گلگت بلتستان سے نفرت اور مسلک کی سیاست کو ختم کردیا ہے، وزیر اعلی کا دعوی

شگر(عابدشگری) وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے گلگت بلتستان سے نفرت اور مسلک کی سایست کو ختم کردیا اور علاقے میں امن ہماری حکومت کی مرہون منت ہے ۔ آج گلگت بلتستان میں کہی حالات خراب نہیں۔ سابقہ دور میں گلگت کے امن کو پارہ پارہ کردیا گیا تھا۔ ہماری پارٹی کو ملک کوترقی کی راہ پر گامزن کرنے کی سزا دی جارہی ہے، جوکہ ایک المیہ ہے۔ہمارے قائد جیل میں ہیں۔ مگر انشاء اللہ اسی ماہ نواز شریف جیل سے رہا ہونگے اور اگلے مہینے وہ گلگت بلتستان میں ہونگے۔ہم قائد کے حکم پر اور وژن کے مطابق سیاست سے روایتی کلچر کو ختم کرکے رواداری اور برداشت کی سیاست کو فروغ دے رہے ہیں۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار محکمہ زراعت کے زیر اہتمام زرعی نمائش کے موقع پر عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نےمزید کہا کہ شگر ایک زرعی علاقہ ہے یہاں زراعت کے وسیع مواقع موجود ہے۔ گلگت بلتستان کی عوام کو دوسروں پر انحصار کرنا چھوڑنا ہوگا۔مقامی زراعت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔صوبائی حکومت زراعت کی فروغ کیلئے اقدامات کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایفاد پروجیکٹ کے تحت گلگت بلتستان میں اس سال ایک لاکھ کنال رقبہ آباد کیا ہے ضلع شگر اور نگر کو بھی ایفاد پروجیکٹ میں شامل کیا ہے جس کے تحت کھیت سے منڈی تک رسائی کیساتھ بنجر زمینوں کو آباد کرنے کیلئے اقدامات کررہے ہیں۔انکا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت صرف گندم کی سبسڈی کی مد میں چار ارب روپے اداکررہی ہے۔ اگر ہم گندم خود تیار کریں تو صوبہ خود کفیل ہوگا اور فنڈز بچ جائیں گے۔اور اس فنڈز کو ترقیاتی کاموں پر خرچ کرسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہصوبائی حکومت نے تمام اضلاع میں موبائل ہسپتال قائم کردیا جس میں صحت کی تمام سہولیات موجود ہے۔آئندہ سال سے لائیو سٹاک موبائل ڈسپنسری کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔انہوں نے اعلان کیا آئندہ چند ماہ میں شگر کی ہرگاؤں میں محکمہ صحت کی کی مراکز بنائیں گے۔جبکہ کوئی بھی گاؤں پینے کی صاف پانی سے محروم نہیں رہے گا۔انہوں نے محکمہ زراعت شگر کیلئے خصوصی طور ڈیڑھ کڑور روپے کی فنڈز کا علان کیا جبکہ شگر کیلئے خصوصی طور تمام پوسٹوں کو جلد کریٹ کیا جائے گا۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments