ڈیم چندہ اور میری اماں جان: ایک دردناک اپیل

تحریر: امیرجان حقانی

میرانام امیرجان حقانی ہے۔پوسٹ گریجویٹ کالج گلگت میں بطور لیکچرار خدمات انجام دے رہاہوں اور اخبارات میں کالم بھی لکھتاہوں۔

میری والدہ گزشتہ پانچ سال سے سخت علیل ہے۔اگر میں اس علالت کو بستر مرگ سے تشبیہ دوں تو غلط نہ ہوگا۔

میری والدہ کو ’’پارکنسن‘‘ نام کا کوئی مرض لاحق ہے۔ اس مرض کی تشخیص اولاً، ڈاکٹر پروفیسر خلیق الزمان صدیقی(ہیڈ : پمز اسلام آباد) نے 2012ء میں کیا۔ ثانیاً پروفیسر ڈاکٹر مظہربادشاہ(پمز) نے2014میں کیا۔اور بھی درجنوں ڈاکٹروں اور اطباء و عاملوں نے تشخیصات کی۔میں نےاپنی بساط اور حیثیت کے مطابق ہر ممکن علاج کرایا لیکن مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔

میری امی جان کا پورا جسم شل ہے۔دونوں ہاتھ، بازو اور پاوں تھر تھر کانپتے ہیں، لیکن کانپنے کی مقدار زیادہ نہیں۔جسم مفلوج سا ہوگیا ہے فالج نہیں لیکن فالج زدہ سی ہوگئی ہے۔جسم سکڑرہاہے روز بروز، اپنی کروٹ تک نہیں بدل سکتی۔ ہاتھ سے روٹی کا لقمہ تک نہیں اٹھا سکتی۔اٹھ کر بیٹھ نہیں سکتی۔کمر کے ساتھ لگا تکیہ ٹھیک نہیں کرسکتی۔ باتھ روم تک نہیں جاسکتی۔

میں وزیراعظم اور اسکی ٹیم سے ایک اپیل کرنے جارہا ہوں۔

وزیراعظم اور اسکی ٹیم بیرون ملک کسی اچھے ہسپتال میں علاج کا بندوبست کرے۔ میں پندرہ سال تک کی تنخواہ ،سرکارکے ساتھ تحریری معاہدہ کرکے ڈیم فنڈ میں دیتا ہوں۔جو کہ دو کروڈ سے زیادہ بنتی ہے۔ اور اپنے حصے کی منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد بھی آج ہی ڈیم فنڈ میں جمع کرواتا ہوں۔واللہ! اس کے ساتھ اپنا ایک گردہ بھی بیچ کرڈیم فنڈ میں جمع کروالونگا۔ کیونکہ مجھے میری والدہ عزیز ہے۔سرکار کا کیا جائے گا کیونکہ اس نے کسی انٹرنیشنل رفاہی طبی ادارے کو ایک ریکوسٹ کرنی ہوگی۔خان صاحب کا ایک خط کافی ہوگا۔میرا کام بھی ہوگا اور تمہارا بھی۔ دونوں کے لیے سودا مہنگا نہیں۔ تو ہے کوئی جو اس سودا کو قبول کرے؟خدا گواہ ہے میں سریس ہوں۔کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہوں۔سوائے کلمہ کفر کے کچھ بھی کرگزرنے کے لیے تیار ہوں۔روتے ہوئے لکھ رہاہوں۔ شاید آپ میرے درد اور دکھ کو محسوس نہ کرسکیں۔لیکن سچ یہی ہے جو کہہ رہا ہوں۔تو

احباب کیا کہتے ہیں؟

03462974626

03555604599

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments