان بھر میں تعلیم، کھیل، ثقافت اور سیاحت کے شعبے میں اپنی مثال آپ ہے، ایسے علاقے کو شوبھا نہیں دیتا کہ وہاں اس طرح کے ناسور جنم لیں۔

حقائق سے منہ چھپانا سب سے بڑا المیہ ہے اور سب سے بڑی کمزوری بھی۔ کھیلوں کے میدانوں سے لے کر ثقافتی میلوں تک کتنے ہی لوگ ہمارے معاشرے میں نظر آتے ہیں جو ہوس کے پجاری ہیں، جن کا شیوہ چرس اور سگریٹ نوشی اور شراب نوشی کے سوا کچھ نہیں ہوتا ، اور جو ہماری نوجوان نسلوں کو بھی راہ راست سے ہٹانے میں میں مصروف عمل رہتے ہیں۔

گلگت بلتستان کا شاید ہی کوئی ایسا حصہ ہو جہاں ہمارے مقدس ثقافتی رشتوں کو پامال نہ کیا جا رہا ہو۔ کسی خوش گفتار اور پرکشش نئی نسل کے بندے کی معاشرے میں آمد عذاب بن جاتی ہے۔

منٹو نے فرمایا تھا ‘ہم عورت اسی کو سمجھتے ہیں جو ہمارے گھر کی ہو، باقی ہمارے لیے کویی عورت نہیں ہوتی جنس کی دکان ہوتی ہے اور ہم اس دکان کے باہر کھڑے کتوں کی طرح ہوتے ہیں جن کی ہوس زدہ نظر ہمیشہ گوشت پر ٹکی رہتی ہے’۔۔

اور آج یہ دستور مرد اور عورت کے فرق کو مٹاتے ہویے عام ہوچکی۔

اس سارے منظر نامے میں رنگ بھرنے میں انٹرنیٹ کا تذکرہ بھی لازم ہے۔ کیوں کہ آگاہی کے بغیر انٹرنیٹ کا استمعال وبا کی طرح پھیل رہا ہے، جس نے جہاں ایک مخصوص طبقے کو شعوری طور پر بیدار کرنے اور جدیدیت کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرانۓ میں اہم کردار ادا کیا ہے وہی اس نے بگڑی طبقے کو اور بگاڑنے میں بھی مرکزی کردار ادا کیا ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ والدیں بچوں کو وہ ماحول دیں کہ بچوں کو کوئی بھی بات کرنے میں ہچکچاہٹ نہ ہو اور وہ اپنے والدین کو ہر بات سے اگاہ کر سکیں۔ اس کے علاوہ سول سوساییٹیز اور معاشرتی تنظیموں کا بھی یہ فرض بنتا ہے کہ وہ ان تلخ حقایق کے خلاف مہم کا آغاز کریں تاکہ آنے والی نسل  صحت مند زندگی گزار سکے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ انفرادی طور پر ہر ایک کی زمہ داری ہے کہ جہاں یہ جرم اور غلاظت ہوتا دیکھے، خاموشی توڑ دیں۔

پھر وہی بات نہ ہو جو ابرک صاحب نے کہی تھی کہ

حق کی آواز اٹھانے پہ بھی شرمندہ ہے
آج ہم مرد بھی عورت کی طرح زندہ ہے

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments