اصلی چہرہ 

تحریر : ایمان شاہ 

شہریار خٹک نامی کاروباری شخصیت کے گھر گورنر گلگت بلتستان میر غضنفر علی خان ، ممبر قانون ساز اسمبلی عتیقہ غضنفر اور سابق ممبر قانون ساز اسمبلی میر سلیم خان کی ملاقات کی خفیہ ویڈیو منظر عام پر آگئی ہے ، ایک گھنٹے اور 10منٹ دورانیے پر محیط اس خفیہ ریکارڈنگ میں شہریار خٹک نامی کاروباری شخصیت ( جس کا تعلق قبائلی علاقے سے بتایا جاتا ہے ) پاک فوج اور حساس اداروں کے خلاف نہ صرف نازیبا الفاظ استعمال کرتے ہوئے سنائی اور دکھائی دیتا ہے بلکہ گورنر گلگت بلتستان کو اس بات کی ترغیب بھی دے رہا ہے کہ وہ ریاست پاکستان کے اداروں سے سودا طے کرنے کیلئے چین کے ساتھ الحاق کرنے کی دھمکی بھی دے ، ہنزہ علی آباد میں پانچ ہزار سے زائد کا اجتماع پاک فوج کیلئے درد سر بن جائیگا اور آپ ( میر غضنفر علی خان ) کیلئے پانچ ہزار کا اجتماع اکھٹا کرنا کوئی مشکل کام نہیں کیونکہ 8جون 2015کے انتخابات میں آپ ( میر غضنفر علی خان ) کو 10ہزار سے زائد ووٹ پڑے ہیں ، شہریار خٹک نامی شخص کے گھر میں ہونے والی گفتگو میں شریک تینوں شخصیات ( میر غضنفر ، عتیقہ غضنفر اور شہریار خٹک ) اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ میر فیملی کو آپس میں لڑانے اور تقسیم کرنے کیلئے ایف سی این اے کا کردار ہے اور فورس کمانڈر گلگت بلتستان میجر جنرل ثاقب محمود ملک ، کرنل عاطف ( آئی ایس آئی ) اور کرنل راؤ ( ایم آئی ) کا بطور خاص ذکر کرتے ہوئے بعض اوقات ناقابل اشاعت الفاظ استعمال کرتے نظر آتے ہیں ،

آگے بڑھنے سے قبل شہریار خٹک کی گلگت بلتستان بالخصوص سی پیک کے لئے گیٹ وے کا درجہ رکھنے والے ضلع ہنزہ میں جاری سرگرمیوں کو سمجھنا بہت ضروری ہے ، شہریار خٹک دربار ہوٹل کریم آباد میں پرنس سلمان خان کے بزنس پارٹنر ہیں جبکہ ہنزہ ایمبیسی ہوٹلز میں بھی شراکت داری کی مصدقہ اطلاعات ہیں ، کریم آباد کے گنجان علاقے میں گیسٹ ہاؤس بنانے کیلئے سرگرم تھے کہ علاقے کے عوام بالخصوص خواتین کے احتجاج اور مزاحمت کی وجہ سے محلے کے اندر گیسٹ ہاؤس بنانے میں کامیاب نہ ہو سکے ، شہریار خٹک اور ٹیم کی ہر ممکن کوشش یہی ہے کہ ہنزہ میں فحاشی کو فروغ دیا جا سکے جس کیلئے دربار ہوٹل میں جاری بعض پر اسرار سرگرمیوں کے بارے میں سامنے آنے والی اطلاعات اور رپورٹس چونکا دینے والی ہیں ، شہریار خٹک کاروبار کے بہانے ہنزہ میں گھس چکے ہیں اور یہ بات قابل غور ہے کہ ہنزہ کے عوام میں بے چینی پھیلائے بغیر سی پیک جیسا منصوبہ اتنی آسانی کے ساتھ سبوتاژکرنا آسان نہیں ۔۔۔۔

اب ذرا دوبارہ خفیہ ریکارڈنگ میں سامنے آنے والی گفتگو کا ذکر ہوجائے ، میر خاندان کے درمیان صلح کی کوششوں کیلئے رکھی گئی اس نشست جس کا اہتمام شہریار خٹک نے کیا تھا میں گورنر گلگت بلتستان کو اس بات کی ترغیب دینے کی نوبت یا ضرورت کیوں پیش آئی کہ میر غضنفرہنزہ کا الحاق چین کے ساتھ کرنے کی دھمکی دے اور علی آباد میں ہزاروں کا اجتماع کرکے پاک فوج کو واضح پیغام دے کہ عوامی طاقت میرے ساتھ ہے اور اگر یہ دونوں کام سر انجام دینے میں( میر غضنفر علی خان) کامیاب ہو گئے تو پھرمقتدر حلقے آپ کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوجائینگے ، اس غلیظ اور بیہودہ گفتگو کے دوران گورنر گلگت بلتستان شہریار خٹک کی تجاویز ، مشوروں اور ہدایات کو نہ صرف غور سے سنتے ہیں بلکہ بعض نکات پر تائید کرتے نظر آتے ہیں جبکہ عتیقہ غضنفر بھر پور اور پر جوش دکھائی دیتی ہیں ، ایک گھنٹے 10منٹ کی بیٹھک یا ملاقات میں فیملی امور سلجھانے پر کم جبکہ پاک فوج کو نیچا دکھانے اور ریاست پاکستان سے بغاوت کرنے کی تراکیب پر زیادہ وقت صرف ہوا ہے ،جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعض طاقتیں سی پیک کو ناکام بنانے کیلئے ہر قسم کے حربے اور ہتھکنڈے استعمال کررہی ہیں اور گورنر گلگت بلتستان کے ساتھ شہریار خٹک کی ہونے والی گفتگو ان حربوں میں سے ایک حربہ نظر آتا ہے ، خفیہ ریکارڈنگ کے علاوہ گورنر گلگت بلتستان کی چند خواتین ( گلگت بلتستان سے تعلق نہیں ) کے ساتھ قابل اعتراض تصاویر بھی میرے پاس موجود ہیں اور ان تصاویر کا بالواسطہ یا بلا واسطہ تعلق بھی شہریار خٹک سے ہے جس کا سیدھا سادھا مطلب یہی ہے کہ گورنر گلگت بلتستان کو قابو کرنے کیلئے بہت سارے دیگر فارمولے بھی استعمال ہو سکتے ہیں ۔۔۔۔

اب ذرا سوشل میڈیا پر روزنامہ اوصاف میں شائع ہونے والی خبر پر رد عمل کا ذکر ہوجائے تو عرض کرتا چلوں کہ شہریار خٹک جیسے غیر ملکی ایجنٹوں کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کیلئے ہنزہ سے ہی تعلق رکھنے والے بعض افراد گزشتہ تین سالوں سے سرگرم عمل ہیں ، درجن کے قریب ان افراد کے ذمے یہ کام لگایا گیا ہے کہ وہ ہنزہ، ہنزہ کے عوام ، ہنزہ کے نوجوانوں اورہنزہ میں کام کرنے والے امامتی اداروں ، کاروباری شخصیات سمیت اچھے کردار کے حامل سیاستدانوں پر کیچڑ اچھالتے رہیں ، ہنزہ میں ہونے والی کسی بھی مثبت سرگرمی کو اجاگر نہ کرتے ہوئے چوبیس گھنٹے اس تگ و دو میں رہا جائے کہ ہنزہ کے بارے میں کوئی منفی خبر سامنے آجائے اور بھر پور طریقے سے ایسی منفی خبروں کو سامنے لاتے ہوئے عوام بالخصوص نوجوانوں میں مایوسی پھیلائی جائے تاکہ نوجوان نسل مذہب ، اپنے عقائد ، عوامی فلاح و بہبود کیلئے کام کرنے والے اداروں سمیت سول سوسائٹی سے متنفر ہوکر تشدد کے راستے کو اپنائیں ، ہنزہ میں ایک مرتبہ پھر آگ و خون کا کھیل کھیلا جا سکے جس کا عملی مظاہرہ 11اگست 2011کو سانحہ علی آباد کی صورت سامنے آچکا ہے اور آج بھی درجنوں نوجوان ناکردہ گناہوں کی سزا بھگت رہے ہیں اورپابند سلاسل ہیں جبکہ سوشل میڈیا پر شہریار خٹک کیلئے کام کرنے والے ایجنٹوں کو اس بات کا اندازہ ہی نہیں کہ ان اسیروں کے خاندانوں کو کس اذیت اور کرب سے گزرنا پڑ رہا ہے ، رہی بات مجھے دھمکیاں دینے اور ہراساں کرنے کیلئے استعمال ہونے والی ہتھکنڈوں کی تو میں عرض کرتا چلوں کہ میں جان ہتھیلی پر رکھ کر چلتا ہوں ، میں نے اپنے علاقے میں رہ کر ہر قسم کے حالات ( اچھے یا برے ) کا مقابلہ کیا ہے ، میں ہزاروں میل دور کسی غیر ملک میں بیٹھ کر ہنزہ کے عوام کو گمراہ کرنے والوں میں شامل نہیں ہوں اور منفی سوچ رکھنے والے ایسے لوگوں کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ ہنزہ کے عوام ایسے ایجنٹوں کو پہچان چکے ہیں کیونکہ بہت سوں کے چہرے سے نقاب اٹھ چکا ہے، عزائم واضح ہو چکے ہیں اور اصلی چہرہ سامنے آگیا ہے اور اصلی چہرہ یہی ہے کہ چند ٹکوں کی خاطر دھرتی ماں کا سودا کرتے رہنا۔۔۔

آخری بات ۔۔۔۔ میں پاک فوج اور حساس اداروں سے گزارش کرونگا کہ وہ شہریار خٹک اور میر فیملی کی اس سازش کے اصل محرکات کو سامنے لائیں ، سامنے آنے والی خفیہ ریکارڈنگ کا فرانزک کرائیں ، جعلی ثابت ہونے پر میں ہاتھ جوڑ کر تمام اداروں اور میر خاندان سے معافی کا خواستگار ہونگا بصورت دیگر گفتگو میں شامل تمام افراد کے خلاف آرٹیکل 6( غداری ) کا مقدمہ قائم کرکے قرار واقعی سزا دیں تاکہ آئندہ کوئی بھی پاک فوج اور ریاستی اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی اور پاکستان کے خلاف سازش کرنے کی ہمت ہی نہ کر سکے ۔۔۔۔۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments